دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 8 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ہشتم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ہشتم

۱؎  اس آیت کریمہ میں خطاب حضرات صحابہ سے ہے کہ اگر تم لوگ دین اسلام کی خدمت نہیں کرو گے تو تمہاری جگہ رب تعالٰی دوسری قوم سے خدمت دین لے لے گا،تم دین کے حاجتمند ہو دین تمہارا حاجت مند نہیں تب وہ سوال ہوا جو آگے مذکور ہے۔

۲؎  یعنی یارسول الله  وہ کون خوش نصیب ہیں جو ہمارے فیل ہوجانے کی صورت میں دین کو وہ سنبھالیں گے اور اس صورت میں وہ ہم سے اچھے ہوں گے اس قوم کا تعین فرمائیے۔

۳؎  اس کی شرح پہلے ہوچکی کہ ظاہر یہ ہے کہ اس فرمان عالی میں امام اعظم ابوحنیفہ اور ان کے شاگردوں بلکہ انکے معتقدین کی طرف اشارہ ہے کہ حضرت ابوحنیفہ حضرت سلمان فارسی کے ہم وطن اور ہم قوم یعنی فارسی النسل ہیں،امام اعظم اور ان کے شاگردوں نے دین کی وہ خدمات کیں جسے زمانہ یاد رکھے گا۔اب بھی دنیا میں دو تہائی مسلمان حنفی ہیں باقی ایک تہائی میں سارے لوگ حدیث و آیات سے ایسے مسائل مستنبط فرمائے کہ سبحان الله!

۴؎  فرس فرما کر حضور انور نے ظاہر فرمادیا کہ اس فرمان عالی میں اشارہ سارے عجم کی طرف نہیں ہے بلکہ اہل فارس مراد ہیں یعنی امام ابو حنیفہ کیونکہ صرف آپ ہی فارسی النسل ہیں آپ کے سوا کوئی امام فارسی نہیں،امام اعظم کے دادا حضرت زوطی حضرت علی کی محبت میں ایران چھوڑ کر کوفہ آبسے اس لیے آپ کوفی ہوئے۔

6254 -[59]

وَعَنْهُ قَالَ: ذُكِرَتِ الْأَعَاجِمُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَأَنَا بِهِمْ أَوْ بِبَعْضِهِمْ أَوْثَقُ مِنِّي بِكُمْ أَوْ بِبَعْضِكُمْ رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں کہ رسول الله  صلی الله  علیہ و سلم کے پاس عجمیوں کا ذکر کیا گیا تو رسول الله  صلی الله  علیہ و سلم نے فرمایا میں ان پر یا ان کے بعض پر زیادہ بھروسہ رکھتا ہوں جتنا مجھ کو تم پر یا تمہارے بعض پر بھروسہ ہے ۱؎ (ترمذی)

۱؎  بکم اور ببعضکم میں خطاب مطلقًا اہل عرب سے ہے یعنی بعض عجمی لوگ بعض عربیوں سے افضل ہوں گے ایمان میں تقویٰ میں،علم میں،عمل میں،اجتہاد میں لہذا اس فرمان سے نہ تو لازم آتا ہے کہ غیر صحابی صحابی سے افضل ہوجاویں اور نہ یہ کہ عجمی عربی سے افضل ہوں۔

مسئلہ: جنس عربی جنس عجمی سے افضل ہے مگر بعض عجمی افراد بعض عربی افراد سے افضل ہیں۔چنانچہ عجمی مؤمن عربی کافر سے، عجمی مخلص عربی منافق سے،عجمی عالم عربی غیر عالم سے،عجمی مجتہد عربی غیر مجتہد سے افضل ہے۔

مسئلہ: کوئی غیرصحابی کسی صحابی سے افضل بلکہ برابر نہیں ہو سکتا،تمام جہان کے علماء صلحاء اولیاء غوث و قطب ایک صحابی کے گرد قدم کو نہیں پہنچ سکتے،وہ حضرات صحبت یافتہ مصطفی صلی الله  علیہ و سلم ہیں،آسمان ہدایت کے تارے،اسلام کے ستون ہیں، ایمان کے معیار ہیں،تقویٰ کی کسوٹی ہیں رضی الله  عنہم اجمعین۔اس کی تحقیق ہماری کتاب امیر معاویہ میں دیکھو۔

الفصل الثالث

تیسری فصل

6255 -[60]

عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ سَبْعَةَ نُجَبَاءَ رُقَبَاءَ وَأُعْطِيْتُ أَنَا أَرْبَعَةَ عشرَة قُلْنَا: مَنْ هُمْ؟ قَالَ: " أَنَا وَابْنَايَ وَجَعْفَرٌ وَحَمْزَةُ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَمُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ وَبِلَالٌ وَسَلْمَانُ وَعَمَّارٌ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ وَأَبُو ذَر والمقداد. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله  صلی الله  علیہ و سلم نے کہ ہر نبی کے سات برگزیدہ حافظین ہوئے ۱؎  اور مجھے چودہ عطا فرمائے گئے ہم نے عرض کیا وہ کون ہیں فرمایا میں اور میرے دونوں بیٹے جعفر،حمزہ۲؎  ابوبکر،عمر، مصعب ابن عمیر، بلال، سلیمان،عمار،عبدالله  ابن مسعود،ابو ذر،مقداد۳؎ (ترمذی)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن