30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
باب ذکر الیمن و الشام و ذکر اویس القرنی
یمن اور شام کا ذکر ۱؎ اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
۱؎ یمن یا تو بنا ہے یمین سے بمعنی داہنی جانب بائیں کی مقابل،چونکہ یہ مکہ معظمہ سے داہنی طرف ہے اس لیے اس علاقہ کو یمن کہا جاتا ہے،یا بنا ہے یمن بمعنی برکت سے،چونکہ یہ متبرک علاقہ ہے لہذا یمن کہا جاتا ہے۔یہ علاقہ عرب کا پانچواں صوبہ ہے آج کل اس کا دارالخلافہ عدن ہے۔شام اس علاقہ کا نام ہے جو فلسطین سے متصل ہے اس کا دارالخلافہ آج کل دمشق ہے۔یا تو شام مقابل ہے یمن کا بمعنی بائیں جانب،چونکہ یہ مکہ معظمہ سے بائیں طرف ہے لہذا شام کہلاتا ہے،یا سام ابن نوح علیہ السلام کی طرف نسبت ہے استعمال میں بجائے سام کے شام ہوگیا،اس زمین میں کچھ سفید سرخ کالے نشانات ہیں جیسے جسم پر تل،عربی میں تل کو شامہ کہتے ہیں ان وجوہ سے اسے شام کہتے ہیں۔یہاں یمن اور شام کے ذکر سے مراد مطلقًا ان کا ذکر ہے خواہ س سر زمین کا ذکر ہو یا وہاں کے باشندوں کا۔
۲؎ بعض لوگ قرن سے مراد وہ جگہ سمجھے ہیں جو نجد والوں کا میقات یعنی جاء احرام ہے جسے قرنی منازل کہتے ہیں مگر یہ غلط ہے وہ قرن تو طائف کے پاس ہے۔حضرت اویس جہاں رہتے تھے وہ قرن یمن کی ایک بستی ہے جو قر ابن رومان ابن ناجیہ ابن مراد نے بسائی یہ قرن حضرت اویس کے مورث اعلیٰ تھے۔
|
6266 -[1] عَن عمر بن الْخطاب أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ رَجُلًا يَأْتِيكُمْ مِنَ الْيَمَنِ يُقَالُ لَهُ: أُوَيْسٌ لَا يَدَعُ بِالْيَمَنِ غَيْرَ أُمٍّ لَهُ قَدْ كَانَ بِهِ بَيَاضٌ فَدَعَا اللَّهَ فَأَذْهَبَهُ إِلَّا مَوْضِعَ الدِّينَارِ أَوِ الدِّرْهَمِ فَمَنْ لَقِيَهُ مِنْكُمْ فَلْيَسْتَغْفِرْ لَكُمْ "وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم يَقُولُ: " إِنَّ خَيْرَ التَّابِعِينَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ: أُويس وَله والدةٌ وَكَانَ بِهِ بَيَاض فَمُرُوهُ فليستغفر لكم ". رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت عمر ابن خطاب رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ تمہارے پاس یمن سے ایک صاحب آئیں گے جنہیں اویس کہا جاتا ہے ۱؎ انہیں یمن میں صرف ان کی ماں ہی روکے ہوئے ہے ان کو برص کی سفیدی تھی تو انہوں نے اللہ سے دعا کی اللہ نے وہ دور کردی سوا دینار یا درہم کی جگہ کے تو تم میں سے جو ان سے ملے تو وہ اس کے لیے دعا مغفرت کریں ۲؎ اور ایک روایت میں ہے فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ تابعین میں بہترین وہ صاحب ہیں جنہیں اویس کہا جاتا ہے۳؎ ان کی ایک ماں ہیں انہیں برص کی سفیدی تھی ان سے عرض کرنا کہ وہ تمہارے لیے دعاء مغفرت کریں۴؎ (مسلم) |
۱؎ آپ اویس ابن عامر ہیں،پہلے مراد میں پھر قرن میں رہے اس لیے آپ کو مرادی قرنی کہا جاتا ہے۔آپ نے حضور انور کا زمانہ پایا مگر آپ کی والدہ کے پاس کوئی خدمت گار نہ تھا اس لیے ماں کو چھوڑ کر حاضر خدمت نہ ہوئے،آپ کے بائیں پہلو پر برص کا سفید داغ تھا جو آپ کی بارہا دعا سے تھوڑا سا رہ گیا تھا۔آپ خلافت فاروقی میں حج کو آئے پھر حضرت عمر نے پوچھا کہ آپ کہاں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع