30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۲؎ اس آیت کے دو مطلب ہوسکتے ہیں: تم لوگ الله کے علم میں بہترین امت تھے تمہارا انتخاب پہلے ہی ہوچکاتھا یا یہ کہ تم بہترین امت ہو۔حق یہ ہے کہ اس میں خطاب ساری امت رسول الله صلی الله علیہ و سلم سے ہے کہ اس امت میں اگرچہ گنہگار بھی ہیں مگر چونکہ ان کو حضور صلی الله علیہ و سلم سے نسبت ہے اس لیے اس خیریت میں وہ بھی داخل ہیں،موتی کیچڑ میں سن کر بھی موتی رہتا ہے بشرطیکہ حضور سے وابستہ رہیں۔
۳؎ ستر سے مراد یا بیان زیادتی ہے جیسے اردو میں لفظ بیسیوں،یا ستر کا عدد مراد ہے یعنی دنیا میں بڑی بڑی امتیں ستر گزریں۔خیال رہے کہ بعض انبیاء کرام ایسے گزرے جن کا کوئی امتی نہ بنا نہ کوئی ان پر ایمان نہ لایا،بعض پر صرف ایک آدمی ایمان لایا،بعض پر دو چار،بعض پر کچھ اور زیادہ مگر جن نبیوں پر بڑی جماعتیں ایمان لائیں جنہیں امت کثیر کہا جاوے وہ کل ستر ہیں انہتّر ہم سے پہلے ستر کا عدد امت رسول الله نے پورا کیا۔
۴؎ یعنی جیسے حضور صلی الله علیہ و سلم تمام نبیوں سے افضل ہیں یوں ہی آپ کی امت تمام امتوں سے افضل بلکہ حضور کے صحابہ تمام نبیوں کے اصحاب سے افضل،حضور انور کے اہل بیت تمام نبیوں کے اہل بیت سے افضل بلکہ حضور انور کا مکہ،مدینہ منورہ دوسرے نبیوں کی بستیوں سے افضل،حضور کی ازواج پاک تمام نبیوں کی ازواج سے افضل غرضکہ افضلیت حضور کے دم قدم سے وابستہ ہیں۔
الحمدﷲ! کہ مرآت شرح مشکوٰۃ دو رمضان المبارک ۱۳۷۸ھ پنجشنبہ کو شروع ہوکر آج اکیس رمضان ۱۳۸۸ھ پنجشنبہ کے دن دس بجے دوپہر کو ختم ہوئی،آج اس گنہگار نے حضرت علی مشکل کشا شیر خدا،جناب فاطمہ زہرا،عائشہ صدیقہ،خدیجۃ الکبریٰ، شہداء بدر رضوان الله علیہم اجمعین کا عرس کرکے مرآت کو ختم کیا،ان تمام حضرات کی وفات و شہادت ماہ رمضان ہی میں ہے،رب تعالٰی قبول فرماوے اور اسے میرے لیے کفارہ سیئات وصدقہ جاریہ بنائے۔جو صاحب اس سے فائدہ اٹھائیں وہ مجھ گنہگار کی مغفرت کی دعا کریں کہ اسی لالچ میں میں نے یہ محنت کی ہے۔شعر
اے کہ برمامی روی دامن کشاں از سر اخلاص الحمد سے بخواں
و صلی الله تعالٰی علی حبیبہٖ سیدنا محمد وآلہٖ واصحابہٖ اجمعین برحمتہٖ وھو الرحم الرحمین !
احمد یار خاں نعیمی اشرفی،مقیم گجرات(مغربی پاکستان)
۲۱ رمضان المبارک ۱۳۸۸ھ ۱۲، دسمبر ۱۹۶۸ء
احادیث مبارکہ کی اقسام اور تعریفیں
(ا)مرفوع: وہ حدیث جسکی اسناد نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچے اور صحابی کہے نبی کریم نے فرمایا۔
(۲)موقوف: وہ حدیث جسکی اسناد صحابی تک پہنچے جیسے راوی کہے کہ فلاں صحابی نے یہ فرمایا۔
(۳)مقطوع: وہ حدیث جسکی اسناد تابعی تک پہنچے جیسے امام اعظم فرمائیں کہ صحابی نے فرمایا۔
(۴)اثر: وہ حدیث جو کسی طریقے سے حضور سے منقول ہو۔
(۵)خبر: وہ حدیث جس میں نبی کریم صحابہ اور تابعین سے روایت ہو اور تاریخی واقعہ ہو۔
(۶)حدیث: وہ کلام جسکی روایت نبی کریم یا صحابہ یا تابعین سے ہو اور کسی عمل کا ذکر ہو۔
(۷)مرسل: وہ حدیث جسکی اسناد میں صحابی کا ذکر رہ جائے تابعی کہے یہ حضور نے فرمایا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع