30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۲؎ انتم میں وہ دونوں نبی بھی داخل ہیں جو زمین پر ہی زندہ ہیں یعنی حضرت خضر و الیاس علیہم السلام،عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ ہیں اور ادریس علیہ السلام جنت میں زندہ ہیں وہ اس سے خارج ہیں کہ وہ زمین والے نہیں۔خیال رہے کہ افضل صحابہ خلفاء راشدین ہیں،پھر عشرہ مبشرہ،پھر بدر والے،پھر حدیبیہ والے۔(ازمرقات)یہ دونوں نبی اس بیعت میں شامل تھے۔
|
6229 -[34] وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ يَصْعَدِ الثَّنِيَّةَ ثَنِيَّةَ الْمُرَارِ فَإِنَّهُ يُحَطُّ عَنْهُ مَا حُطَّ عَنْ بَنِي إِسرائيل».وَكَانَ أَوَّلَ مَنْ صَعِدَهَا خَيْلُنَا خَيْلُ بَنِي الْخَزْرَجِ ثُمَّ تَتَامَّ النَّاسُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُلُّكُمْ مَغْفُورٌ لَهُ إِلَّا صَاحِبَ الْجَمَلِ الْأَحْمَرِ» .فَأَتَيْنَاهُ فَقُلْنَا: تَعَالَ يَسْتَغْفِرْ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَأَنْ أَجِدَ ضَالَّتِي أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ يَسْتَغْفِرَ لِي صَاحِبُكُمْ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَذَكَرَ حَدِيثَ أَنَسٍ قَالَ لِأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ: «إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ» فِي «بَابٍ» بعدَ فَضَائِل الْقُرْآن |
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ اس گھاٹی پر کون چڑھے گا یعنی مرار گھاٹی پر ۱؎ اس سے وہ گناہ معاف ہوں گے جو بنی اسرائیل سے معاف ہوئے تھے۲؎ تو اس پر پہلے جو چڑھا وہ ہمارے سوار تھے بنی خزرج پھر لوگ تانتا باندھ کر چڑھے۳؎ پھر رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ تم سب کی بخشش ہوگئی سواء اس سرخ اونٹ والے کی۴؎ تو ہم اس کے پاس پہنچے ہم نے اس سے کہا آتیرے لیے رسول الله صلی الله علیہ و سلم دعاء مغفرت فرما دیں۵؎ وہ بولا کہ میرا اپنی گمی چیز پالینا تمہارے صاحب کی دعاء مغفرت سے مجھے زیادہ پیارا ہے ۶؎(مسلم)حضرت انس کی حدیث کہ حضور نے ابی ابن کعب سے فرمایا کہ الله نے مجھے حکم دیا کہ میں تمہارے سامنے قرآن پڑھوں ۷؎ فضائل قرآن کے بعد باب میں ذکر کردی گئی ۸؎ |
۱؎ مرار میم کے پیش یا کسرہ یا فتحہ سے ایک پہاڑی ہے بہت سخت اور خاردار۔راہِ حدیبیہ جاتے ہوئے حضور انور نے صحابہ کو اس پہاڑی پر چڑھنے کی رغبت دی تاکہ آس پاس کا حال دیکھ لیں کہیں کفار مکہ گھات میں نہ بیٹھے ہوں۔(اشعہ) اس چڑھنے پر بڑی بخشش کا وعدہ فرمایا۔
۲؎ یہاں معاف ہونے سے مراد معاف ہونے کا وعدہ ہے اور اشارہ ہے اس آیت کریمہ کی طرف"ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَّقُوۡلُوۡا حِطَّۃٌ نَّغْفِرْلَکُمْ خَطٰیٰکُمْ"بنی اسرائیل نے حکم الٰہی نہ مانا کہ بجائے حطۃ کے حنطۃ کہا ان پر عذاب آگیا۔اس کا واقعہ ہماری تفسیرنعیمی پارہ اول اسی آیت کی تفسیر میں دیکھو۔
۳؎ لہذا یہ سب لوگ جنتی ہوئے مگر بنی خزرج اول درجے کے جنتی اسی لیے ان کا ذکر علیحدہ فرمایا۔
۴؎ یہ سرخ اونٹ والا عبدالله ابن ابی منافق تھا یہ راہ ہی میں رہ گیا،صلح حدیبیہ میں شریک نہیں ہوا تھا۔اس سے معلوم ہوا کہ حضور انور ہر ایک کے انجام سے خبردار ہیں جانتے ہیں کہ کون قابلِ بخشش ہے کون نہیں۔
۵؎ حضرات صحابہ کرام کا اس کے پاس جانا اسے حاضری بارگاہ عالی کی رغبت دینا اس فرمان عالی کے اظہار اور اس کی منافقت دکھانے کے لیے تھا کہ واقعی وہ بخشش کے قابل نہیں،حضور انور نے بالکل درست فرمایا ہے وہ حضرات حضور کی خبر میں شک یا تردد کی وجہ سے نہیں گئے تھے اب تک یہ چھپا ہوا تھا آج اس کی پردہ دری ان حضرات کے اس واقعہ سے ہوئی۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع