30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سکتی،وہ حضرات اسلام کی صف اول کے مقتدی ہیں جو امام المرسلین کو دیکھتے حضور کی سنتے ہیں،بعد کے لوگ پچھلی صفوں کے ہیں جو امام کی حرکات و کلام ان حضرات کے ذریعہ جانتے مانتے ہیں۔
۲؎ باھلہ میں ب عوض کی یعنی تمنا کریں گے کہ ہماری جان مال اولاد سب کچھ فدا ہوجاوے مگر ایک نظارہ جمال جہاں آراء کا میسر ہوجاوے،آج مدینہ منورہ کی گلیاں دیکھنے کے لیے کیسے کیسے جتن کرتے ہیں مگر بعض کو میسر نہیں ہوتی۔
|
6285 -[3] (مُتَّفق عَلَيْهِ) وَعَن مُعَاوِيَة قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا يَزَالُ مِنْ أُمَّتِي أُمَّةٌ قَائِمَةٌ بِأَمْرِ اللَّهِ لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَذَلَهُمْ وَلَا مَنْ خَالَفَهُمْ حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ وَهُمْ عَلَى ذَلِكَ».وَذُكِرَ حَدِيثُ أَنَسٍ «إِنَّ مِنْ عِبَادِ الله» فِي «كتاب الْقصاص» |
روایت ہے حضرت معاویہ سے فرماتے ہیں میں نے نبی صلی الله علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ میری امت میں ایک جماعت الله کے حکم پر قائم رہے گی انہیں وہ نقصان نہ دیں گے جو انہیں رسوا کریں ۱؎ نہ وہ جو ان کی مخالفت کریں حتی کہ الله کا حکم آوے گا ۲؎ حالانکہ وہ اس حال پر ہوں گے۳؎ (مسلم،بخاری) اور حضرت انس کی حدیث ان من عباد الله قصاص کے بیان میں ذکر کردی گئی۴؎ |
۱؎ گزشتہ امتیں اپنے نبی کے کچھ عرصہ بعد ساری کی ساری گمراہ ہوجاتی تھیں یہ حضور انور کی خصوصیت ہے کہ تاقیامت آپ کی امت ساری گمراہ نہیں ہوگی بلکہ ایک فرقہ حق پر ضرور رہے گا اور اس حق والے فرقہ میں حق گو علماء مشائخ پیدا ہوتے رہیں گے۔
۲؎ یعنی کوئی دنیاوی طاقت والا انہیں اپنی طاقت سے نقصان نہیں پہنچاسکے گا اگر ساری قوم بھی مخالف ہوجائے تو ان کا کچھ نہ بگاڑ سکے گی،ان کے پائے استقلال میں جنبش نہ آئے گی،ان کا مشن ناکام نہ ہوگا،دیکھ لو حضرت حسین کے مقابل ساری یزیدی طاغوتی طاقت آگئی مگر ان کا کچھ نہ بگاڑ سکی۔شہادت اور تکلیف اور چیز ہے ناکامی کچھ اور لہذا حدیث واضح ہے۔بعض محدثین فقہاء علماء اولیاء الله شہید ہوگئے مگر اپنا کام کرتے رہے۔حدیث کا یہ مطلب نہیں کہ کوئی انہیں تکلیف یا نقصان نہ پہنچا سکے گا مطلب وہ ہی ہے جو عرض کیا گیا۔امر الله سے مراد قیامت ہے،قیامت سے مراد قرب قیامت ہے جب تک کہ اسلام موجود ہے لہذا یہ حدیث اس فرمان عالی کے خلاف نہیں کہ قیامت جب آئے گی تو اس وقت دنیا میں کوئی الله الله کہنے والا نہ ہوگا۔
۳؎ اس گروہ سے مراد علماء محدثین فقہاء غازیان اسلام اور استقلال والے مؤمنین سب ہی ہیں۔
۴؎ یعنی مصابیح میں وہ حدیث اس جگہ تھی ہم نے مناسبت کے لحاظ سے وہاں بیان کردی ہے یعنی الله کے بعض بندے وہ ہیں کہ اگر الله تعالٰی پر قسم کھالیں تو وہ ان کی قسم پوری فرمادے۔
|
6286 -[4] عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَثَلُ أُمَّتِي مَثَلُ الْمَطَرِ لَا يُدْرَى أَوَّلُهُ خَيْرٌ أَمْ آخِرُهُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ |
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے میری امت کی مثل اس بارش کی سی ہے کہ خبر نہیں کہ اگلی خیر ہے یا پچھلی ۱؎ (ترمذی) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع