30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
6257 -[62] وَعَن أبي عُبَيدةَ أَنَّهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «خَالِدٌ سَيْفٌ مِنْ سُيُوفِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَنِعْمَ فَتَى الْعَشِيرَةِ» . رَوَاهُمَا أَحْمد |
روایت ہے حضرت ابو عبیدہ سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ خالد الله کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہے ۱؎ اور یہ اپنے کنبے کے بہترین جوان ہیں۲؎ (احمد) |
۱؎ یعنی الله کی تلواریں دو قسم کی ہیں:مشہور تلوار اور غیر مشہور حضرت خالد ان میں سے ایک ہیں جو مشرکین و کفار پر الله نے سونتی ہے۔
۲؎ یعنی حضرت خالد قبیلہ بنی مخزوم میں بہترین بندے اور صالح مرد ہیں۔دیلمی نے مسند الفردوس میں حضرت عبدالله ابن عباس سے مرفوعًا روایت کی کہ خالد الله کی تلوار ہیں،حمزہ الله رسول کے شیر ہیں،ابو عبیدہ ابن جراح الله رسول کے امین ہیں، حذیفہ ابن یمان صفی الرحمن ہیں(یعنی الله کے چنے ہوئے بندے)عبدالرحمن ابن عوف الله کے تاجروں میں سے ہیں۔ (مرقات)خیال رہے کہ حضور انور جس کو بھی خطاب دیتے ہیں بالکل درست اور برمحل دیتے ہیں،حضور کے خطابات دنیاوی حکومتوں کے نہیں کہ نرے جاہل کو شمس العلماء بڑے بزدل کو خان بہادر کے خطاب دیئے جاتے ہیں۔
|
6258 -[63] وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:«إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَمرنِي بِحُبِّ أَرْبَعَةٍ وَأَخْبَرَنِي أَنَّهُ يُحِبُّهُمْ» . قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ سَمِّهِمْ لَنَا قَالَ: «عَلِيٌّ مِنْهُمْ» يَقُولُ ذَلِكَ ثَلَاثًا «وَأَبُو ذَرٍّ وَالْمِقْدَادُ وَسَلْمَانُ أَمرنِي بحبِّهم وَأَخْبرنِي أَنه يحبُّهم» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ |
روایت ہے بریدہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ الله تعالٰی نےمجھے چار شخصوں کی محبت کا حکم دیا ہے اور مجھے خبر دی کہ وہ ان سے محبت کرتا ہے ۱؎ عرض کیا گیا یارسول الله ہم کو ان کے نام بتائیں۲؎ فرمایا علی ان میں سے ہیں یہ تین بار فرماتے رہے۳؎ اور ابو ذر اور مقداد اور سلمان ہیں کہ مجھے ان سے محبت کا حکم دیا اور خبر دی کہ وہ ان سے محبت کرتا ہے۴؎ (ترمذی)فرمایا کہ یہ حدیث حسن بھی ہے غریب بھی۔ |
۱؎ یوں تو رب تعالٰی ہر مؤمن و متقی خصوصًا ہر صحابی سے محبت کرتا ہے"یُّحِبُّہُمْ وَیُحِبُّوۡنَہٗۤ"مگر ان چارحضرات سے خصوصی محبت فرماتا ہے محبت کی بہت نوعیتیں ہوتی ہیں۔
۲؎ تاکہ ہم بھی ان سے محبت کریں الله رسول کے پیارے ہمارے بھی پیارے ہونے چاہئیں۔
۳؎ بار بار فرمانے سے معلوم ہوا کہ حضرت علی رضی الله عنہ ان چاروں میں فرد اعلٰی ہیں۔
۴؎ یہ اس اجمال کی تفصیل ہے جو اجمال ابھی گزرا یہ حضرات الله کے محبوب کیوں نہ ہوں۔حضرت علی کے فضائل و مناقب ہماری شمار سے سواء ہیں،ابوذر بڑے عابد تھے،بڑے تارک الدنیا صحابی ہیں،حضرت مقداد چھٹے مؤمن ہیں بدر وغیرہ تمام غزوات میں شریک ہوئے،آپ حضرت عثمان غنی کی خلافت میں فوت ہوئے،انہیں نے آپ کی نماز جنازہ ادا کی اور حضرت سلمان تو اہل بیت میں شمار ہیں،تین سو سال حضور کی تلاش میں پریشان سرگرداں رہے آخر کار پہنچ گئے،چٹائیاں بنا کر روزی کماتے اسی پر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع