30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ حضر موت یمن کا ایک مشہور شہر ہے وہاں کے ایک قبیلہ کا نام بھی حضر موت ہے یہاں شہر حضر موت مراد ہے غالبًا یہ واقعہ قریب قیامت ہوگا۔ظاہر یہ ہی ہے کہ آگ سے مراد یہ ہی محسوس آگ ہے اور اس آگ کا نکلنا قیامت کی علامتوں میں سے ایک بڑی علامت ہے اور ہوسکتا ہے کہ آگ سے مراد فتنہ و فساد کی آگ ہو اور اس سے کوئی خاص فتنہ مراد ہو جو لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لے لے یہ بھی قریب قیامت ہی ہوگا۔(مرقات،اشعہ)
۲؎ اگر پہلی خبر میں آگ سے مراد مخصوص آگ ہے تب مطلب یہ ہوگا کہ تم اس وقت ملک شام چلے جانا کیونکہ وہ آگ سب لوگوں کو شام میں لے جاوے گی جہاں قیامت قائم ہوگی تم اس افراتفری سے وہاں نہ پہنچنا پہلے ہی آرام سے پہنچ جانا اور اگر آگ سے مراد فتنہ و فساد کی آگ تھی تو اس فرمان عالی کا مطلب یہ ہوگا کہ تم ایسے موقعہ پر ملک شام کے علماء کے عقائد ان کے سے اعمال اختیارکرنا کہ اس وقت وہ لوگ حق اور ایمان کی کسوٹی ہوں گے یا اس فتنہ و فساد میں تم شام میں رہنا کہ اس وقت شام کی حفاظت فرشتے کرتے ہوں گے۔(اشعہ)
|
6275 -[10] وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّهَا سَتَكُونُ هِجْرَةٌ بَعْدَ هِجْرَةٍ فَخِيَارُ النَّاسِ إِلَى مُهَاجَرِ إِبْرَاهِيمَ» . وَفِي رِوَايَةٍ: «فَخِيَارُ أَهْلِ الْأَرْضِ أَلْزَمُهُمْ مُهَاجَرَ إِبْرَاهِيمَ وَيَبْقَى فِي الْأَرْضِ شِرَارُ أَهْلِهَا تَلْفِظُهُمْ أَرَضُوهُمْ تَقْذَرُهُمْ نَفْسُ الله تَحْشُرهُمْ النَّارُ مَعَ الْقِرَدَةِ وَالْخَنَازِيرِ تَبِيتُ مَعَهُمْ إِذَا بَاتُوا وَتَقِيلُ مَعَهُمْ إِذَا قَالُوا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت عبدالله ابن عمرو ابن عاص سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ عنقریب ہجرت کے بعد ہجرت ہوگی ۱؎ تو لوگوں میں بہتر وہ ہے جو حضرت ابراہیم کی ہجرت گاہ میں جاوے۲؎ اور ایک روایت میں ہے کہ زمین والوں میں بہترین وہ ہے جو جناب ابراہیم کی ہجرت گاہ کو لازم پکڑے۳؎ اور زمین میں بدترین باشندے رہ جائیں گے کہ ان کی زمین انہیں پھینکے گی ان سے الله کی ذات ناراض ہوگی۴؎ انہیں آگ جمع کرے گی بندروں اور سؤروں کے ساتھ۵؎ ان کے ساتھ رات گزارے گی جہاں وہ رات گزاریں اور قیلولہ کرے گی جب وہ قیلولہ کریں۶؎ (ابوداؤد) |
۱؎ اس فرمان عالی میں ہجرت بعد ہجرت سے مراد یا تو بار بار ہجرتیں ہیں یعنی اسلام میں آگے پیچھے ہجرتیں ہوتی ہی رہیں گی دیکھ لو آج بھی ہندوستان سے پاکستان کی طرف ہجرت کئی بار ہوئی یا پہلی ہجرت سے مراد ہے مکہ معظمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت جو شروع اسلام میں ہوچکی اور دوسری ہجرت سے مراد وہ آخری ہجرت جب مسلمانوں کو دنیا میں کہیں پناہ نہ ملے گی اور وہ ہر جگہ سے نکلنے اور وطن چھوڑنے پر مجبور ہوں گے دوسرا احتمال قوی ہے جیسا کہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔
۲؎ ابراہیم علیہ السلام کوفہ کے علاقہ میں پیدا ہوئے مقام کوثی میں مگر وہاں رہ نہ سکے کفار نے بہت تنگ کیا تو مصر ہوتے ہوئے شام میں مقیم ہوئے۔خیال رہے کہ فلسطین اور شام دونوں علاقے ملے ہوئے ہیں۔چنانچہ اب بیت المقدس سے دمشق موٹر کار کے ذریعہ صرف ڈہائی گھنٹہ کا راستہ ہے ہوائی جہاز سے چند منٹ کا اس لیے فلسطین اور شام کو ایک دوسرے پر بول دیا جاتا ہے۔ ابراہیم علیہ السلام فلسطین میں آکر مقیم ہوئے تھے وہاں ہی آپ کی قبر شریف ہے یعنی الخلیل میں جو بیت المقدس سے تین میل فاصلہ پر ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع