30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۳؎ یعنی باغ کے پھل جس بہار میں بھی کھاؤ لذت وہی ہوگی،میرے اسلام و احکام کے پھل تاقیامت جب بھی کھاؤ لذت و رحمت وہ ہی ہوگی،نیز ہر زمانہ میں علماء اولیاء،مجاہدین شہداء ہوتے رہیں گے یہ قرآن اورہماری ذات کریم یہ نعمتیں تاقیامت تقسیم کرتے رہیں گے اور دنیا ان سے فیوض پاتی رہے گی۔
۴؎ یعنی ممکن ہے کہ ایک باغ سے اگلی فوج کے مقابلہ میں آخری فوج زیادہ کھائے اور اس باغ کے پھلوں سے مختلف قسم کے رس شربت عرق وغیرہ تیار کرے اور لوگوں کو مختلف طریقوں سے استعمال کرائے اسی طرح ہوسکتا ہے کہ میری امت کے آخری لوگ اس قرآن کی گہرائیوں میں زیادہ جائیں اس سے طرح طرح کے رس تیار کریں۔ دیکھ لو کہ علم حدیث،اسماء الرجال، فقہ،اصول فقہ،تفسیر،شریعت اور طریقت کے چار چار سلسلے بعد ہی میں علماء کرام نے اسی قرآن و حدیث سے تیاری کیے یہ ہے اس پیش گوئی کا ظہور،اس زبان کا ہر لفظ لوہے کا خط ہوتا ہے اس کے باوجود افضلیت مطلقًا صحابہ کرام ہی کو حاصل ہے۔
۵؎ اگرچہ حضرت مسیح اور امام مہدی ایک ہی زمانہ میں ہوں گے مگر چونکہ عیسیٰ علیہ السلام کی وفات امام مہدی کے بعد ہوگی امام مہدی پہلے وفات پائیں گی اس لیے امام مہدی کو وسط اور حضرت مسیح کو آخر فرمایا۔
۶؎ یعنی میرے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام و امام مہدی کے درمیان ٹیڑھی اور بے دین جماعتیں بھی ہوں گی جیسے مرزائی،چکڑالوی،وہابی بہائی وغیرہم میں ان سے بیزار ہوں وہ میرے نہیں میں ان کا نہیں،جو حضور کا نہ ہو وہ رب کا بھی نہیں ہوتا۔شعر
ان کےدر کا جوہواخلق خدا اس کی ہوئی ان کے در سے جو پھرا الله اس سے پھر گیا
|
6288 -[6] وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيُّ الْخَلْقِ أَعْجَبُ إِلَيْكُمْ إِيمَانًا؟» قَالُوا: فالنبيون قَالَ: «ومالهم لَا يُؤْمِنُونَ وَالْوَحْيُ يَنْزِلُ عَلَيْهِمْ؟» قَالُوا: فَنَحْنُ. قَالَ: «ومالكم لَا تُؤْمِنُونَ وَأَنَا بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ؟» قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِن أَعْجَبَ الْخَلْقِ إِلَيَّ إِيمَانًا لَقَوْمٌ يَكُونُونَ مِنْ بَعْدِي يَجِدُونَ صُحُفًا فِيهَا كِتَابٌ يُؤْمِنُونَ بِمَا فِيهَا» |
روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ تمہارے نزدیک مخلوق میں کون زیادہ پیارے ایمان والا ہے ۱؎ عرض کیا فرشتے فرمایا وہ کیوں ایمان نہ لائیں وہ تو اپنے رب کے پاس ہیں۲؎ بولے تو نبی حضرات،فرمایا وہ حضرات کیوں ایمان نہ لائیں ان پر تو وحی اترتی ہے۳؎ لوگوں نے عرض کیا کہ تو ہم،فرمایا تم کیوں ایمان نہ لاؤ میں تو تمہارے درمیان ہوں۴؎ فرماتے ہیں کہ پھر رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ مجھے ساری مخلوق میں پیاری ایمان والی وہ قوم ہے جو میرے بعد ہوگی وہ لوگ صحیفے پائیں گے جن میں وہ کتاب ہوگی وہ کتاب کی ہر چیز پر ایمان لائیں گے ۵؎ |
۱؎ خلق سے مراد سارے اہلِ ایمان ہیں خواہ فرشتے ہوں یا جنات یا انسان یعنی ان سارے مؤمنوں میں زیادہ قابلِ قدر کس کا ایمان ہے،یہاں افضلیت کا ذکر نہیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع