30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ حضرت ابو الدرداء کا نام عویمر ابن عامر ہے،انصاری خزرجی ہیں،درداء آپ کی بیٹی کا نام ہے،آپ بڑے عالم فقیہ تھے، ۳۲ھ بتیس میں دمشق میں وفات پائی۔(مرقات)
۲؎ یعنی علم دین یا علم حلال و حرام ان چار شخصوں سے تم کو بہ آسانی اور بہ فراوانی حاصل ہوگا۔
۳؎ اس میں حضرت عبداللہ ابن سلام کی تعریف ہے کہ آپ یہودی تھے،پھر طلب حق اور طلب علم میں اپنی رضا و رغبت سے حضور انور کو دیکھتے ہی ایمان لائے۔
۴؎ اس فرمان عالی کی چند شرحیں ہوسکتی ہیں: (۱)حضرت عبداللہ ابن سلام عشرہ مبشرہ میں سے ایک کی مثل ہیں درجات اور فضائل میں(۲)آپ جنت میں جاتے وقت دسویں ہوں گے کہ نوجنتی آپ سے جنت میں پہلے داخل ہوں گے دسویں آپ (۳)جنت میں مختلف قسم کی جماعتیں ترتیب وار جائیں گی آپ دسویں جماعت میں ہوں گے کہ نو جماعتیں آپ سے پہلے داخل ہوں گی دسویں جماعت آپ کی داخل ہوگی(۴)نو مسلم یہودی جو جنت میں جائیں گے ان میں سے دسویں نمبر میں آپ ہوں گے (مرقات،اشعہ)لہذا اس پر یہ اعتراض نہیں کہ آپ تو عشرہ مبشرہ میں سے نہیں ہیں پھریہ فرمان عالی کیونکر درست ہوا۔
|
6241 -[46] وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوِ اسْتَخْلَفْتَ؟ قَالَ: «إِنِ اسْتَخْلَفْتُ عَلَيْكُمْ فَعَصَيْتُمُوهُ عُذِّبْتُمْ وَلَكِنْ مَا حَدَّثَكُمْ حُذَيْفَةُ فَصَدِّقُوهُ وَمَا أقرأكم عبد الله فاقرؤوه» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ |
روایت ہے حضرت حذیفہ سے فرماتے ہیں لوگوں نے عرض کیا یارسول اللہ آپ کسی کو خلیفہ بنادیتے ۱؎ فرمایا اگر میں تم پر خلیفہ مقرر کردوں پھر تم اس کی نافرمانی کرو تو عذاب میں گرفتار ہوجاؤ گے۲؎ لیکن جو تم کو حذیفہ خبر دیں اس کو سچ مانو۳؎ اور جو تم کو عبداللہ پڑھائیں تم پڑھو۴؎ (ترمذی) |
۱؎ پہلے تو حضرات صحابہ نے انتظار کیا کہ حضور انور خود ہی کسی کو اپنا خلیفہ بنادیں مگر جب حضور انور نے یہ نہ کیا تو خود زبانی عرض کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کسی کو اپنا خلیفہ نامزد فرمادیں۔
۲؎ اس ارشاد عالی کے دو معنی ہوسکتے ہیں: ایک یہ کہ تم میرے نامزد خلیفہ کی میرے بعد نافرمانی کرو تو تم پر دنیا میں عذاب آجاوے گا،دوسرے یہ کہ تم میرے نامزد کرنے کی مخالفت کرو تو تم پر عذاب آجاوے گا۔اس سے معلوم ہوا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حضور انور نے خلیفہ مقرر نہ کیا ورنہ امیر معاویہ اور ان کے ساتھیوں یوں ہی حضرت عائشہ صدیقہ اور ان کے ہمراہیوں پر دنیا میں عذاب آجاتا کہ یہ حضرات ان کے مخالف رہے۔اس سے پر لطف بات یہ معلوم ہوئی کہ لوگوں نے خدا تعالٰی کے نامزد کردہ نبی یعنی حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی مخالفت کی ان پر دنیا میں عذاب نہ آیا لیکن اگر حضور کے نامزد کردہ خلیفہ کی مخالفت کرتے تو عذاب آجاتا،حضور کا انتخاب فرمانا حضور کی نامزدگی بہت اہم ہے۔
ادب گاہے است زیر آسمان از عرش نازک تر نفس گم کردہ می آید جنید و بایزید ایں جا
صوفیاء فرماتے ہیں۔ مصرع باخدا دیوانہ و با مصطفی ہشیار باش
بعض مجذوبوں نے جوش میں انا الله کہہ دیا مگر انا محمد کہنے کی جرأت کسی میں نہ ہوئی۔
۳؎ یعنی میرے بعد جو بات حضرت حذیفہ کہیں اسے سچ ماننا،جسے وہ خلیفہ کہیں وہ خلیفہ برحق ہے اس لیے حضور انور نے خلافت کے مطالبہ پر یہ ارشاد فرمایا اور ظاہر ہے حضرت حذیفہ نے جناب صدیق و فاروق کی خلافت کا اقرر کیا لہذا وہ خلیفہ برحق
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع