30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۶؎ غدر جمع ہے غدیر کی بمعنی تالاب یعنی یمن کے تالابوں سے خود بھی پانی پینا اور اپنے جانوروں کو بھی پانی پلانا کہ وہاں کا پانی بھی برکت والا ہوگا یا یہ مطلب ہے کہ کوئی کسی کو وہاں کے تالابوں کے پانی سے نہ روکے اس پر سب کا حق ہوگا۔اس سے معلوم ہوا کہ الله تعالٰی کے مقبول بندوں کے قریب کا پانی بھی برکت والا ہو جاتا ہے۔حضرت خضر علیہ السلام کے قریب والا پانی آبِ حیات ہے جہاں بھنی ہوئی مچھلی زندہ ہوگئی،رب فرماتاہے:"فَاتَّخَذَ سَبِیۡلَہٗ فِی الْبَحْرِ سَرَبًا"۔
۷؎ یعنی رب تعالٰی نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے کہ اس زمانہ میں ہم شام والوں کو محفوظ رکھیں گے۔الله تعالٰی ان کی جان کو بھی ان کے ایمان کو بھی اس علاقہ کو اس وقت کفار کے شر سے بچائے گا۔
|
6277 -[12] عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ قَالَ: ذُكِرَ أَهْلُ الشَّام عِنْد عليٍّ [رَضِي الله عَنهُ] وَقِيلَ الْعَنْهُمْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَالَ: لَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الْأَبْدَالُ يَكُونُونَ بِالشَّامِ وَهُمْ أَرْبَعُونَ رَجُلًا كُلَّمَا مَاتَ رَجُلٌ أَبْدَلَ اللَّهُ مَكَانَهُ رَجُلًا يُسْقَى بِهِمُ الْغَيْثُ وَيُنْتَصَرُ بِهِمْ عَلَى الأعداءِ وَيصرف عَن أهل الشَّام بهم الْعَذَاب» |
روایت ہے حضرت شریح ابن عبید ۱؎ سے فرماتے ہیں کہ حضرت علی کے پاس شام والوں کا ذکر ہوا اور عرض کیا گیا اے امیر المؤمنین ان پر لعنت کیجئے۲؎ فرمایا نہیں۳؎ میں نے رسول الله صلی الله علیہ و سلم کو فرماتے سنا ہے کہ ابدال شام میں ہوں گے۴؎ وہ حضرات چالیس مرد ہیں جب ان میں ایک وفات پاتا ہے تو الله اس کی جگہ دوسرے شخص کوبدل دیتا ہے ۵؎ ان کی برکت سے بارشیں برستی ہیں،ان کے ذریعہ دشمنوں پر فتح حاصل ہوتی ہے۶؎ ان کی برکت سے شام والوں سے عذاب دفع ہوتا ہے۷؎ |
۱؎ آپ تابعی ہیں،حمص کے بڑے پایہ کے عالم ہیں،حضرمی ہیں۔
۲؎ عراق میں کوفہ حضرت علی کا دارالخلافہ تھا اور شام میں دمشق حضرت امیر معاویہ کا دارالخلافہ تھا،اس زمانہ میں ان بزرگوں میں سخت اختلاف تھا،حضرت علی کے حاشیہ نشینوں میں سے بعض نے حضرت علی سے عرض کیا کہ امیر معاویہ اور ان کے ساتھیوں پر لعنت فرمائیں اس زمانہ میں جنگ کے زمانہ میں دونوں فریق ایک دوسرے پر لعنت کرتے تھے اس رواج کے مطابق یہ عرض کیا گیا۔
۳؎ یعنی شام اور شام والوں پر لعنت کرنا جائز نہیں یا ان پر میں لعنت نہیں کروں گا نہ تو کسی کا نام لے کر نہ اجمالی لعنت کسی وصف کے ساتھ۔خیال رہے کہ نام لے کر لعنت کرنا صرف کفار کے لیے ہے اور مرے کافر پر بھی نام لے کر لعنت جب درست جب کہ اس کا کفر پر مرنا یقین سے معلوم ہو مگر کسی صفت سے لعنت کرنا گنہگار مسلمان پر بھی جائز ہے جیسے جھوٹوں پر الله کی لعنت۔آپ نے شام اور اہلِ شام کی اس قدر عظمت کی کہ وصف کے ساتھ بھی ان پر لعنت جائز نہ رکھی۔
۴؎ یعنی امیر معاویہ اور ان کے لشکر والے لعنت کے مستحق نہیں اگر وہ لعنت کے مستحق ہوتے تو انہیں رب تعالٰی شام جیسی مبارک زمین میں نہ رکھتا اور وہ شام والے نہ ہوتے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع