دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 8 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ہشتم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ہشتم

گزارہ کرتے تھے اپنی غنیمت اور وظیفے کو فقراء پرتقسیم کر دیتے تھے۔(اشعہ)یہ حضرات شکل انسانی میں فرشتے بلکہ فرشتوں سے افضل تھے۔

6259 -[64]

وَعَن جَابر قال: كَانَ عُمَرُ يَقُولُ: أَبُو بَكْرٍ سَيِّدُنَا وَأَعْتَقَ سَيِّدَنَا يَعْنِي بِلَالًا. رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے حضرت جابر سے فرمایا کہ جناب عمر فرماتے تھے کہ ابوبکر ہمارے سردار ہیں اور عتیق ہمارے سردار یعنی بلال کو آزاد کیا ۱؎ (بخاری)

۱؎  پہلا لفظ سید آپ نے حقیقتًا فرمایا دوسرا سید تواضع اور انکسار کے طور پر کیونکہ حضرت بلال سے حضرت عمر افضل ہیں۔ بعض شارحین نے فرمایا کہ سیادت سے افضلیت لازم نہیں آتی جیسے حضرت عبدالله  فرماتے ہیں کہ میں نے امیر معاویہ سے بڑھ کر سید نہ دیکھا حالانکہ آپ نے خلفاء راشدین کو دیکھا ہے۔خلاصہ یہ ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق دو طرح ہمارے سید ہیں ایک تو بذات خود دوسرے ہمارے سید کے آقا،جب حضرت بلال کی وفات کی خبر ہوئی تو آپ روتے تھے اور فرماتے تھے۔شعر

اُٹھ گیا آج زمانہ سے ہمارا آقا                                  اٹھ گیا آج نقیب چشم پیغمبر

اقبال کس کے لطف کا یہ فیض عام ہے                     رومی فنا ہوا حبشی کو دوام ہے

6260 -[65]

وَعَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ أَنَّ بِلَالًا قَالَ لِأَبِي بَكْرٍ: إِنْ كُنْتَ إِنَّمَا اشْتَرَيْتَنِي لِنَفْسِكَ فَأَمْسِكْنِي وَإِنْ كُنْتَ إِنَّمَا اشْتَرَيْتَنِي لِلَّهِ فَدَعْنِي وَعمل الله. رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے حضرت قیس ابن ابی حازم سے۱؎ کہ جناب بلال نے حضرت ابوبکر سے عرض کیا کہ اگر آپ نے مجھے اپنی ذات کے لیے خریدا ہے تو مجھے رکھیے اور اگر آپ نے مجھے الله  کے لیے خریدا ہے تو مجھے الله  کے عمل کے لیے چھوڑ دیجئے۲؎ (بخاری)

۱؎  آپ قبیلہ بنی احمس سے ہیں،اسلام لانے مدینہ منورہ آئے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم وفات پاچکے تھے،کوفہ کے تابعین میں سے ہیں،عشرہ مبشرہ میں سے آپ نے نو صحابہ سے روایت کی یعنی سواء عبدالرحمن ابن عوف کے یہ آپ کی خصوصیت ہے،غزوہ نہروان میں حضرت علی کے ساتھ تھے،سو برس سے زیادہ عمر ہوئی،۹۸ اٹھانوے میں وفات ہوئی۔(مرقات)

۲؎  حضور انور کی وفات کے بعد حضرت بلال تاب فراق نہ لاکر دمشق جانے لگے تب حضرت صدیق نے کہا اے بلال مدینہ میں رہو ہم کو اپنی دلنواز اذان سنایا کرو تب آپ نے حضرت صدیق سے یہ عرض کیا۔بعض روایات میں ہے کہ آپ نے عرض کیا اے میرے مولٰی اب میں مسجد نبوی حضور سے خالی نہیں دیکھ سکتا۔شعر

چہ مشکل ترازیں برعا شق راز                                  کہ بسے دلدار بیند جاء دلدار

چنانچہ آپ شام کے قافلہ کے ساتھ دمشق چلے گئے وہاں ہی ۲۰ ہجری میں وفات پاگئے۔(ا شعہ)اس گنہگار نے قبر انور کو بوسہ دیا ہے۔

6261 -[66] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم فَقَالَ إِنِّي مَجْهُودٌ فَأَرْسَلَ إِلَى بَعْضِ نِسَائِهِ فَقَالَتْ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا عِنْدِي إِلَّا مَاءٌ ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى أُخْرَى فَقَالَتْ مِثْلَ ذَلِكَ وَقُلْنَ كُلُّهُنَّ مِثْلَ ذَلِكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:من يضيفه یرحمه اللَّهُ فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ أَبُو طَلْحَةَ فَقَالَ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَانْطَلَقَ بِهِ إِلَى رَحْلِهِ فَقَالَ لِامْرَأَتِهِ هَلْ عِنْدَكِ شَيْءٌ قَالَتْ لَا إِلَّا قُوتُ صِبْيَانِي قَالَ فَعَلِّلِيهِمْ بِشَيْءٍ وَنَوِّمِيهِمْ فَإِذَا دَخَلَ ضَيْفُنَا فَأَرِيهِ أَنا نَأْكُل فَإِذا أَهْوى لِيَأْكُلَ فَقُومِي إِلَى السِّرَاجِ كَيْ تُصْلِحِيهِ فَأَطْفِئِيهِ فَفعلت فقعدوا وَأكل الضَّيْف فَلَمَّا أَصْبَحَ غَدَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَقَدْ عَجِبَ اللَّهُ أَوْ ضَحِكَ اللَّهُ مِنْ فُلَانٍ وَفُلَانَةٍ»وَفِي رِوَايَةٍ مِثْلَهُ وَلَمْ يُسَمِّ أَبَا طَلْحَةَ وَفِي آخِرِهَا فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى [وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ]

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص رسول الله  صلی الله  علیہ و سلم کی خدمت میں آیا عرض کیا کہ میں بھوکا ہوں ۱؎  تو حضور نے اپنی بعض ازواج کے پاس بھیجا۲؎  وہ بولیں اس کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے ہمارے پاس پانی کے سوا کچھ نہیں۳؎ پھر دوسری کے پاس بھیجا انہوں نے بھی اسی طرح کہا اور سب نے اسی طرح کہا۴؎ تب رسول الله  صلی الله  علیہ و سلم نے فرمایا کہ اسے کون مہمان بنائے گا الله  اس پر رحم کرے۵؎  تو انصار میں سے ایک صاحب کھڑے ہوئے جنہیں ابو طلحہ کہا جاتا تھا ۶؎ وہ بولے یارسول الله  میں چنانچہ وہ انہیں اپنے گھر لے گئے۷؎  اپنی بیوی سے بولے کیا تمہارے پاس کچھ ہے وہ بولیں نہیں سوائے میرے بچوں کے کھانے کے۸؎  فرمایا تم انہیں کسی چیز سے بہلا دینا سلا دینا۹؎ پھر جب ہمارا مہمان آئے تو انہیں دکھانا کہ ہم کھا رہے ہیں۱۰؎ جب وہ اپنا ہاتھ کھانے کے لیے بڑھائیں تو تم چراغ کی طرف ٹھیک کرنے کے بہانے کھڑی ہونا اسے بجھا دینا ۱۱؎  انہوں نے ایسا ہی کیا یہ سب بیٹھ گئے اور مہمان نے کھالیا انہوں نے بھوکے رات کاٹ دی۱۲؎ پھر سویرا ہوا یہ رسول الله  کے پاس حاضر ہوئے۱۳؎ تو رسول الله  صلی الله  علیہ و سلم نے فرمایا الله  تعالٰی خوش ہوا یا راضی ہوا فلاں اور فلاں سے۱۴؎  ایک روایت میں ہے تو یوں ہی مگر ابوطلحہ کا نام نہیں لیا ہے اس کے آخر میں یہ ہے کہ تب الله  نے یہ آیت اتاری اور ترجیح دیتے ہیں اپنی جانوں پر اگرچہ انہیں خود بھوک ہو ۱۵؎(مسلم،بخاری)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن