30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۲۱؎ اس آیت میں رب تعالٰی نے ان حضرات خصوصًا حضرت حاطب کو الذین امنوا سے خطاب فرمایا۔معلوم ہوا کہ ان سے یہ جو کچھ سرزد ہوا وہ کفر نہ تھا۔خیال رہے کہ بدر والوں سے اخروی مغفرت کا وعدہ ہے دنیاوی سزا انہیں مل سکتی ہے۔چنانچہ نبی صلی الله علیہ و سلم نے حضرت مسطح ابن اثاثہ کو تہمت کی سزا اسی کوڑے جاری فرمائی جب وہ حضرت عائشہ صدیقہ کی تہمت میں شریک ہوگئے حالانکہ وہ بدری تھے۔خیال رہے کہ حضرت حاطب نے اپنے اس عمل سے حضور صلی الله علیہ و سلم کو تکلیف دینے کا خیال تک نہ کیا تھا ورنہ کفر ہوتا انہوں نے اپنے سے کفار کی اذیت دفع کرنے کی کوشش کی تھی،ان کا خیال تھا اس سے حضور انور کو کوئی نقصان نہ پہنچے گا مکہ معظمہ فتح ہوکر رہے گا۔(مرقات)
|
6226 -[31] وَعَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ قَالَ: جَاءَ جِبْرِيلُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «مَا تَعُدُّونَ أَهْلَ بَدْرٍ فِيكُمْ» . قَالَ:«مِنْ أَفْضَلِ الْمُسْلِمِينَ» أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا قَالَ: «وَكَذَلِكَ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا مِنَ الْمَلَائِكَةِ». رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ |
روایت ہے حضرت رفاعہ ابن رافع سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ حضرت جبریل نبی صلی الله علیہ و سلم کی خدمت میں آئے ۲؎ عرض کیا کہ آپ لوگ اپنے میں بدر والوں کو کیسا شمار کرتے ہیں۳؎ فرمایا مسلمانوں میں بہترین یا اس طرح کی اور بات کہی۴؎ وہ بولے کہ یوں ہی فرشتوں میں وہ فرشتے جو بدر میں حاضر ہوئے ۵؎ (بخاری) |
۱؎ آپ صحابی ہیں،آپ کی کنیت ابو معاذ تھی،انصاری ہیں،بدرواحد اور سارے غزوات میں شریک ہوئے،جنگ جمل و صفین میں حضرت علی کے ساتھ تھے،امیر معاویہ کی سلطنت کی ابتداء میں وفات پائی۔(مرقات)
۲؎ غالبًا حضور انور صلی الله علیہ و سلم نے یہ واقعہ حضرات صحابہ سے بیان کیا ہوگا انہوں نے حضور سے سن کر روایت کیا اور ہوسکتا ہے کہ ان حضرات نے حضرت جبریل کو حاضر ہوتے ہوئے یہ عرض کرتے سنا ہو اور اگرچہ حضرت جبریل شکل انسانی میں تھے مگر اس گفتگو سے یہ حضرات پہچان گئے ہوں کہ آپ جبریل ہیں۔
۳؎ یعنی یارسول الله حضور اور صحابہ کرام اہلِ بدر کو اپنے مؤمنوں میں سے کس درجہ کا سمجھتے ہیں۔تعدون میں خطاب حضور انور اور صحابہ کرام سے ہے اور ما فرمانا نہایت ہی موزوں ہے،یہاں من کی جگہ نہیں ہے ما بمعنی کیف ہے یا ما درجہ کے لیے ہے۔
۴؎ اس جواب شریف سے معلوم ہوا غزوہ بدر میں شریک ہونے والے حضرات ان صحابہ سے افضل ہیں جو شریک نہ ہوئے۔خیال رہے کہ حضرت عثمان غنی بدر میں حکمًا شریک تھے کہ ان کے لیے ان کا گھر میدان بدر بنا دیا تھا کیونکہ وہ حضور انور کے حکم سے گھر میں رہے جناب رقیہ بنت رسول الله کی تیمار داری کے لیے حضور جسے جو چاہیں بنادیں،اگر چاہیں تو گجرات کو مدینہ بنا دیں،ہر مؤمن کی قبر ان شاءالله مدینہ ہوگی۔شعر
بنادو میرے سینہ کو مدینہ نکالو بحر غم سے یہ سفینہ
۵؎ پانچ ہزار فرشتے بدر میں مسلمانوں کی مدد کے لیے آئے تھے یہ دوسرے فرشتوں سے افضل ہیں۔معلوم ہوتا ہے کہ ان میں حضرت میکائیل و اسرافیل علیہم السلام بھی ہوں گے۔
|
6227 -[32] وَعَنْ حَفْصَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:«إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ لَا يَدْخُلَ النَّارَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ أَحَدٌ شَهِدَ بَدْرًا وَالْحُدَيْبِيَةَ» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَيْسَ قَدْ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى:[وَإِنْ مِنْكُمْ إِلَّا واردها] قَالَ: " فَلَمْ تَسْمَعِيهِ يَقُولُ:[ثُمَّ نُنَجِّي الَّذِينَ اتقَوا]"وَفِي رِوَايَةٍ:«لَا يَدْخُلُ النَّارَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ مِنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ أَحَدُ الَّذِينَ بَايَعُوا تحتهَا» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت حفصہ ۱؎ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ امید کرتا ہوں کہ جو بدر یا حدیبیہ میں حاضر ہوا وہ ان شاءالله دوزخ میں نہ جاوے گا ۲؎ میں بولی یا رسول الله کیا رب تعالٰی نے یہ نہ فرمایا کہ تم میں کوئی نہیں مگر دوزخ پر ضرور وارد ہوگا۳؎ فرمایا تو کیا تم نے نہیں سنا کہ فرماتا ہے پھر ہم پرہیزگاروں کو نجات دیں گے۴؎ اور ایک روایت میں ہے کہ ان شاءالله کوئی وہ شخص جس نے درخت کے نیچے بیعت کی شجرہ والوں میں سے وہ دوزخ میں نہ جائے گا ۵؎(مسلم) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع