30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۳؎ یعنی میری امت کے آخری لوگ اگرچہ میرے صحابہ کے سے اعمال نہیں کرسکیں گے مگر اجروثواب میرے صحابہ کا سا پائیں گے۔خیال رہے کہ ثواب اور چیز ہے درجہ اور مرتبہ کچھ اور ہے،ہوسکتا ہے کہ کسی کا ثواب حضرات صحابہ کے برابر ہوجاوے مگر کسی کا درجہ ان کے برابر نہیں ہوسکتا اگر بادشاہ کسی سپاہی کو وزیر کے برابر یا وزیر سے زیادہ انعام دے دے تو سپاہی کا عہدہ وزیر کے برابر نہیں ہوسکتا۔
۴؎ یہ اس فرمان عالی کی وجہ ہے یعنی جو فتنے روافض خوارج وہابیوں مرزائیوں وغیرہم کے ہوں ان فتنوں کا مقابلہ وہ ہی لوگ کریں گے اس لیے ان کو ثواب حضرات صحابہ کا سا ملے گا۔خیال رہے کہ قتال یعنی جہاد تلوار سے بھی ہوتا ہے،قلم سے بھی زبان سے بھی یہاں قتال ان سب کو شامل ہے،اسی طرح اچھی باتوں کا حکم بری باتوں سے روکنا بھی تلوار سے،قلم سے زبان سے عمل سے ہر طرح سے ہوتا ہے یہ فرمان ان سب کو بھی شامل ہے۔
|
6290 -[8] وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:«طُوبَى لِمَنْ رَآنِي[وَآمَنَ بِي]وَطُوبَى لِمَنْ لَمْ يَرَنِي وَآمَنَ بِي» . رَوَاهُ أَحْمد |
روایت ہے حضرت ابو امامہ سے کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ خوشخبری ہو اسے جس نے مجھے دیکھا اور سات بار خوشخبری ہو اسے جس نے مجھے نہ دیکھا اور مجھ پر ایمان لایا ۱؎ (احمد) |
۱؎ یہاں لفظ سبع یعنی سات تحدیدوحد بندی کے لیے نہیں بلکہ بیان کثرت کے لیے ہے یعنی بے شمار برکتیں خوشخبریاں ان لوگوں کو ہوں جو مجھ پر ایمان لائیں گے مگر مجھے بغیر دیکھے ہوئے صرف اور صرف میرا نام سن کر مجھ پر فدا ہوں گے۔یہ حدیث بخاری نے اپنی تاریخ میں ابن حبان نے اپنی صحیح میں حاکم نے مستدرک میں بروایت حضرت ابو امامہ روایت کی۔
|
6291 -[9] وَعَن أبي مُحَيْرِيزٍ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي جُمُعَةَ رَجُلٌ مِنَ الصَّحَابَةِ: حَدِّثْنَا حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ: نَعَمْ أُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا جَيِّدًا تَغَدَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ. أَحَدٌ خَيْرٌ منَّا؟ أسلمْنا وَجَاهَدْنَا مَعَكَ. قَالَ: «نَعَمْ قَوْمٌ يَكُونُونَ مِنْ بَعْدِكُمْ يُؤْمِنُونَ بِي وَلَمْ يَرَوْنِي» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالدَّارِمِيُّ وَرَوَى رَزِينٌ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ مِنْ قَوْلِهِ: قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ. أَحَدٌ خَيْرٌ مِنَّا إِلى آخِره |
روایت ہے ابن محیریز سے۱؎ فرماتے ہیں میں نے ابو جمعہ سے کہا۲؎ (جو ایک صحابی ہیں)کہ ہم کو ایسی حدیث سنائیے جو آپ نے رسول الله صلی الله علیہ و سلم سے سنی ہو فرمایا ہاں میں تم کو ایک کھری حدیث سناتا ہوں۳؎ ہم نے رسول الله صلی الله علیہ و سلم کے ساتھ ناشتہ کیا ہمارے ساتھ ابو عبیدہ ابن جراح بھی تھے انہوں نے عرض کیا یارسول الله کیا کوئی ہم سے بہتر ہے ہم اسلام لائے ہم نے آپ کے ساتھ جہاد کیا۴؎ فرمایا ہاں وہ لوگ جو تمہارے بعد ہوں گے مجھے دیکھا نہ ہوگا اور مجھ پر ایمان لائیں گے ۵؎ (احمد،دارمی)اور رزین نے ابوعبیدہ سے روایت کی ان کے اس قول سے کہ عرض کیا یارسول الله کیا کوئی ہم سے اچھا ہے آخر تک۔ |
۱؎ آپ کا نام عبدالله ہے،ابومحیریز کنیت ہے،تابعی ہیں،بہت ہی متقی پرہیزگار تھے۔(اشعہ)
۲؎ ابو جمعہ کے نام شریف میں اختلاف ہے ان کا نام یا تو حبیب ابن سباع ہے یا جنید ابن سباع صحابی ہیں،آخر میں شام میں قیام رہا۔(مرقات)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع