30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۳؎ یعنی حضرت عبداللہ ابن مسعود جس چیز کا تم کو عہد کریں اور تم کو جس چیز کی تاکید کریں اس پر ضرور عمل کرو۔اس سے معلوم ہوا کہ حضرت ابن مسعود فقہاء صحابہ میں سے ہیں،ہمارے امام صاحب آپ کے پیرو کار ہیں۔چنانچہ جب صدیق اکبر کی خلافت کا مسئلہ پیش آیا تو پہلے آپ نے ہی فرمایا کہ یہ خلافت بالکل درست ہے کیونکہ صدیق اکبر کو تو ہمارے دین کا پیشوا خود حضور انور بنا گئے پھر انکے سوا ہماری دنیا کا پیشوا کون ہوسکتا ہے۔
۴؎ اس میں اشارۃً بتایا گیا کہ حضور انور جناب ابن مسعود کو خلافت راشدہ کی خبر دے چکے تھے انہوں نے اس خلافت کی تائید و تصدیق کی۔اس کی تائید اس روایت سے ہوتی ہے کہ حضور انور نے فرمایا کہ اگر میں کسی کو اپنا خلیفہ بنادوں پھر تم اس کی نافرمانی کرو تو تم پر عذاب آجائے گا لیکن جوتمہیں حذیفہ خبر دیں اس کی تصدیق کرو،دیکھو وہاں حضرت حذیفہ کی تصدیق کو خلافت کے مسئلہ سے ملایا گیا پھر حضرت حذیفہ نے خبر دی کہ حضور نے فرمایا ہے کہ میرے بعد ابوبکر و عمر کی پیروی کرنا۔(مرقات)
|
6231 -[36] وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:«لَوْ كُنْتُ مُؤَمِّرًا مِنْ غَيْرِ مَشُورَةٍ لَأَمَّرْتُ عَلَيْهِمُ ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ» رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ |
روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ اگر میں کسی کو بغیر مشورہ امیر بناتا تو لوگوں پر ام عبد کے فرزند کو بناتا ۱؎ (ترمذی،ابن ماجہ) |
۱؎ اس حدیث میں امارت سے مراد کسی خاص لشکر کا امیر بنانا ہے یا کسی موقعہ پر اپنی حیات شریف میں آپ کو اپنا خلیفہ بنانا ہے جیسے کہ غزوہ تبوک میں تشریف لے جاتے وقت حضرت علی رضی اللہ عنہ کو مدینہ منورہ کا خلیفہ بنایا تھا۔اس سے مراد خلافت معروفہ نہیں کہ اس میں قرشی ہونا ضروری ہے غیر قرشی خلیفہ نہیں ہوسکتا اور حضرت ابن مسعود قرشی نہیں ہیں۔(لمعات،مرقات،اشعہ)
|
6232 -[37] وَعَنْ خَيْثَمَةَ بْنِ أَبِي سَبْرَةَ قَالَ: أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَسَأَلْتُ اللَّهَ أَنْ يُيَسِّرَ لِي جَلِيسًا صَالِحًا فَيَسَّرَ لِي أَبَا هُرَيْرَةَ فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ: إِنِّي سَأَلْتُ اللَّهَ أَنْ يُيَسِّرَ لِي جَلِيسًا صَالِحًا فَوُفِّقْتَ لِي فَقَالَ: مِنْ أَيْنَ أَنْتَ؟ قُلْتُ: مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ جِئْتُ أَلْتَمِسُ الْخَيْرَ وَأَطْلُبُهُ. فَقَالَ: أَلَيْسَ فِيكُمْ سَعْدُ بْنُ مَالِكٍ مُجَابُ الدَّعْوَةِ؟ وَابْنُ مَسْعُودٍ صَاحِبُ طَهُورِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَعْلَيْهِ؟ وَحُذَيْفَةُ صَاحِبُ سِرِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ وَعَمَّارٌ الَّذِي أَجَارَهُ اللَّهُ مِنَ الشَّيْطَانِ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ وَسَلْمَانُ صَاحِبُ الْكِتَابَيْنِ؟ يَعْنِي الْإِنْجِيلَ وَالْقُرْآنَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ |
روایت ہے حضرت خیثمہ ابن ابی سبرہ سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ میں مدینہ منورہ آیا میں نے اللہ سے دعا کی کہ مجھے نیک ہم نشین میسر فرمائے تو اس نے میرے لیے جناب ابوہریرہ میسر فرمائے۲؎ میں ان کے پاس بیٹھا میں نے کہا کہ میں نے اللہ سے دعا کی تھی کہ وہ مجھے کوئی نیک ہم نشین میسر کرے تو مجھے آپ دیئے گئے۳؎ فرمایا تم کہاں کے ہو میں نے کہا کوفے والوں میں سے ہوں میں یہاں بھلائی تلاش کرنے اسے حاصل کرنے آیا ہوں۴؎ تو فرمایا کیا تم میں سعد ابن مالک نہیں جو مقبول الدعاء ہیں۵؎ اور ابن مسعود نہیں جو حضور کی طہارت شریف کے منتظم اور نعلین پاک والے ہیں۶؎ اور حذیفہ نہیں جو حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے رازدان ہیں اور کیا عمار نہیں جنہیں اللہ تعالٰی نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی زبان پر شیطان سے امان دی اور کیا سلمان نہیں جو دو کتابوں یعنی انجیل اور قرآن والے ہیں۷؎ (ترمذی) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع