دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 8 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ہشتم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ہشتم

5782 -[7] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ بِالطَّوِيلِ الْبَائِنِ وَلَا بِالْقَصِيرِ وَلَيْسَ بِالْأَبْيَضِ الْأَمْهَقِ وَلَا بِالْآدَمِ وَلَيْسَ بِالْجَعْدِ الْقَطَطِ وَلَا بِالسَّبْطِ بَعَثَهُ اللَّهُ عَلَى رَأْسِ أَرْبَعِينَ سَنَةً فَأَقَامَ بِمَكَّةَ عَشْرَ سِنِينَ وبالمدينة عشر سِنِين وتوفَّاه الله على رَأس سِتِّينَ سَنَةً وَلَيْسَ فِي رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ عِشْرُونَ شَعْرَةً بَيْضَاءَ وَفِي رِوَايَةٍ يَصِفُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: كَانَ رَبْعَةً مِنَ الْقَوْمِ لَيْسَ بِالطَّوِيلِ وَلَا بِالْقَصِيرِ أَزْهَرَ اللَّوْنِ. وَقَالَ: كَانَ شَعْرُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَنْصَافِ أُذُنَيْهِ وَفِي رِوَايَةٍ: بَيْنَ أُذُنَيْهِ وَعَاتِقِهِ. وَفِي رِوَايَةٍ لِلْبُخَارِيِّ قَالَ: كَانَ ضَخْمَ الرَّأْسِ وَالْقَدَمَيْنِ لَمْ أَرَ بَعْدَهُ وَلَا قَبْلَهُ مِثْلَهُ وَكَانَ سَبْطَ الكفَّينِ.وَفِي أُخْرَى لَهُ قَالَ:كَانَ شئن الْقَدَمَيْنِ وَالْكَفَّيْنِ

روایت ہے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ تو بہت دراز قد تھے ۱؎ اور نہ بالکل پست قد۲؎ اور نہ خالص سفید رنگ تھے ۳؎ اور نہ گندمی رنگ نہ تو چھلے دار بالوں والے تھے اور نہ بالکل سیدھے بال والے۴؎ اللہ نے انہیں نبی بھیجا سرے پر چالیس سال کی عمر شریف کے ۵؎ مکہ میں دس سال رہے اور مدینہ میں دس سال ۶؎ اللہ نے آپ کو وفات دی ساٹھ سال کے کنارے پر۷؎ اس وقت آپ کے سر اور داڑھی میں بیس بال بھی سفید نہ تھے ۸؎ اور ایک روایت میں انس رضی اللہ عنہ حضور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حلیہ شریف بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ آپ قوم میں درمیانہ قد تھے نہ بہت دراز اور نہ پست قد ۹؎ چمکدار رنگت۱۰؎  اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال شریف آپ کے آدھے کانوں تک تھے اور ایک روایت میں ہے کہ آپ کے کانوں اور کندھوں کے درمیان تھے ۱۱؎ (مسلم،بخاری)اور بخاری کی روایت میں ہے کہ انس نے کہا کہ حضور بھاری سر۱۲؎  اور بھاری قدم والے تھے۱۳؎ میں نے آپ جیسا حسین نہ آپ کے بعد دیکھا نہ آپ سے پہلے۱۴؎ آپ کشادہ ہتھیلی تھے۱۵؎ بخاری کی دوسری روایت میں ہے کہ حضور بھاری قدم بھاری ہاتھوں والے تھے ۱۶؎

۱؎ بائن بنا ہے بون سے بمعنی دوری اسی سے ہے طلاق بائنہ،یہاں بائن سے مراد ہے بہت زیادتی جو حد اعتدال سے دور ہو یعنی حضور انور اتنے دراز قد نہ تھے کہ حد اعتدال سے دور ہوں۔

۲؎ اس عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور انور مائل بہ درازی تھے کیونکہ طویل کے ساتھ بائن کی قید بیان ہوئی اور قصیر مطلق بغیر قید کے فرمایا۔

۳؎ بلکہ آپ کا رنگ شریف سفید مائل بہ سرخی تھا یا سرخی پیلا ہوا سفید جو کہ بہت ہی حسین ہوتا ہے۔

۴؎ یعنی حضور کے بال شریف نہ تو حبشہ والوں کی طرح بالکل چھلے دارمٹھے ہوئے تھے نہ بالکل سیدھے بلکہ بال سیدھے کناروں پر خم دار تھے ایسے بال بہت حسین معلوم ہوتے ہیں۔

۵؎ سرے سے مراد آخری کنارہ ہے۔حضور انور کی نبوت کا ظہور چالیس سال کی عمر شریف میں ہوا جب آپ کا سنہ شریف پورے چالیس سال کا ہوچکا تھا۔

۶؎ تمام کا اس پر اتفاق ہے کہ حضور انور کی نبوت کا ظہور چالیس سال کی عمر شریف میں ہوا،اس پر بھی سب متفق ہیں کہ بعد ہجرت مدینہ منورہ میں قیام دس سال رہا مگر اس میں اختلاف ہے کہ ظہور نبوت کے بعد ہجرت سے پہلے مکہ معظمہ میں کتنا قیام رہا دس سال،تیرہ سال،پندرہ سال۔قوی یہ ہے کہ تیرہ سال قیام رہا لہذا عمر شریف کل تریسٹھ سال ہوئی ساٹھ یا پینسٹھ سال نہیں یہاں دس سال والی روایت ہے۔

۷؎ مرقات نے یہاں فرمایا کہ ساٹھ والی روایت میں دہائی لی گئی ہے تین جو کسر تھی وہ چھوڑ دی گئی اور پینسٹھ سال والی روایت میں ولادت اور وفات کے سال شامل کرلیے گئے ہیں ورنہ عمر شریف تریسٹھ سال ہے اور یہ دونوں روایات اس کے خلاف نہیں۔

۸؎ بعض روایات میں ہے کہ سر مبارک داڑھی شریف اور ریش بچی سب میں ملاکر بیس بال سفید تھے،بعض میں ہے کہ کل چودہ بال سفید تھے،یہ روایت چودہ بالوں والی ہے شمار میں اختلاف ہوسکتا ہے،اس روایت میں ہے کہ سر مبارک میں چودہ بال سفید تھے،داڑھی شریف میں پانچ بال اور ریش بچی میں ایک بال سفید۔

۹؎ پہلے گزر چکا کہ حضور انور درمیانہ قد تھے مائل بہ درازی یہ قد بہت حسین ہوتا ہے۔

۱۰؎ رنگت سفید جس میں سرخی پلائی ہوئی اور وہ جگمگاتی ہوتی تھی یہ حسن کی انتہا ہے۔

جس سے تاریک دل جگمگانے لگے                            اس چمک دار رنگت پہ لاکھوں سلام

۱۱؎ بالوں کی درازی میں چار روایتیں ہیں: نصف کان تک،کانوں کی گدیوں تک،کانوں اور کندھوں کے درمیانی تک، کندھوں تک،ان میں تعارض نہیں کبھی تابگوش کبھی تابدوش مختلف اوقات میں مختلف حالات تھے۔حضور انور بال کٹواتے تھے اور سواء حج وعمرہ کے کبھی منڈواتے نہیں تھے۔

۱۲؎ چھوٹا سر کم عقلی کی علامت ہوتی ہے اور بہت بڑا سرحسین نہیں ہوتا درمیان سر قدرے بڑا بہت حسین ہے وہ ہی یہاں مراد ہے۔شعر

ہر چہ اسباب جمال است رخ خوب ترا                     ہمہ بروجہ کمال است کما لایخفی               (۱شعہ)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن