30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
رہنا پسند کرتے ہیں عرض کیا کہ کوفہ میں چنانچہ آپ عرصہ تک کوفہ میں رہے،جنگ نہاوند یا جنگ صفین میں شہید ہوئے،اکمال نے صفین فرمایا ہے مگر اشعۃ اللمعات نے نہاوند کو ترجیح دی ہے۔
۲؎ چونکہ حضرت اویس قرنی حضرت عمر کے زمانہ ہی میں حج کو آنے والے تھے اس لیے اس علیم و خبیر صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت عمر ہی سے یہ فرمایا مگر فرمایا یہ کہ تم صحابہ میں سے جو بھی اویس کو پائے وہ اپنے لیے ان سے دعا کرائے۔اس سے معلوم ہوا کہ افضل بھی مفضول صالح سے دعا کرائے۔حضرات صحابہ جناب اویس سے کہیں افضل ہیں مگر ان حضرات کو جناب اویس سے دعا کرانے کا حکم دیا گیا۔ایک بار حضور انور نے حضرت عمر سے جب کہ وہ عمرہ کرنے مکہ معظمہ جارہے تھے فرمایا تھا کہ مجھے اپنی دعا میں نہ بھولنا۔
۳؎ امام احمد نے فرمایا کہ افضل تابعین جناب سعید ابن مسیب ہیں اور بعض کے نزدیک حضرت اویس قرنی ہیں ان حضرات کی دلیل یہ حدیث ہے،بعض فرماتے ہیں کہ حضرت سعید ابن مسیب علوم شرعیہ میں افضل ہیں اور حضرت اویس عشق رسول کے لحاظ سے افضل لہذا یہاں حدیث میں دوسری افضلیت مراد ہے۔(مرقات)
۴؎ حضرت اویس قرنی کے فضائل کے متعلق بہت احادیث وارد ہیں۔چنانچہ امام سیوطی نے جمع الجوامع میں ان کے فضائل کی بہت احادیث جمع فرمائی ہیں۔ابن عساکر نے اپنی تاریخ میں،ابو نعیم نے حلیہ میں،بیہقی نے دلائل میں،ابو یعلیٰ نے اور ابن مندہ نے بہت احادیث اس قسم کی نقل فرمائی ہیں ہم صرف چند حدیثیں نقل کرتے ہیں: (۱)ابن عساکر نے بروایت سعید ابن مسیّب حضرت عمر فاروق سے روایت کی کہ ایک دفعہ حضور انور نے مجھ سے فرمایا میری امت میں ایک شخص اویس قرنی ہے ان کے جسم پر برص کا داغ تھا ان کی دعا سے وہ درست ہوا تھوڑا سا باقی رہا اگر ان سے تمہاری ملاقات ہو تو ان کو میرا سلام پہنچانا اور ان سے اپنے لیے دعا کرانا وہ اللہ کے نزدیک بڑے درجہ والے ہیں،اگر وہ رب پر قسم کھالیں تو رب ان کی قسم پوری فرما دے،وہ میری امت کی شفاعت کریں گے ان کی شفاعت سے قبیلہ ربیعہ اور مضر کی عمر برابر لوگ بخشے جائیں گے۔حضرت عمر فرماتے ہیں کہ میں نے حضور کی حیات میں پھر حضرت صدیق کی خلافت میں تلاش کیا مگر نہ پایا میں نے انہیں اپنی خلافت کے زمانہ میں پایا یہ حدیث بہت دراز ہے۔(اشعہ) (۲)ابن عساکر نے حضرت عبداللہ ابن عباس سے روایت کی حضرت عمر بہت روز تک حضرت اویس کی آمد کے منتظر رہے،حجاج میں تلاش کرتے تھے ایک بار آپ کو پتہ لگا کہ مراد سے حجاج کا قافلہ آیا ہے آپ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ اس قافلہ میں پہنچے پوچھا کیا تم میں اویس نامی کوئی شخص ہے ایک شخص نے کہا کہ میرا ایک بھتیجا ہے بہت کمزور و غریب انہوں نے فرمایا ہم اس کی تلاش میں ہیں،کہا وہ عرفات کے قریب قافلہ کے اونٹ چرا رہے ہیں،یہ دونوں حضرات وہاں پہنچے ان سے ملاقات ہوئی فرمایا کیا تم اویس ہو؟ کہا ہاں،کیا تم قرنی مرادی ہو فرمایا ہاں،کیا تمہارے پہلو پر برص کے داغ کا کچھ بقیہ ہے فرمایا ہاں،کہا ہم کو دکھائیے انہوں نے کرتا اٹھا کر داغ دکھایا،حضرت عمر و علی دونوں نے دوڑ کر اس داغ کے بوسے لیے پھر فرمایا کہ تم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے سلام فرمایا ہے اور ہم کو دعا کرانے کا حکم دیا ہے آپ ہم دونوں کے لیے دعا کریں،اولًا اویس نے معذرت کی مگر پھر دعا کی۔(اشعہ)ہم نے بعض بزرگوں کو فرماتے سنا کہ بعض صحابہ نے حضرت اویس سے کہا کہ تم نے حضور انور کا زمانہ پایا مگر زیارت نہ کی بولے کیا تم نے زیارت کی ہے فرمایا ہاں کہا بتاؤ مجبوب کے سر داڑھی اور ریش بچی میں کتنے کتنے بال سفید تھے،صحابہ نے کہا ہم نے شمار نہیں کیے،فرمایا مجھ سے پوچھ لو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع