دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 8 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ہشتم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ہشتم

6255 -[60]

عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ سَبْعَةَ نُجَبَاءَ رُقَبَاءَ وَأُعْطِيْتُ أَنَا أَرْبَعَةَ عشرَة قُلْنَا: مَنْ هُمْ؟ قَالَ: " أَنَا وَابْنَايَ وَجَعْفَرٌ وَحَمْزَةُ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَمُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ وَبِلَالٌ وَسَلْمَانُ وَعَمَّارٌ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ وَأَبُو ذَر والمقداد. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله  صلی الله  علیہ و سلم نے کہ ہر نبی کے سات برگزیدہ حافظین ہوئے ۱؎  اور مجھے چودہ عطا فرمائے گئے ہم نے عرض کیا وہ کون ہیں فرمایا میں اور میرے دونوں بیٹے جعفر،حمزہ۲؎  ابوبکر،عمر، مصعب ابن عمیر، بلال، سلیمان،عمار،عبدالله  ابن مسعود،ابو ذر،مقداد۳؎ (ترمذی)

۱؎  نجباء جمع ہے نجیب کی بمعنی شریف یا منتخب اور برگزیدہ اور رقباء جمع ہے رقیب کی بمعنی حافظ و نگہبان یعنی ہر نبی کے ان کی امت میں سات امتی ان کے منتخب اور ان نبی کے پاسبان ہوتے تھے مگر ہم کو الله  تعالٰی نے ایسے برگزیدہ چودہ افراد عطا فرمائے۔

۲؎  جعفر ابن ابی طالب تو حضرت علی کے بھائی ہیں اور حضرت حمزہ ابن عبدالمطلب حضور انور کے چچا اور آپ کے رضاعی بھائی ہیں،حضرت ثویبہ رضی الله  عنہا نے حضور کو بھی دودھ پلایا ہے اور جناب حمزہ کو بھی۔آپ کی کنیت ابو عمارہ ہے، آپ کا خطاب اسد الله  ہے،نبوت کے دوسرے سال ایمان لائے،بدر میں شریک ہوئے اور احد میں شہید ہوئے،آپ کو وحشی ابن حرب نے شہید کیا،حضور انور نے سے دو یا چار سال پہلے پیدا ہوئے تھے۔(مرقات)

۳؎ معلوم ہوا کہ ان چودہ کو حضور صلی الله  علیہ و سلم سے ایک خاص قسم کا ایسا قرب حاصل ہے جو دوسروں کو حاصل نہیں دوسرے حضرات کو اور قسم کی خصوصیات حاصل ہیں۔اس چمن میں ہر پھول کا رنگ و بو علیحدہ ہے۔تمام احادیث پر نظر رکھنی چاہیے،علماء دین نے ساری احادیث کے مطالعہ سے جو مراتب حضرات صحابہ کے معلوم کیے ہیں ان پر اعتقاد رکھو کہ ان کی نظر ساری روایات پر تھی۔

6256 -[61]

وَعَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ قَالَ: كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ كَلَامٌ فَأَغْلَظْتُ لَهُ فِي الْقَوْلِ فَانْطَلَقَ عَمَّارٌ يَشْكُونِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ خَالِدٌ وَهُوَ يشكوه إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَجَعَلَ يُغْلِظُ لَهُ وَلَا يَزِيدُهُ إِلَّا غِلْظَةً وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاكِتٌ لَا يَتَكَلَّمُ فَبَكَى عَمَّارٌ وَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا تَرَاهُ؟ فَرَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَسَهُ وَقَالَ: «مَنْ عَادَى عَمَّارًا عَادَاهُ اللَّهُ وَمَنْ أَبْغَضَ عَمَّارًا أَبْغَضَهُ اللَّهُ» . قَالَ خَالِدٌ: فَخَرَجْتُ فَمَا كَانَ شَيْءٌ أَحَبَّ إِلَيَّ من رضى عمار فَلَقِيته بِمَا رَضِي فَرضِي

روایت ہے حضرت خالد ابن ولید سے ۱؎  فرماتے ہیں کہ میرے اور عمار ابن یاسر کے درمیان کچھ تلخ کلامی ہوگئی تو میں نے گفتگو میں ان پر بہت سختی کی۲؎ عمار میری شکایت کرنے رسول الله  صلی الله  علیہ و سلم کی خدمت میں گئے پھر خالد پہنچے۳؎ فرمایا عمار نبی صلی الله  علیہ و سلم سے شکایت کر رہے تھے تو خالد ان پر بہت سختی کرنے لگے۴؎  ان کی سختی بڑھتی گئی نبی صلی الله  علیہ و سلم خاموش تھے۵؎ کچھ کلام نہیں فرماتے تھے جناب عمار رونے لگے۶؎ بولے یارسول الله  کیا حضور خالد کو دیکھتے نہیں۷؎ تو نبی صلی الله  علیہ و سلم نے اپنا سر اٹھایا اور فرمایا جو عمار سے دشمنی کرے خدا اس سے دشمنی کرے اور جو عمار سے بغض رکھے خدا اس سے ناراض ہو۸؎ خالد فرماتے ہیں کہ پھر میں نکلا تو مجھے حضرت عمار کی خوشنودی سے زیادہ پیاری کوئی چیز نہ تھی۹؎ پھر میں نے ان سے ان کی رضا کا برتاؤ کیا تو وہ راضی ہوگئے۱۰؎

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن