30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۹؎ یعنی ناسمجھ چھوٹے بچے بھوکے ہیں وہ بھوکے آسانی سے سو نہ سکیں گے مگر انہیں کسی صورت سے بہانہ سے سلادینا سلانے کا حکم اس لیے دیا کہ بچے مہمان کو کھانا دیکھ کر صبر نہ کرسکیں گے،روئیں گے شور مچائیں گے اس وجہ سے مہمان نہ کھا سکے گا۔
۱۰؎ اس زمانہ میں مہمان بغیر میزبان کے کھانا نہیں کھاتا تھا اس لیے ان کو مہمان کے ساتھ کھانا ضروری تھا اور اس وقت پردہ فرض نہ ہوا تھا،نیز یہ بی بی صاحبہ بہت بوڑھی تھیں لہذا یہ دونوں میاں بیوی مہمان کے ساتھ کھانے میں مشغول ہوئے۔ (مرقات)
۱۱؎ یعنی ہم تم دونوں مہمانوں کے ساتھ کھانے کے لیے بیٹھیں پھر تم چراغ کی درستی کے بہانہ سے چراغ کو ہاتھ لگانا اور کھانس کر چراغ گل کردینا،دیا سلائی اس زمانہ میں موجود نہ تھی اس لیے چراغ دوبارہ روشن نہ ہوسکے گا ہم تم جھوٹ موٹ کھاتے اور اپنے منہ کی طرف ہاتھ بڑھاتے رہیں اور خالی منہ چلاتے رہیں تاکہ مہمان سمجھے کہ ہم کھا رہے ہیں اور وہ پیٹ بھر کر کھالے۔
۱۲؎ یعنی سارا گھر بھوکا سویا اور مہمان کو سیر کردیا۔
۱۳؎ یا تو نماز فجر پڑھنے مسجد نبوی شریف میں حاضر ہوئے یا بعد نماز حضور انور سے ملاقات کرنے حاضر ہوئے۔مشکوۃ شریف کے بعض نسخوں میں الی رسول الله ہے تو غدا بمعنی ذھب ہے،عام نسخوں میں علی رسول الله ہے کیونکہ غدا میں اقبل کے معنی شامل ہیں۔(مرقات)
۱۴؎ ان جیسی عبارتوں میں عجب یا ضحك بمعنی رضی ہوتا ہے یعنی الله تعالٰی ان کے اس کام سے راضی ہوگیا یا ان سے راضی اور خوش ہوگیا۔رضا سے مراد خصوصی رضا ہے الله تعالٰی ہر مؤمن سے راضی ہے اور قسم کی رضا اور ہر متقی پرہیزگار سے راضی ہے دوسری قسم کی رضا،ان حضرات سے راضی ہے خصوصی رضا وہ ہی یہاں مراد ہے،فرماتاہے:"لَقَدْ رَضِیَ اللہُ عَنِ الْمُؤْمِنِیۡنَ اِذْ یُبَایِعُوۡنَکَ تَحْتَ الشَّجَرَۃِ"۔
۱۵؎ یہ آیت انصار کی تعریف میں آئی ہے کہ یہ لوگ اپنی اور اپنے بال بچوں کی حاجت روک کر بھی دوسروں کی حاجت روائی کردیتے ہیں اس کے نزول کا سبب یہ ہی واقعہ ہے۔خیال رہے کہ شریعت کا مسئلہ ہے کہ پہلے خویش بعد میں درویش مگر عشق و رضا کا فتویٰ یہ ہے کہ پہلے درویش بعد میں خویش،چونکہ یہ شخص حضور انور صلی الله علیہ و سلم کا بھیجا ہوا تھا لہذا حضرت ابو طلحہ نے اس کی حاجت کو اپنی حاجت پر مقدم رکھا۔حضرت عمر کا آدھا مال خیرات کرنا آدھا مال گھر والوں کے لیے رکھنا شریعت تھا مگر حضرت صدیق ا کبر کا اپنا سارا مال خیرات کرنا گھر میں جھاڑو دے دینا حکم طریقت تھا لہذا اس واقعہ پر یہ اعتراض نہیں کہ جناب ابوطلحہ نے اپنے بچوں کو بھوکا رکھ کر اجنبی شخص کو روٹی کیوں کھلادی۔
|
6262 -[67] وَعَنْهُ قَالَ:نَزَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْزِلًا فَجَعَلَ النَّاسُ يَمُرُّونَ فَيَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «مَنْ هَذَا يَا أَبَا هُرَيْرَةَ؟» فَأَقُولُ: فُلَانٌ. فَيَقُولُ:«نِعْمَ عَبْدُ اللَّهِ هَذَا» وَيَقُولُ: «مَنْ هَذَا؟» فَأَقُولُ: فُلَانٌ. فَيَقُولُ: «بِئْسَ عَبْدُ اللَّهِ هَذَا» حَتَّى مَرَّ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ فَقَالَ: «مَنْ هَذَا؟» فَقُلْتُ: خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ. فَقَالَ:«نِعْمَ عَبْدُ اللَّهِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ سَيْفٌ مِنْ سيوف الله» رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ |
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں کہ ہم رسول الله صلی الله علیہ و سلم کے ساتھ ایک منزل میں اترے تو لوگ گزرنے لگے ۱؎ رسول الله صلی الله علیہ و سلم پوچھنے لگے،اے ابوہریرہ یہ کون ہے میں کہتا فلاں تو آپ فرماتے یہ اچھا بندہ ہے اور کہتے یہ کون ہے میں کہتا فلاں تو فرماتے یہ برا بندہ ہے۲؎ حتی کہ خالد ابن ولیدگزرے تو حضور نے فرمایا یہ کون ہے۳؎ میں نے کہا کہ خالد ابن ولید ہیں تو فرمایا خالد ابن ولید اچھے بندے ہیں الله کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہیں۴؎ (ترمذی) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع