30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۲۰)اسامہ ابن زید: آپ اسامہ ابن زید ابن حارثہ ہیں،قبیلہ بنی قضاعہ سے ہیں،آپ کی ماں کا نام برکت ہے،کنیت ام ایمن حضور کی دودھ کی والدہ وہ آپ کے والد جناب عبدالله کی لونڈی تھیں اور اسامہ حضور کے غلام اور غلام زادے تھے کہ زید ابن حارثہ بھی حضور کے غلام تھے،اسامہ اور زید حضور کے بڑے پیارے تھے،حضور کی وفات کے وقت اسامہ بیس سال کے تھے،حضرت عثمان کی شہادت کے بعد آپ وادی قرالی میں رہے وہیں وصال ہوا،بعض نے کہا کہ آپ کی وفات ۵۴ چون میں ہوئی،ابن عبدالبر کہتے ہیں کہ یہ ہی قوی ہے۔
(۲۱)ابی ابن کعب: آپ انصاری خزرجی ہیں،کاتب وحی تھے آپ ان چھ صحابہ میں سے ہیں جنہوں نے زمانہ نبوی میں قرآن مجید حفظ کیا اور ان فقہاء صحابہ میں سے ہیں جو زمانہ نبوی میں فتویٰ دیتے تھے صحابہ میں بڑے قاری تھے۔حضور انور نے آپ کی کنیت ابوالمنذر رکھی تھی اور عمر فاروق نے ابو الطفیل،حضور انور نے آپ کو خطاب دیا سید انصار،عمر فاروق نے خطاب دیا سید المسلین کا،آپ نے مدینہ منورہ میں ۱۹ھ انیس ہجری میں وفات پائی یعنی خلافت فاروقی میں۔
(۲۲)اسامہ ابن شریک: آپ ذیبانی ثعلبی ہیں،کوفہ میں آپ کی احادیث زیادہ مشہور ہوئیں۔
(۲۳)افلح: آپ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے یا ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہما کے غلام ہیں آزادکردہ۔
(۲۴)ایفع ابن ناکور: آپ ذوالکلاع کے نام سے مشہور ہیں،یمن کے رہنے والے ہیں،اپنی قوم کے سردار تھے،جب ایمان لائے تب نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے آپ کو خط لکھا کہ اسود عنسی کے مقابلہ میں ہماری مدد کرو،جنگ صفین میں امیر معاویہ کے ساتھ تھے اسی جنگ میں شہید ہوئے،آپ کو اشتر نخعی نے قتل کیا ۳۷ھ میں۔
(۲۵)انجشہ: آپ حبشی غلام تھے،حضور انور کی خدمت میں رہتے تھے،بڑے خوش آواز حدی خواں تھے،ایک بار آپ سے ہی حضور انور نے فرمایا تھا کہ اے انجشہ اپنی حدی یعنی گیت بندکردو میرے ساتھی کچی شیشیاں ہیں،آپ سے چند صحابہ نے روایات لیں۔
(۲۶)ابو امامہ باہلی: آپ ابو امامہ صدی ابن عجلان باہلی ہیں،اولًا مصر میں حمص میں رہے وہاں ہی وفات پائی،آپ شام کے آخری صحابی ہیں کہ آپ کی وفات سے زمین شام صحابہ سے خالی ہوئی، ۹۱ھ اکیانوے میں آپ کی وفات ہوئی۔
(۲۷)ابو امامہ انصاری: آپ کا نام سعد ابن سہیل ابن حنیف ہے،انصاری اوسی ہیں مگر اپنی کنیت سے مشہور ہوئے۔ حضور انور کی وفات سے دو سال پہلے پیدا ہوئے،حضور نے آپ کا نام سعد اور کنیت ابو امامہ رکھی،حضور سے کچھ سن نہ سکے کہ بہت چھوٹے تھے اس لیے بعض محدثین نے آپ کو تابعی کہا ہے،آپ مدینہ منورہ کے بڑے علماء میں سے تھے، اپنے والد اور ابو سعید خدری وغیرہ صحابہ کے صحبت یافتہ ہیں،بانوے سال عمر ہوئی، ۱۰۰ھ میں وفات پائی۔
(۲۸)ابو ایوب انصاری: آپ کا نام خالد ابن زید ہے،آپ انصاری خزرجی ہیں،تمام جنگوں میں حضرت علی رضی الله عنہ کے ساتھ رہے،آپ کی وفات قسطنطنیہ میں ہوئی جسے اب استنبول کہتے ہیں، ۵۱ھ میں آپ کی وفات ہے امیر معاویہ کے زمانہ میں جب یزید ابن معاویہ کی سرکردگی میں قسطنطنیہ پر حملہ کیا گیا تو آپ اس لشکر میں تھے بیمار ہوگئے جب مرض زیادہ ہوا تو وصیت کی کہ جب میں وفات پاجاؤں تو میری میت اپنے ساتھ رکھنا،جب تم دشمن کے مقابل صف آرا ہو تو مجھے اپنے قدموں کے نیچے دفن کرنا چنانچہ ایسا ہی کیا گیا آپ کی قبر قسطنطنیہ کے شہر پناہ کے پاس ہے اب تک مشہور ہے۔اس قبر کا اب تک بہت ہی احترا م ہے لوگ آپ کی قبر کی برکت سے شفا حاصل کرتے ہیں انہیں شفا ملتی ہے،آپ سے بہت حضرات نے احادیث روایت کی ہیں۔خیال رہے کہ آپ ہی مدینہ منورہ ہیں حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے پہلے میزبان ہیں۔(مترجم)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع