30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۳؎ جید بنا ہے جودۃ سے بمعنی اچھی،کھری جو تم کو دین و دنیا میں بہت ہی نافع ہو۔
۴؎ آپ کے یہ کلمات اپنی تعریف نہیں بلکہ الله کی نعمتوں کا اقرارہے یعنی رب تعالٰی نے ہم کو ایسی نعمتوں سے مالا مال فرمایا اس کا شکر ہے اس نے ہم کو ایمان،اسلام،جہاد،صحابیت،حضور کے دیدار سے مشرف فرمایا۔
۵؎ یعنی تم کو الله تعالٰی نے صحابیت،دیدار جمال یار وغیرہ نعمتوں سے مشرف فرمایا ہے تو ان لوگوں کو اس نعمت سے مالا مال کرے گا کہ وہ مجھے بغیر دیکھے مجھ پر ایمان لائیں گے،مجھ پر جان و مال فدا کریں گے،دین کی بڑی خدمات انجام دیں گے،فتنوں میں گھرے ہوں گے مگر دین پر قائم رہیں گے،اس خاص نعمت میں وہ تم سے بڑھ جائیں گے۔خیال رہے کہ یہ جزوی فضیلت ہے مطقًا فضیلت صحابہ کرام ہی کو حاصل ہے۔
|
6292 -[10] وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا فَسَدَ أَهْلُ الشَّامِ فَلَا خَيْرَ فِيكُمْ وَلَا يَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي مَنْصُورِينَ لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَذَلَهُمْ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ» قَالَ ابْنُ الْمَدِينِيِّ: هُمْ أَصْحَابُ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ |
روایت ہے معاذ ابن قرہ سے ۱؎ وہ اپنے والد سے راوی فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ جب شام والے بگڑ جائیں گے تو تم میں بھلائی نہ ہوگی۲؎ اور میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ فتح مند رہے گا انہیں نقصان نہ پہنچاسکے گا وہ جو انہیں رسوا کرے حتی کہ قیامت قائم ہوجاوے۳؎ ابن مدینی کہتے ہیں کہ وہ حدیث والے حضرات ہیں۴؎ (ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث حسن بھی ہے صحیح بھی ۵؎ |
۱؎ آپ تابعی ہیں،جنگ جمل کے دن پیدا ہوئے اور ۱۱۳ ایک سو تیرہ میں وفات پائی،آپ کی کنیت ابو ایاس ہے، بصری ہیں،آپ کے والد قرہ ابن ایاس قرنی ہیں۔
۲؎ یہ واقعہ قریب قیامت ہوگا۔شام ابدال کا مرکز ہے وہاں آخر تک ایمان رہے گا،جب وہاں کفر چھا جائے اور کوئی مؤمن نہ رہے تو سمجھو کہ شام کے ابدال ختم ہوگئے اور دنیا اولیاء الله سے خالی ہوگئی،دنیا کا اولیاء الله سے خالی ہونا قیامت کی آمدت ہے۔چنانچہ جب قیامت آوے گی تو روئے زمین پر کوئی الله الله کہنے والا نہ ہوگا۔خیال رہے کہ اس وقت مدینہ منورہ ویران ہوچکا ہوگا وہاں کوئی آبادی نہ ہوگی،روضہ انور کی حفاظت جنگلی جانور کرتے رہیں گے لہذا حدیث پاک پر یہ اعتراض نہیں کہ اس سے لازم آتا ہے کہ مدینہ منورہ پہلے ہی بگڑ چکا ہوگا وہاں کفروشرک پھیل چکا ہوگا۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ امیر معاویہ اور ان کے ساتھی فاسد یعنی کافر بلکہ فاسق العقیدہ نہ تھے ورنہ اس وقت ہی قیامت آجاتی کیونکہ امیر معاویہ کا دارالخلافہ دمشق تھا،امیر معاویہ کی سلطنت پر شام والے متفق تھے یزید پلید کی حکومت پر اہل شام بھی متفق نہ تھے۔
۳؎ اس فرمان عالی کی شرح ابھی کچھ پہلے گزر چکی کہ حضور کی امت میں ایک جماعت تاقیامت حق پر رہے گی حضور کی ساری امت گمراہ نہ ہوگی اور وہ جماعت حقہ ان شاءالله غالب رہے گی،کوئی ان کو فنا نہ کرسکے گا وہ حضرات اپنے مقصد میں یعنی دین اسلام کو باقی رکھنے میں ہمیشہ کامیاب رہیں گے۔
۴؎ حدیث والوں سے مراد آج کل کے وہابی نہیں جو اپنے کو اہلِ حدیث کہتے ہیں ان بیچاروں کو نہ حدیث کی خبر ہے نہ ان کا حدیث پر عمل،نہ انہوں نے فن حدیث کی کوئی خدمت کی،ان بیچاروں کو تو یہ بھی خبر نہیں کہ سنت اور حدیث میں کیا فرق
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع