دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 8 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ہشتم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ہشتم

۱۲؎  یعنی سارے مہاجرین مکہ کی کفار مکہ سے قرابتداریاں اور ان مہاجرین کے عزیز و اقارب مال گھر بار مکہ معظمہ میں ہیں کفار مکہ ان قرابت داریوں کی وجہ سے ان مہاجرین کے عزیزوں مال گھر بار کو چھیڑتے نہیں بلکہ ایک طرح کی حفاظت ہی کرتے ہیں ان سب کے گھر بار بال بچے عزیز و اقارب وہاں محفوظ ہیں۔

۱۳؎ یعنی میرے عزیزواقارب گھر بار بھی مکہ معظمہ میں ہیں مگر میری کفار مکہ سے قرابت کوئی نہیں میں نے چاہا کہ ان پر یہ احسان کردوں کہ مسلمانوں کے ارادے کی انہیں خبر دے دوں وہ اگرچہ کافر ہیں مگر احسان فراموش نہیں۔شاید اس احسان کی وجہ سے وہ میرے گھر بار وغیرہ کی حفاظت کریں حاطب نے فتح مکہ کی تیاریوں کی کفار کو خبر دی تھی کہ ہوشیار ہوجاؤ مکہ معظمہ پر مسلمان حملہ کرنے والے ہیں۔

۱۴؎ یہ جملہ پہلے کلام کی تاکید یا تفسیر ہے یعنی نہ تو میں اسلام سے پھر گیا ہوں نہ کفر سے راضی ہوا ہوں،نہ کفار کا غلبہ چاہتا ہوں نہ مسلمانوں کی مغلوبیت سے راضی ہوں۔

۱۵؎ یعنی حاطب جو زبان سے کہہ رہے ہیں وہ ہی ان کے دل میں ہے واقعی وہ ہیں مسلمان یہ حرکت ان سے غلط فہمی کی بنا پر ہوگئی۔

۱۶؎  یعنی یارسول الله اگرچہ حاطب ہیں تو مسلمان حضور نے ان کے ایمان کی تصدیق فرمادی مگر انہوں نے کام منافقون کا سا کیا ہے،مجھے اجازت دے دیں میں قتل کردوں تاکہ دوسروں کو آئندہ جاسوسی کی ہمت نہ پڑے ان کا قتل سیاسی اور ملکی انتظام کے لیے مناسب ہے،حضرت عمر نے حضور انور کی نعوذ بالله تردید نہ کی نہ حاطب کو عقیدے کامنافق مانا بلکہ سیاسی طور پر قتل کرنا چاہا اسی لیے تو حضور سے اجازت مانگی اگر وہ حاطب کو واقعی جاسوس سمجھتے تو بغیر پوچھے ہی انہیں قتل کردیتے،نیز حضور صلی الله علیہ و سلم نے بھی حضرت عمر پر عتاب نہ کیا یہ نہ فرمایا کہ جب میں انہیں مؤمن کہہ رہا ہوں تو تم انہیں منافق کیوں کہتے ہو لہذا حدیث بالکل واضح ہے۔خیال رہے کہ حضور کے زمانہ پاک میں منافقین کو قتل نہیں کیا جاتا تھا مگر جب ان کا کفر یا دینی نقصان ظاہر ہوتا تو وہ قابل قتل ضرور ہوجاتے تھے۔جاسوسی تو وہ جرم ہے جس سے مسلمان کا قتل بھی جائز ہے۔بعض شارحین نے فرمایا کہ حضرت عمر کا اجازت قتل مانگنا حضور انور کے اس فرمان عالی سے پہلے تھا روایت کے الفاظ میں تقدیم تاخیر ہے پہلی بات مرقات نے فرمائی دوسری بات اشعۃ اللمعات نے۔

۱۷؎  لہذا ان کا احترام کرو حاضرین بدر واجب الاحترام ہیں ان میں کوئی منافق یا کافر نہ تھا نہ ہے نہ ہوسکتا ہے۔

۱۸؎ حضور انور کا شاید فرمانا بھی یقین کی بنا پر ہوتا ہے،حضور کا شاید ہمارے یقین سے بڑھ کر ہے۔شاید اس لیے فرمایا کہ اہل بدر اعمال سے بے نیاز نہ ہوجاویں(اشعہ)یا لعل فرمانا حضرت عمر کے لحاظ سے ہے جیسے رب بندوں سے فرماتا ہے"لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوۡنَ"۔(مرقات)

۱۹؎  اس جملہ کی شرح فضائل عثمان ابن عفان کے باب میں عرض کی جاچکی ہے کہ اس فرمان عالی کا مقصد یہ نہیں ہے کہ اہلِ بدر کو گناہوں یا کفروشرک کی اجازت دے دی گئی بلکہ مقصد یہ ہے کہ رحمت الٰہی تمہارے شاملِ حال رب کی دستگیری تمہاری دامن گیر ہے جو چاہو کرو،تم وہ کام کرسکو گے ہی نہیں جو دوزخ کا ذریعہ ہو،جن کے دلوں پر رب کی رحمت ہووہ دل گناہوں کی طرف مائل ہی نہیں ہوسکتا جیسے پرندہ کے پر کاٹ کر کہا جائے کہ تو جہاں چاہے اڑتا پھر۔

۲۰؎ یہ گزشتہ فرمان کی دلیل ہے یعنی جنت تمہارے لیے میں نے واجب کردی اب تم دوزخ والے کام نہیں کرسکتے لہذا اے عمر جناب حاطب کا یہ عمل کفر و شرک یا گناہ والا نہیں ہوسکتا یہ غلط فہمی سے حاطب نے کیا ہے لہذا ان سے کچھ نہ کہو۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن