دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 8 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ہشتم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ہشتم

6246 -[51]

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: لَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «يَا جَابِرُ مَا لي أَرَاك منكسراً» قلت يَا رَسُول الله اسْتشْهد أبي قتل يَوْم أحد وَتَرَكَ عِيَالًا وَدَيْنًا قَالَ أَفَلَا أُبَشِّرُكَ بِمَا لَقِي الله بِهِ أَبَاك قَالَ قُلْتُ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ مَا كَلَّمَ اللَّهُ أَحَدًا قَطُّ إِلَّا مِنْ وَرَاءِ حجاب وَأَحْيَا أَبَاك فَكَلمهُ كفاحا فَقَالَ يَا عَبْدِي تَمَنَّ عَلَيَّ أُعْطِكَ قَالَ يَا رَبِّ تُحْيِينِي فَأُقْتَلُ فِيكَ ثَانِيَةً قَالَ الرَّبُّ عز وَجل إِنَّه قد سبق مني أَنهم إِلَيْهَا لَا يرجعُونَ قَالَ وأنزلت هَذِهِ الْآيَةِ [وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا] الْآيَة. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ملے تو فرمایا اے جابر کیا وجہ ہے کہ میں تم کو دل شکستہ دیکھتا ہوں ۱؎  میں نے عرض کیا کہ میرے والد شہید ہوگئے اور بچے اور قرض چھوڑ گئے۲؎  فرمایا کیا میں تم کو اس کی بشارت نہ دوں جس سے اللہ نے تمہارے والد سے ملاقات کی ہے۳؎ میں نے عرض کیا ہاں یارسول اللہ فرمایا اللہ نے کسی سے بھی کبھی کلام نہ کیا مگر پردے کے پیچھے سے اور تمہارے والد کو زندہ کیا تو ان سے منہ در منہ کلام فرمایا۴؎ فرمایا اے میرے بندے مجھ سے تمنا کر میں تجھے دوں گا۵؎  انہوں نے عرض کیا اے رب مجھے زندہ کر تاکہ دوبارہ تیری راہ میں قتل کیا جاؤں۶؎ تو رب تعالٰی نے فرمایا کہ ہمارا قانون جاری ہوچکا ہے کہ وفات یافتہ لوٹائے نہ جائیں گے۷؎ تب یہ آیت اتری کہ جو اللہ کی راہ میں قتل کیے گئے انہیں مردہ نہ سمجھو۸؎ (ترمذی)

۱؎  حضور انور کا یہ سوال واقعہ غزوہ احد کے بعد کا ہے جیساکہ جواب سے معلوم ہو رہا ہے۔یہ سوال عالی اگلی کرم نوازی کی تمہید ہے اس کا یہ مطلب نہیں کہ حضور انور امت کے دکھ درد سے بے خبر ہیں،حضور کو ہر ایک کے ہر درد کی خبر ہے،یہ سوال ایسا ہی ہے جیسے رب تعالٰی نے موسیٰ علیہ السلام سے پوچھا تھا"وَمَا تِلْکَ بِیَمِیۡنِکَ یٰمُوۡسٰی"اے موسیٰ تمہارے ہاتھ میں کیا ہے یہ اگلے کلام کی تمہید تھی۔

۲؎  یعنی مجھ پر غم کے پہاڑ ٹوٹ پڑے ہیں باپ کا سایہ سر سے اٹھ گیا،قرض اور بہنوں کا بوجھ مجھ ناتجربہ کار پر پڑگیا اب میں کیا کروں۔

۳؎  یعنی اے جابر اپنے والد کے اخروی درجات سنو جس سے تمہارا غم غلط ہوجاوے ان فکروں سے تمہاری توجہ ہٹ جاوے،آخرت کی نعمت ادھر کا دھیان ایسا ٹیکا ہے جس سے دنیا کے رنج و غم و تکالیف محسوس نہیں ہوتے۔

۴؎  یعنی بعد موت رب تعالٰی شہداء سے کلام تو فرماتا ہے مگر آج تک اس نے اپنا دیدار کسی شہید کو نہیں دیا تمہارے والد پہلے وہ شہید ہیں جنہیں دیدار بھی دیا کلام بھی کیا لہذا تمہارے والد شہداء میں دوسرے شہیدوں سے افضل ہیں۔

مسئلہ: اس زندگی میں بلاواسطہ رب نے کلام کسی سے نہ کیا سواء موسیٰ علیہ السلام کے،بعد وفات قیامت سے پہلے کسی کو دیدار نہیں دیا سواء عبداللہ کے،اس زندگی میں کسی کو اپنا دیدار نہیں دیا سواء ہمارے حضور کے جو معراج میں عطا ہوا،بعد موت ہرشخص رب کا کلام سنے گا صدق عبد ی یا کذب عبدی یہ سننا قبر کے حساب کے بعد ہوگا اور مؤمن کو دیدار الٰہی قیامت میں ہوگا پھر جنت میں ہوا کرے گا۔

۵؎  یعنی رب تعالٰی نے ان کو اپنا دیدار بھی دیا اور بلاواسطہ کلام بھی اور کرم کا کیا۔معلوم ہوا کہ جو کچھ عالم ارواح میں ہورہا ہے حضور کی نظر مدینہ منورہ سے دیکھ رہی ہے اور جو کچھ وہاں گفتگو ہو رہی ہے حضور مدینہ منورہ سے سن رہے ہیں، جب لا مکان کے کام و کلام حضور یہاں دیکھ سن رہے ہیں تو یقینی بات ہے کہ ہر جگہ کے کام و کلام حضور سنتے دیکھتے ہیں کیونکہ مدینہ منورہ

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن