30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
6236 -[41] وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا خُيِّرَ عَمَّارٌ بَيْنَ أمرينِ إِلا اخْتَار أرشدهما» رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ |
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ عمار کو کبھی دو چیزوں میں اختیار نہیں دیا گیا مگر آپ نے ان میں سے سخت ترین کو اختیار کیا ۱؎ (ترمذی) |
۱؎ مشکوۃ شریف کے بعض نسخوں میں بجائے اشدھما کے ارشدھما ہے مگر عام نسخوں میں اشدھما یعنی سخت ترین۔مطلب یہ ہے کہ حضرت عمار کے سامنے جب ایسے دو کام پیش کیے گئے جن میں سے ایک جائز تھا مگر آسان اور دوسرا بہتر تھا مگر دشوار تو آپ نے بہتر اور مشکل کو اختیار فرمایا،یہ عمل ان کے اپنے ذاتی معاملہ میں تھا مگر دوسروں کے لیے آپ نے ہمیشہ آسان عمل اختیار کیا۔لہذا یہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں کہ عمار کو جب دو کاموں کا اختیار دیا گیا تو انہوں نے آسان کو اختیار فرمایا یعنی دوسروں کے لیے۔خیال رہے کہ مشکل ترین اور بہترین عمل اختیار کرنا طریقت ہے اور آسان و جائز کام کو اختیار کرنا شریعت ہے۔حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کو جب بھی اعلیٰ مستحب اور جائز آسان کام میں اختیار دیا گیا تو حضور نے ہمیشہ آسان عمل اختیار فرمایا یہ اپنی امت پر کرم نوازی تھی۔
|
6237 -[42] وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: لَمَّا حُمِلَتْ جِنَازَةُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ قَالَ الْمُنَافِقُونَ: مَا أَخَفَّ جِنَازَتَهُ وَذَلِكَ لِحُكْمِهِ فِي بَنِي قُرَيْظَةَ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «إِنَّ الْمَلَائِكَة كَانَت تحمله» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ |
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ جب سعد ابن معاذ کا جنازہ اٹھایا گیا تو منافق بولے کہ ان کا جنازہ کتنا ہلکا ہے یہ ہلکا پن ان کے بنی قریظہ میں فیصلہ کی وجہ سے ہے ۱؎ یہ خبر نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو پہنچی تو فرمایا کہ یہ جنازہ فرشتے اٹھائے ہوئے تھے۲؎ (ترمذی) |
۱؎ ان منافقوں نے یہ سمجھا کہ جنازہ ہلکا ہونے کی وجہ یہ ہے کہ ان کے پاس نیک اعمال نہیں یا بہت کم ہیں نیکیوں کا وزن ہوتا ہے تو بولے کہ چونکہ انہوں نے بنی قریظہ کا پنچ بننے پر فیصلہ یہ کیا تھا کہ ان کے جوان قتل کردیئے جاویں اور بچے چھوڑ دیئے جاویں یہ ظلم تھا جس کی وجہ سے ان کی نیکیاں برباد ہوگئیں اور جنازہ ہلکا ہوگیا حالانکہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے اس فیصلہ کے وقت فرمایا تھا کہ تم نے فرشتہ کا حکم دیا،حضور انور جسے عدل فرمادیں اسے یہ بدنصیب ظلم کہتے تھے۔
۲؎ یعنی حضرت سعد کا جنازہ تمہارے کندھوں پر برائے نام تھا حقیقتًا تو اسے فرشتے اٹھائے ہوئے تھے۔خیال رہے کہ نیک اعمال میں بھی وزن ہوتا ہے اور برے اعمال میں بھی مگر نیکی کا وزن اوپر کو جاتا ہے کہ اس میں نورانیت ہے اور گناہوں کا وزن نیچے آتا ہے کہ اس میں مادیت اور ظلمانیت ہے،کثیف چیز نیچے گرتی ہے لطیف اوپر جاتی ہے،رب فرماتا ہے"اِلَیۡہِ یَصْعَدُ الْکَلِمُ الطَّیِّبُ"یہ ہی قول صوفیاء کا ہے،دوسری روایت میں ہے کہ حضرت سعد کے جنازہ پر ستر ہزار فرشتے حاضر ہوئے۔
|
6238 -[43] وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٌو قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَا أَظَلَّتِ الْخَضْرَاءُ وَلَا أَقَلَّتِ الْغَبْرَاءُ أَصْدَقَ مِنْ أبي ذَر» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ |
روایت ہے حضرت عبداللہ ابن عمرو سے فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ آسمان نے کسی ا یسے پر سایہ نہ کیا اور نہ زمین نے اپنے اوپر ایسے کو اٹھایا ۱؎ جو ابوذر سے زیادہ سچا ہو ۲؎ (ترمذی) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع