30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ شمط کے لفظی معنی ہیں کچھ بال سفید ہوجانا کچھ بال سیاہ رہنا اسے اردو میں کھچڑی بال کہتے ہیں۔سر شریف میں چودہ بال سفید تھے،داڑھی شریف میں پانچ بال اور ریش بچی میں ایک بال سفید کل بیس بال شریف سفید ہوئے تھے اس کے متعلق اور بھی روایات ہیں۔
۲؎ یعنی آپ کے بالوں کا کھچڑی ہونا جب ظاہر ہوتا تھا جب کہ بال شریف بکھرے ہوئے ہوتے ورنہ ظاہر نہ ہوتا تھا جس سے معلوم ہوا کہ بہت تھوڑے بال سفید تھے۔
۳؎ حضور کی ڈاڑھی شریف پورا خط گھنے بال تھے۔حق یہ ہے کہ ایک مشت رہتی تھی،ایک مشت سے داڑھی کم کرنا ممنوع ہے،مشت سے زیادہ میں بہت اختلاف ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی داڑھی سینہ تک رہتی تھی،حضور غوث پاک کی داڑھی لمبی تھی،حضرت ابن عمر ایک مشت رکھتے تھے۔(اشعۃ اللمعات)
۴؎ یعنی جیسے تلوار سفید اور چمکدار ہوتی ہے ایسے ہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ انور چمکدار تھا مگر چونکہ اس تشبیہ میں دھوکہ ہوتا تھا کہ تلوار کی طرح لمبا ہو اس لیے اس کی تردید کردی گئی۔
۵؎ یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ کو تلوار سے تشبیہ نہ دو چاند سورج سے تشبیہ دو مگر حقیقت یہ ہے۔شعر
میں وہ شاعرنہیں جو چاندکہہ دوں ان کےچہرےکو میں ان کے کفش پا پر چاند کو قربان کرتاہوں
۶؎ یعنی چہرہ انور مائل بہ گولائی تھا نہ بالکل گول نہ لمبا لہذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں کہ لیس بہ کلثم۔
۷؎ یعنی مہر نبوت جسم شریف کے ہمرنگ تھی برص کی طرح بہت چٹی نہ تھی،یہ بہت ہی حسین معلوم ہوتی تھی حضور کا حسن اسی شعر میں مذکور ہے۔شعر
خوبی و شکل و شمائل حرکات و سکنات آنچہ خوباں ہمہ دارند تو تنہاداری
کس نیست در جہاں کہ زحسنت عجب نہ ماند ای درکمال حسن عجب ترزہر عجب
|
5780 -[5] وَعَن عبدِ الله بن سرجسٍ قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَكَلْتُ مَعَهُ خُبْزًا وَلَحْمًا أَوْ قَالَ: ثَرِيدًا ثُمَّ دُرْتُ خَلْفَهُ فَنَظَرْتُ إِلَى خَاتَمِ النُّبُوَّةِ بَيْنَ كَتِفَيْهِ عِنْدَ نَاغِضِ كَتِفِهِ الْيُسْرَى جُمْعًا عَلَيْهِ خيلال كأمثال الثآليل. رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت عبداللہ ابن سرجس سے فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور آپ کے ساتھ گوشت روٹی کھائی یا فرمایا ثرید کھایا ۱؎ پھر میں آپ کے پیچھے مڑ گیا تو میں نے حضور کی مہر نبوت دیکھی جو آپ کے دو کندھوں کے بیچ بائیں کندے کی گھنڈی کے پاس تھی۲؎ اکٹھی تھی جس پر کھرنڈ کی طرح تل تھے۳؎ (مسلم) |
۱؎ راوی کو شک ہے کہ ان صحابی نے گوشت روٹی فرمایا یا ثرید کہا۔ثرید گوشت کے شوربے میں گلائی ہوئی روٹی کہ روٹی بوٹی اور شوربا ایک جان کردی جاوے،حضور انور کو یہ بہت پسند تھا۔
۲؎ ناغض وہ نرم ہڈی جو کندھے کے درمیان دونوں کندھوں کے کناروں کے ملنے کی جگہ واقع ہے۔جمعا بمعنی مٹھی آتا ہے جس میں انگلیاں جمع ہوں یعنی یہ پارہ گوشت یا یہ تل الگ الگ نہ تھے بلکہ یکجا ملے ہوئے تھے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع