30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱۳؎ بھاری قدم بہادری ثابت قدمی اور عبادت میں طاقت کی دلیل ہیں،پتلے دبلے قدم کمزوروں کی علامت ہے،یوں ہی تلوے اندر کو دھنسے ہونا حسن کے خلاف ہے کہ زمین پر صرف کنارہ قدم لگے باقی الگ رہیں پورا قدم زمین کو لگے، بھرے قدم ہوں یہ حسن ہے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے قدم شریف ایسے ہی تھے۔اعلٰی حضرت قدس سرہ فرماتے ہیں۔شعر
دل کرو ٹھنڈا مرا وہ کف پا چاند سا سینہ پہ رکھ دو ذرا تم پہ کروڑوں درود
۱۴؎ یعنی آپ کا حسن کما حقہٗ میں بیان نہیں کرسکتا بس اتنا سمجھ لو کہ میری آنکھوں نے نہ آپ سے پہلے حسین دیکھا نہ آپ کے بعد۔حضرت انس کی آنکھ تو کیا دیکھتی جناب جبرئیل امین کی آنکھوں نے ایسا نہ دیکھا۔شعر
معراج میں جبرئیل سے کہنے لگے شآہِ امم تم نے تو دیکھے ہیں بہت بتلاؤ تو کیسے ہیں ہم
روح الامین کہنے لگے اے مہ جبین تیری قسم آفاقہا گردیدہ ام مہر بتاں درزیدہ ام
بسیار خوباں دیدم ام لیکن تو چیزے دیگری
۱۵؎ کشادہ ہتھیلی علامت ہے جودوسخا کی حضور جیسا سخی پیدا نہ ہوا نہ ہوگا۔عرب کہتے ہیں عبدالکف بخیل و سبط الکف جواد تنگ ہتھیلی والا کنجوس ہوتا ہے،وسیع ہتھیلی والا سخی داتا۔
۱۶؎ خیال رہے کہ حضور انور کے دستِ مبارک قدم شریف تھے تو بھاری مگر کھال مبارک نہایت نرم تھی جیساکہ روایت میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اعضاء ریشم سے بھی زیادہ نرم تھے۔نرمی اور چیز ہے بھاری ہونا کچھ اور یہ بھی خیال رہے کہ ہاتھ پاؤں بھاری ہونا مردوں میں ہنر ہے عورتوں میں عیب ہے کیونکہ مردوں کے مضبوط اعضاء بہادری کی علامت ہیں عورتوں کے اعضاء نازک چاہئیں۔(مرقات)
|
5783 -[8] (مُتَّفق عَلَيْهِ) وَعَنِ الْبَرَّاءِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرْبُوعًا بَعِيدَ مَا بَيْنَ الْمَنْكِبَيْنِ لَهُ شَعْرٌ بَلَغَ شَحْمَةَ أُذُنَيْهِ رَأَيْتُهُ فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ لَمْ أَرَ شَيْئًا قَطُّ أَحْسَنَ مِنْهُ. وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ قَالَ: مَا رَأَيْتُ مِنْ ذِي لِمَّةٍ أَحْسَنَ فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَعْرُهُ يَضْرِبُ مَنْكِبَيْهِ بَعِيدٌ مَا بَيْنَ الْمَنْكِبَيْنِ لَيْسَ بِالطَّوِيلِ وَلَا بِالْقَصِيرِ |
روایت ہے حضرت براء سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم درمیانہ قد تھے ۱؎ دو کندھوں کے درمیان فاصلے والے۲؎ آپ کے بال آپ کے کانوں کی گدیوں تک تھے۳؎ میں نے آپ کو سرخ جوڑے میں دیکھا آپ سے اچھا میں نے کبھی کوئی نہ دیکھا ۴؎ (مسلم،بخاری)اور مسلم کی روایت میں ہے کہ فرمایا میں نے زلفوں ۵؎ والا سرخ جوڑا پہنے کوئی ایسا حسین نہ دیکھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ حسین ہو آپ کے بال آپ کے کندھوں کو چھوتے تھے ۶؎ دوکندھوں کے درمیان فاصلہ والے نہ تو دراز قد تھے نہ پستہ قد ۷؎ |
۱؎ یہ فرمان ترکیبی ہے یعنی قریبًا درمیانہ تھے کیونکہ حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم قدرے طویل قد تھے جیساکہ پہلے عرض کیا گیا۔(مرقات)
۲؎ دوکندھوں میں فاصلہ جب ہی زیادہ ہوگا جب کہ سینہ چوڑا ہو،حضور کا سینہ مبارک بہت کشادہ تھا۔چوڑا سینہ شجاعت و سخاوت، دل کی وسعت کی علامت ہے،اس سے دل کی وسعت کا پتہ لگتا ہے جس کا دل وسیع ہو وہ کینہ،غصہ،بغض و حسد سے پاک ہوتا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع