30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بھی اللہ کے اور مراد بھی،یوں ہی آپ طالب بھی ہیں مطلوب بھی،یوں ہی آپ احمد بھی محمود بھی،حبیب بھی ہیں محبوب بھی۔(مرقات)
۳؎ حضور سورج ہیں دوسرے انبیاء چاند تارے شمع تھے اور کفر تاریکی ہے اگرچہ تاریکی کو چراغ چاند ستارے بھی دور کرتے ہیں مگر وہ رات کو دن نہیں بناتے سورج رات کو دن بنادیتا ہے،نیز چراغ وغیرہ ایک محدود جگہ میں روشنی کرتے ہیں سورج ساری زمین کو منور کردیتا ہے اس لیے صرف حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا نام ماحی ہوا،نیز حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے دنیا میں اندھیرا ہی تھا جو حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے دور کیا،نیز حضور ہم گنہگاروں کے گناہوں کو،محجوبوں کے حجاب کو دور کرتے ہیں۔
۴؎ سب سے پہلے قبر انور سے حضور اُٹھیں گے پھر دوسرے لوگ،سب سے پہلے حضور میدانِ محشر میں پہنچیں گے پھر حضور کے پیچھے ساری مخلوق۔نیز سارے لوگ آخر کار شفاعت کی بھیک مانگنے حضور ہی کے پاس پہنچیں گے،حضورصلی اللہ علیہ وسلم ہی کے اردگرد جمع ہوجائیں گے،حضور ہی کو گھیر لیں گے،حضور کے پاس آکر پھر بارگاہِ الٰہی میں حاضر ہوں گے اس لیے حضور حاشرصلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔
۵؎ عاقب بنا ہے عقب سے بمعنی پیچھے۔حضور سارے نبیوں سے پیچھے دنیا میں آئے،نیز حضورصلی اللہ علیہ وسلم اپنے پیچھے بہت خیر چھوڑ گئے لہذا حضور عاقب ہیں سب کی عاقبت حضور کے دم سے ہی ہے۔خیال رہے کہ حضور عاقب یعنی پچھلے نبی ہیں لہذا نہ تو آپ کے زمانہ میں کوئی نبی تھا اور نہ آپ کے بعد قیامت تک کوئی نبی ہوسکتا ہے۔جو انبیاء کرام زندہ تھے یا زندہ ہیں وہ اب بہ شان نبوت زندہ نہیں،اب وہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہیں جیسے حضرت عیسیٰ و ادریس آسمان میں اورخضروالیاس زمین میں علیہم الصلوۃ والسلام۔
|
5777 -[2] وَعَن أبي مُوسَى الْأَشْعَرِيّ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَمِّي لَنَا نَفْسَهُ أَسْمَاءً فَقَالَ: «أَنَا مُحَمَّدٌ وَأَحْمَدُ وَالْمُقَفِّي وَالْحَاشِرُ وَنَبِيُّ التَّوْبَةِ وَنَبِيُّ الرَّحْمَة» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت ابو موسیٰ اشعری سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہم کو اپنے نام پاک بتاتے تھے فرماتے تھے کہ میں محمد ہوں میں احمد ہوں ۱؎ مقفی ہوں۲؎ میں حاشر ہوں میں توبہ کا نبی ہوں۳؎ میں رحمت کا نبی ہوں۴؎ (مسلم) |
۱؎ لفظ اللہ اور لفظ محمد میں چند طرح مناسبت ہے: اللہ میں حرف چار تو محمد میں حرف چار،اللہ کے چاروں حرف بے نقطہ محمد کے چاروں حرف بے نقطہ،اللہ میں ایک شد محمد میں ایک شد،اللہ کے تین حرف حرکت والے محمد کے تین حرف حرکت والے،ہاں اللہ کے شد پر الف ہے محمد کے شد پر الف نہیں،اللہ سلطان حضور اس سلطنت کے وزیر اعظم،اللہ بولنے سے دونوں ہونٹ جدا ہوتے ہیں محمد بولنے سے دونوں ہونٹ مل جاتے ہیں کہ وہ نیچوں کو اوپر والوں سے ملانے ہی تو آئے ہیں۔
۲؎ مقفی اسم فاعل سب نبیوں سے پیچھے دنیا میں آنے والا،مقفی اسم مفعول سب نبیوں تمام انسانوں ساری مخلوق سے آگے رہنے والا کہ میرے نقش قدم پر سب چلنے والے یا مقفی اسم سب کی مہمانی کرنے والا کہ دنیا اس کی مہمان ہو وہ سب کا میزبان،قفاوہ کہتے ہیں لطف و کرم مہمانی کے کھانے کو۔(مرقات)
۳؎ اس طرح کہ میرے ہاتھ پر ساری خلقت نے توبہ کی اور کرے گی یا میرے دین میں توبہ آسان کردی گئی یا میری برکت میرے صدقہ سے حضرت آدم و دیگر نبیوں کی توبہ قبول ہوئی ان کی مشکلیں حل ہوئیں۔شعر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع