30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۲؎ یعنی ہم انصار کو سلام اس احترام کی وجہ سے بھیج رہے ہیں جو ان کا ہمارے دل میں ہے اور احترام کی وجہ ان کی یہ دو صفات ہیں تقویٰ پرہیزگاری اور مصیبتوں جہادوں میں صبر۔اعفہ جمع ہے عفیف کی بمعنی پاک دامن،صبر ص اور ب کے پیش سے جمع صابر کی۔
|
6252 -[57] وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ عَبْدًا لِحَاطِبٍ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْكُو حَاطِبًا إِلَيْهِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَيَدْخُلَنَّ حَاطِبٌ النَّار فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كذبت لَا يدخلهَا فَإِنَّهُ شهد بَدْرًا وَالْحُدَيْبِيَة» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت جابر سے کہ حاطب کا غلام نبی صلی الله علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا ۱؎ حاطب کی شکایت حضور سے کرتا تھا تو بولا یا رسول الله حاطب دوزخ میں جائیں گے۲؎ تب رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ تم نے جھوٹ کہا وہ دوزخ میں نہیں جائیں گے کیونکہ وہ بدر اور حدیبیہ میں حاضر ہوئے ہیں۳؎ (مسلم) |
۱؎ یہ حاطب وہ ہی حاطب ابن ابی بلتعہ ہیں جنہوں نے حضور انور کے ارادے کی خبر اہل مکہ کو بھیجی تھی جس کا واقعہ پہلے گزر چکا۔
۲؎ یا تو اس لیے حاطب دوزخ میں جائیں گے کہ انہوں نے مسلمانوں کی جاسوسی کفار کے لیے کی یا اس لیے کہ وہ مجھ پر بہت ظلم کرتے ہیں۔
۳؎ یعنی دوزخ میں نہیں جاسکتے کہ وہ غزوہ بدر اور بیعت الرضوان دونوں میں شریک ہوئے ہیں اور ان دونوں میں سے ایک میں شرکت کرنے والا بھی جنتی ہے،ان کا جاسوسی کا قصور رب تعالٰی نے معاف کردیا اور وہ تجھ پر ظلم نہیں کرسکتے جسے تو ظلم سمجھتا ہے وہ ظلم نہیں ہے۔خیال رہے کہ نبی کے صحابی ظالم نہیں ہوتے۔حضرت سلیمان کے صحابہ کے متعلق چیونٹی نے دوسری چیونٹیوں سے کہا تھا"لَا یَحْطِمَنَّکُمْ سُلَیۡمٰنُ وَ جُنُوۡدُہٗ وَ ہُمْ لَا یَشْعُرُوۡنَ"کہ تم کو وہ لوگ اپنے پاؤں سے کچل نہ دیں حالانکہ انہیں خبر نہ ہو۔معلوم ہوا کہ چیونٹی کا بھی عقیدہ ہے کہ نبی اور نبی کے صحابی ظالم نہیں ہوتے وہ چیونٹیوں پر بھی ظلم نہیں کرتے،اگر چیونٹی بھی ان کے پاؤں سے کچل جائے تو ان کی بے خبری بے توجہی کی وجہ سے کچل جائے گی۔
|
6253 -[58] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ: [وَإِنْ تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ ثُمَّ لَا يَكُونُوا أمثالكم] قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ ذَكَرَ اللَّهُ إِنْ تَوَلَّيْنَا اسْتُبْدِلُوا بِنَا ثُمَّ لَا يَكُونُوا أَمْثَالَنَا؟ فَضَرَبَ عَلَى فَخِذِ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ ثُمَّ قَالَ: «هَذَا وَقَوْمُهُ وَلَوْ كَانَ الدِّينُ عِنْدَ الثُّرَيَّا لَتَنَاوَلَهُ رِجَالٌ مِنَ الْفُرْسِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی کہ اگر تم منہ پھیرو گے تو رب دوسری قوم تمہارے سوا بدل لائے گا پھر وہ تم جیسے نہ ہوں گے ۱؎ صحابہ نے عرض کیا یارسول الله یہ لوگ کون ہیں جن کے متعلق الله نے ذکر فرمایا کہ اگر ہم منہ پھیریں تو وہ ہماری عوض بدلہ میں لائیں جائیں گے پھر وہ ہم جیسے نہ ہوں گے۲؎ تو حضور نے جناب سلمان فارسی کی ران پر ہاتھ مارا پھر فرمایا کہ یہ اور ان کی قوم ہے۳؎ اگر دین ثریا تارے کے پاس ہوتا تو فارس کے کچھ لوگ اسے پالیتے۴؎ (ترمذی) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع