30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
6244 -[49] وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمِيرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لِمُعَاوِيَةَ: «اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا وَاهْدِ بِهِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ |
روایت ہے حضرت عبدالرحمن ابن ابی عمیرہ سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی کہ انہوں نے جناب معاویہ ۱؎ کے لیے فرمایا الٰہی انہیں ہدایت دینے والا ہدایت یافتہ بنا اور ان سے ہدایت دے۲؎ (ترمذی) |
۱؎ اس سے حضرت معاویہ ابن ابوسفیان مراد ہیں معاویہ ابن حکم یا معاویہ ابن جاہمہ مراد نہیں۔جب حدیث میں مطلقًا معاویہ آتا ہے تو آپ ہی مراد ہوتے ہیں۔
۲؎ اس دعا میں امیر معاویہ کو تین دعائیں دی گئیں: آپ لوگوں کو ہدایت دیں،خود بھی ہدایت پر رہیں،آپ مکمل و کامل ہدایت پر رہیں،ہدایت عامہ تو تمام صحابہ کرام کو حاصل ہے یہاں ہدایت سے مراد کوئی خاص ہدایت ہے حکومت،ملک رانی،فقہ وغیرہ کی ہدایت۔(مرقات)امام احمد نے بروایت عرباض ابن ساریہ سے روایت کی کہ حضور نے دعا کی الٰہی معاویہ کو کتاب اور حساب کا علم دے،انہیں عذاب سے بچالے،انہیں شہروں پر تسلط دے،دوسری روایت میں ہے کہ اے معاویہ جب تم بادشاہ بنو تو سخت گیر نہ ہونا نرمی کرنا۔(اشعہ)آپ قرشی اموی ہیں،آپ کی ماں ہند بنت عتبہ ہیں،حضور کے کاتب وحی یا کاتب خطوط رہے،اپنے بھائی یزید ابن ابوسفیان کے بعد شام کے حاکم ہوئے عمر فاروق کے زمانہ میں پھر آخر عمر تک یعنی چالیس سال حاکم رہے یعنی بیس سال حاکم چار سال عہد فاروقی میں،بارہ سال خلافت عثمانیہ میں،چار سال خلافت حیدری،پھر امام حسن سے صلح کے بعد بیس سال تک سلطان رہے،یہ صلح ۴۱ اکتالیس میں ہوئی اٹھتّر سال عمر پائی،رجب ۶۰ میں دمشق میں وفات ہوئی،آپ کے پاس حضور کا تہبند،چادر،قمیض،کچھ بال کچھ ناخن تھے،مرتے وقت وصیت کی کہ مجھے ان کپڑوں میں کفن دینا اور میری ناک اور منہ میں ناخن و بال رکھ دینا۔(مرقات)
|
6245 -[50] وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَسْلَمَ النَّاسُ وآمن عَمْرو بنُ الْعَاصِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وقا ل: هَذَا حَدِيث غَرِيب وَلَيْسَ إِسْنَاده بِالْقَوِيّ |
روایت ہے حضرت عقبہ ابن عامر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ لوگ تو اسلام لائے مگر عمرو ابن عاص ایمان لائے ۱؎ (ترمذی) اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے اس کی اسناد قوی نہیں۔ |
۱؎ یہاں لوگوں سے مراد فتح مکہ کے دن اسلام لانے والے لوگ ہیں کہ وہ لوگ اس وقت ڈر و خوف سے مسلمان ہوگئے بعد میں اللہ کی رحمت حضور کی کرم نوازیوں سے پختہ مؤمن بنے مگر حضور عمرو ابن عاص جب شاہ حبشہ نجاشی کے دربار میں پہنچے وہاں شاہِ حبشہ کے ایمان لانے کی کیفیت دیکھی تو وہاں سے مدینہ منورہ آئے اور نہایت شوق و ذوق سے ایمان لائے بغیر کسی خوف یا لالچ کے۔ایک بار حضور انور نے انہیں ایسے لشکر کا امیر بنایا جس میں حضرت صدیق وفاروق بھی تھے پہلے آپ کے دل میں حضور سے اور صحابہ کرام سے سخت عداوت تھی پھر حضور پر ایسے فدا اور قربان ہوئے کہ سبحان الله! خلافت فاروقی میں فاتح مصر آپ ہی ہیں،آپ فتح مکہ سے دو سال پہلے ایمان لائے اور حضور انور سے یہ شرط کرکے ایمان لائے کہ میرے سارے پچھلے گناہ بخش دیئے جاویں۔(مرقات و اشعہ)
|
6246 -[51] وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: لَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «يَا جَابِرُ مَا لي أَرَاك منكسراً» قلت يَا رَسُول الله اسْتشْهد أبي قتل يَوْم أحد وَتَرَكَ عِيَالًا وَدَيْنًا قَالَ أَفَلَا أُبَشِّرُكَ بِمَا لَقِي الله بِهِ أَبَاك قَالَ قُلْتُ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ مَا كَلَّمَ اللَّهُ أَحَدًا قَطُّ إِلَّا مِنْ وَرَاءِ حجاب وَأَحْيَا أَبَاك فَكَلمهُ كفاحا فَقَالَ يَا عَبْدِي تَمَنَّ عَلَيَّ أُعْطِكَ قَالَ يَا رَبِّ تُحْيِينِي فَأُقْتَلُ فِيكَ ثَانِيَةً قَالَ الرَّبُّ عز وَجل إِنَّه قد سبق مني أَنهم إِلَيْهَا لَا يرجعُونَ قَالَ وأنزلت هَذِهِ الْآيَةِ [وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا] الْآيَة. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ |
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ملے تو فرمایا اے جابر کیا وجہ ہے کہ میں تم کو دل شکستہ دیکھتا ہوں ۱؎ میں نے عرض کیا کہ میرے والد شہید ہوگئے اور بچے اور قرض چھوڑ گئے۲؎ فرمایا کیا میں تم کو اس کی بشارت نہ دوں جس سے اللہ نے تمہارے والد سے ملاقات کی ہے۳؎ میں نے عرض کیا ہاں یارسول اللہ فرمایا اللہ نے کسی سے بھی کبھی کلام نہ کیا مگر پردے کے پیچھے سے اور تمہارے والد کو زندہ کیا تو ان سے منہ در منہ کلام فرمایا۴؎ فرمایا اے میرے بندے مجھ سے تمنا کر میں تجھے دوں گا۵؎ انہوں نے عرض کیا اے رب مجھے زندہ کر تاکہ دوبارہ تیری راہ میں قتل کیا جاؤں۶؎ تو رب تعالٰی نے فرمایا کہ ہمارا قانون جاری ہوچکا ہے کہ وفات یافتہ لوٹائے نہ جائیں گے۷؎ تب یہ آیت اتری کہ جو اللہ کی راہ میں قتل کیے گئے انہیں مردہ نہ سمجھو۸؎ (ترمذی) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع