30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۵؎ اولیاء الله دو قسم کے ہیں:تشریعی ولی اور تکوینی ولی۔تشریعی ولی یعنی الله سے قرب رکھنے والے اولیاء حضور کی امت میں بے شمار ہیں جہاں چالیس صالح مسلمان جمع ہوں وہاں ایک دو ولی ضرورہوتے ہیں مگر تکوینی ولی جو دنیا کے انتظام کرتے ہیں یہاں کے سیاہ و سفید کے مالک ہوتے ہیں ان کی قسمیں بہت ہیں ہر قسم کی تعداد جداگانہ ہے۔چنانچہ ہمیشہ امت رسول میں تین سو ولی حضرت آدم کے قلب پر،چالیس ولی موسیٰ علیہ السلام کے قلب پر،سات ولی حضرت ابراہیم کے قلب پر،پانچ ولی حضرت جبریل کے قلب پر اور تین ولی حضرت میکائیل کے قلب پر،ایک ولی حضرت اسرافیل کے قلب پر۔جب یہ ایک فوت ہوجاتا ہے تو ان تین میں سے ایک اس کی جگہ لگا دیا جاتا ہے اور پانچ میں سے ایک ان تین اور سات میں سے ایک ان پانچ میں اور چالیس میں سے ایک ان سات میں اور تین سو میں سے ایک ان چالیس اور کسی صالح مسلمان کو ان تین سو میں شامل کرکے یہ تعداد پوری کردی جاتی ہے غرضکہ یہ مذکور تعداد پوری رہتی ہے۔چالیس ابدال کا یہاں ذکر ہے ایک قطب اور سات اوتاد،پانچ امنا وغیرہ وہ یہ ہی ہیں۔خیال رہے کہ ان اولیاء میں کوئی قلب محمد رسول الله پر نہیں ہوتا کیونکہ قلب مصطفی ایسا بے مثال ہے کہ عالم امر عالم امکان عالم اجسام کسی جگہ اس کی مثل ہوسکتا ہی نہیں کسی ولی کا قلب حضور جیسا نہیں ہوسکتا۔حضور کے زمانہ پاک میں قطب حضرت اویس قرنی کے چچا عصام فخری کو کہا جاتا ہے۔والله اعلم!(مرقات)
۶؎ صوفیاء فرماتے ہیں کہ جو شخص یا جو اسلامی فوج چہل ابدال کو اپنی پشت کی طرف لے کر کفار سے مناظرہ یا ان پر حملہ کرے ان شاءالله کامیاب ہوگا ان کی سمتیں تاریخ وار ہماری کتاب الوظائف میں مطالعہ کرو۔
۷؎ اس فرمان عالی سے معلوم ہوا کہ اولیاء الله کا وسیلہ برحق ہے الله اچھوں کے صدقے بروں کی مشکلیں حل کردیتا ہے اور ان سے مصیبتیں ٹال دیتا ہے۔خیال رہے کہ جن چالیس ولیوں کا یہاں ذکر ہے انہیں ابدال کہتے ہیں کیونکہ ان کے مقامات ان جگہ بدلتی رہتی ہے کبھی مشرق میں کبھی مغرب میں کبھی جنوب میں کبھی شمال میں مگر ان کا ہیڈ کواٹر شام ہے۔
|
6278 -[31] وَعَنْ رَجُلٍ مِنَ الصَّحَابَةِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:"سَتُفْتَحُ الشَّامُ فإِذا خُيِّرْتم المنازلَ فِيهَا فَعَلَيْكُم بِمَدِينَة يُقَال لَهُ دِمَشْقُ فَإِنَّهَا مَعْقِلُ الْمُسْلِمِينَ مِنَ الْمَلَاحِمِ وَفُسْطَاطُهَا مِنْهَا أَرْضٌ يُقَالُ لَهَا: الْغُوطَةُ ". رَوَاهُمَا أَحْمَدُ |
روایت ہے ایک صحابی سے کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا عنقریب شام فتح ہوگا ۱؎ تو جب تم اس میں کوئی منزل کا اختیار دیئے جاؤ تو اس شہر کو اختیار کرنا جسے دمشق کہا جاتا ہے ۲؎ کہ وہ جگہ مسلمانوں کی پناہ ہے لڑائیوں سے اور سامان کا خیمہ۳؎ اس میں وہ زمین ہے جسے غوطہ کہا جاتا ہے۴؎ دونوں حدیثیں احمد نے روایت کیں۔ |
۱؎ چنانچہ خلافت صدیقی میں شام فتح ہونے کی ابتداء ہوئی اور خلافت فاروقی میں وہ مکمل فتح ہوا حضور کی یہ پیش گوئی بالکل درست ہوئی۔
۲؎ یعنی اگر تم اس زمانہ میں کسی وجہ سے حجاز کا علاقہ چھوڑو دوسرے کسی علاقہ میں رہائش اختیار کرو تو شام کی رہائش اختیار کرنا خصوصًا اس کے شہر دمشق کی۔
۳؎ یعنی شام خصوصًا دمشق کا علاقہ مسلمانوں کی پناہ گاہ ہوگا۔فسطاط بڑے شہر کو بھی کہتے ہیں اور خیمہ کو بھی یہاں دونوں معنی درست ہیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع