30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
6265 -[70] وَعَن قيس بن حَازِم قَالَ: كَانَ عَطَاءُ الْبَدْرِيِّينَ خَمْسَةُ آلَافٍ. وَقَالَ عُمَرُ: لَأُفَضِّلَنَّهُمْ على مَنْ بَعدَهم. رَوَاهُ البُخَارِيّ1- النَّبِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْهَاشِمِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.2- عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُثْمَانَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ الْقُرَشِيُّ.3 -عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ الْعَدوي.4 - عُثْمَان بن عَفَّان خَلفه النَّبِي صلى الله عَلَيْهِ وَسلم عَلَى ابْنَتِهِ رُقَيَّةَ وَضَرَبَ لَهُ بِسَهْمِهِ.5 - عَلِيُّ بن أبي طَالب الْهَاشِمِي.6- إِياس بن البُكَيْر.7- بِلَالُ بْنُ رَبَاحٍ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ.8- حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ الْهَاشِمِيُّ.9-حَاطِبُ بْنُ أبي بلتعة حليفٌ لقريش.10-أَبُو حُذَيْفَةَ بْنُ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ الْقُرَشِيُّ. 11-حَارِثَةُ بْنُ الرُّبَيِّعِ الْأَنْصَارِيُّ قُتِلَ يَوْمَ بَدْرٍ وَهُوَ حَارِثَةُ بْنُ سُرَاقَةَ كَانَ فِي النَّظَّارَةِ.12-خُبَيْبُ بْنُ عَدِيٍّ الْأَنْصَارِيُّ.13-خُنَيْسُ بْنُ حُذَافَةَ السَّهْمِيُّ. 14- رِفَاعَةُ بْنُ رَافِعٍ الْأَنْصَارِيُّ.15- رِفَاعَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُنْذِرِ أَبُو لُبَابَةَ الْأَنْصَارِيُّ.16- الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ الْقُرَشِيُّ.17-زَيْدُ بْنُ سَهْلٍ أَبُو طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيُّ. 18-أَبُو زَيْدٍ الْأَنْصَارِيُّ.19 -سَعْدُ بْنُ مَالِكٍ الزُّهْرِيُّ. 20 - سَعْدُ بْنُ خَوْلَةَ الْقُرَشِيُّ.21 -سَعِيدُ بْنُ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ الْقُرَشِيُّ.22 - سَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ الْأَنْصَارِيُّ.23 - ظُهَيْرُ بْنُ رَافِعٍ الْأَنْصَارِيُّ. |
روایت ہے حضرت قیس ابن ابی حازم سے فرماتے ہیں کہ بدر والوں کا عطیہ پانچ پانچ ہزار تھا حضرت عمر نے فرمایا کہ میں ان کو بعد والوں پر فضیلت دوں گا ۱؎ (بخاری)ان بدر والوں کے نام جو بخاری کی جامع میں بیان کیے گئے۲؎ نبی محمد ابن عبدالله ہاشمی صلی الله علیہ وسلم۳؎ عبدالله ابن عثمان یعنی ابوبکر صدیق قرشی۴؎ عمر ابن خطاب عدوی۵؎ عثمان ابن عفان قرشی جنہیں نبی صلی الله علیہ و سلم نے اپنی دختر رقیہ کی تیمار داری کے لیے پیچھے چھوڑا اور ان کے لیے حصہ الگ رکھا۶؎ علی ابن ابی طالب ہاشمی۷؎ ایاس ابن بکیر۸؎ بلال ابن رباح یعنی ابوبکر صدیق کے غلام۹؎ حمزہ ابن عبدالمطلب ہاشمی ۱۰؎ حاطب ابن ابی بلتعہ جو قریش کے حلیف تھے۱۱؎ ابو حذیفہ ابن عقبہ ابن ربیعہ قرشی۱۲؎ حارثہ ابن ربیع انصاری جو بدر کے دن شہید ہوئے۱۳؎ اور وہ حارثہ ابن سراقہ ہیں جو اوپی میں مقرر تھے۱۴؎ خبیب۱۵؎ ابن عدی انصاری،خنیس ابن حذافہ سہمی۱۶؎ رفاعہ ابن رافع انصاری۱۷؎ رفاعہ ابن عبدالمنذر ابو لبابہ انصاری ۱۸؎ زبیر ابن عوام قرشی۱۹؎ زید ابن سہل یعنی ابوطلحہ انصاری۲۰؎ ابو زید انصاری۲۱؎ سعد ابن مالک زہری ۲۲؎ سعد ابن خولہ قرشی۲۳؎سعید ابن زید ابن عمرو ابن نفیل قرشی۲۴؎سہل ابن حنیف انصاری۲۵؎ ظہیر ابن رافع انصاری۲۶؎ اور انکے بھائی۲۷؎ عبدالله ابن مسعود ہذلی۲۸؎ عبدالرحمن ابن عوف زہری۲۹؎ عبیدہ ابن حارث قرشی۳۰؎ عبادہ ابن صامت انصاری۳۱؎ عمرو ابن عوف جو بنی عامر ابن لوی کے حلیف تھے۳۲؎ عقبہ ابن عمرو انصاری۳۳؎ عامر ابن ربیعہ عنزی۳۴؎ عاصم ابن ثابت انصاری۳۵؎ عویمر ابن ساعدہ انصاری۳۶؎ عتبان ابن مالک انصاری۳۷؎ قدامہ ابن مظعون۳۸؎قتادہ ابن نعمان انصاری۳۹؎معاذ ابن عمرو ابن جموح ۴۰؎ معوذ ابن عفراء ۴۱؎ اور ان کے بھائی مالک ابن ربیعہ ابو اسید انصاری۴۲؎مسطح ابن اثاثہ ابن عباد ابن عبدالمطلب ابن عبدمناف۴۳؎مرارہ ابن ربیع انصاری ۴۴؎ معن بن عدی انصاری۴۵؎مقداد ابن عمرو کندی جو بنی زہرہ کے حلیف ہیں۴۶؎ ہلال ابن امیہ انصاری ۴۷؎ الله تعالٰی ان سب سے راضی رہے۔ |
۱؎ یعنی حضرت عمر رضی الله عنہ نے بیت المال سے جو وظیفے مقرر فرمائے تو فی انصاری پانچ پانچ ہزار درہم سالانہ تھے دوسروں کے وظیفے اس سے کم تھے اور حضرت عمر نے اس زیادتی کی وجہ یہ بیان فرمائی کہ یہ حضرات درجات میں دوسروں سے افضل ہیں۔
۲؎ اصحاب بدر تین سو تیرہ ہیں وہاں کفار ایک ہزار تھے،امام بخاری نے یہاں ۴۴ حضرات کے نام ذکر کیے ہیں کچھ حضرات کے نام متفرق مقامات پر ذکر کیے اس بخاری میں ان کا تذکرہ مختلف حیثیتوں سے کیا کچھ نام بالکل ذکر نہ کیے،یہ نام یکجا اس لیے ذکر کیے کہ ان ناموں کی برکت سے دعائیں قبول ہوتی ہیں اگر اصحاب بدر کے نام پڑھ کر دعائیں کی جائیں تو ان شاءالله قبول ہوں۔ (اشعہ)یہ نام حروف تہجی کی ترتیب سے بیان ہوئے ہیں سواء حضور صلی الله علیہ و سلم اور خلفاء راشدین کے۔
۳؎ سب سے پہلے حضور انور صلی الله علیہ و سلم کا ذکر شریف کیا برکت کے لیے اور یہ بتانے کے لیے کہ حضور انور اس وقت شانہ بہ شانہ سپاہیوں کے ساتھ تھے موجودہ زمانہ کی طرح نہ تھے کہ لڑتے ہیں سپاہی دور دور رہتے ہیں بڑے لوگ۔
۴؎ آپ کا نام شریف عبدالله ہے،لقب عتیق،خطاب صدیق،قرشی ہیں،تیم ابن مرہ کے خاندان سے ہیں،اسلام سے پہلے آپ کا نام عبد رب الکعبہ تھا حضور انور نے عبدالله رکھا۔(اشعہ)آپ کے والد بھی مؤمن صحابی ہیں،ان کا نام عثمان ہے،کنیت ابو قحافہ،حضرت صدیق بدر کے دن حضور صلی الله علیہ و سلم کے ساتھ سایہ کی طرح رہے،بدر کی رات عریش میں آپ کی حفاظت میں رات بھر تلوار لیے عریش کے اردگرد گھومتے رہے جدھر سے آہٹ پاتے ادھر ہی پہنچ جاتے تھے۔(مرقات) عریش وہ ہی جگہ ہے جہاں آج مسجد عریش ہے یہاں حضرات صحابہ نے حضور انور صلی الله علیہ و سلم کے لیے ایک چھپر سا بچھا دیا تھا جہاں الله کے محبوب نے رات بھر دعائیں مانگیں تھیں اس فقیر نے یہاں ایک رات گزاری ہے۔
۵؎ آپ عدی ابن کعب کی اولاد سے ہیں،آپ کے خاندان کا نام عدوی ہے،یہ قریش کا مشہور خاندان ہے،آپ کا نام عمر لقب فاروق اعظم ہے،آپ دراز قد خوبصورت تھے،آپ کی پیش گوئی توریت میں بھی ہے،قدرتی طور پر آپ کی ہیبت دلوں میں تھی، آپ کی خلافت ساڑھے دس سال ہوئی،تریسٹھ سال عمر شریف ہوئی آپ کے حالات شروع مرآت میں بیان ہوچکے۔
۶؎ آپ کے حالات مذکور ہوچکے ہیں۔آپ حکمًا بدر میں شریک ہوئے یعنی مدینہ منورہ میں آپ کا گھر آپ کے لیے بدر کا میدان بنادیا گیا آپ کا لقب ذوالنورین ہے کیونکہ آپ کے نکاح میں حضور کی دو صاحبزادیاں تھیں رقیہ و کلثوم۔
۷؎ آپ کے فضائل و کمالات ذروں اور تاروں کی طرح بے شمار ہیں،آپ کی کنیت ابو تراب ہے،لقب اسد الله الغالب،پیر کے دن حضور صلی الله علیہ و سلم پر وحی آئی منگل کو آپ ایمان لائے سات سال کی عمر میں،پست قد،سرخ رنگ،بڑی آنکھیں،گھنی داڑھی، وسیع العلم،نہایت بہادر دلیر،زاہد و سخی تھے،آپ کی خلافت پانچ سال ہے،۱۷ رمضان شریف شب جمعہ کو کوفہ میں ابن ملجم مرادی کے ہاتھوں زخمی ہوئے،۲۱ رمضان میں شہید ہوئے،عمر شریف تریسٹھ سال۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع