دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 8 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ہشتم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ہشتم

6225 -[30] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَالزُّبَيْر والمقداد - وَفِي رِوَايَة: أَبَا مَرْثَدٍ بَدَلَ الْمِقْدَادِ - فَقَالَ: «انْطَلِقُوا حَتَّى تَأْتُوا رَوْضَةَ خَاخٍ فَإِنَّ بِهَا ظَعِينَةً مَعَهَا كِتَابٌ فَخُذُوا مِنْهَا» فَانْطَلَقْنَا تَتَعَادَى بِنَا خَيْلُنَا حَتَّى أَتَيْنَا الرَّوْضَة فَإِذا نَحن بِالظَّعِينَةِ قُلْنَا لَهَا: أَخْرِجِي الْكتاب قَالَت: مَا معي كِتَابٍ. فَقُلْنَا لَتُخْرِجِنَّ الْكِتَابَ أَوْ لَتُلْقِيَنَّ الثِّيَابَ فَأَخْرَجَتْهُ مِنْ عِقَاصِهَا فَأَتَيْنَا بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا فِيهِ: مِنْ حَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ إِلَى نَاسٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ يُخْبِرُهُمْ بِبَعْضِ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا حَاطِبُ مَا هَذَا؟» فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَا تَعْجَلْ عَلَيَّ إِنِّي كُنْتُ امْرَأً مُلْصَقًا فِي قُرَيْشٍ وَلَمْ أَكُنْ مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَكَانَ مَنْ مَعَك من الْمُهَاجِرين من لَهُم قَرَابَات يحْمُونَ بهَا أَمْوَالهم وأهليهم بِمَكَّةَ فَأَحْبَبْتُ إِذْ فَاتَنِي ذَلِكَ مِنَ النَّسَبِ فِيهِمْ يَدًا يَحْمُونَ بِهَا قَرَابَتِي وَمَا فَعَلْتُ كفرا وَلَا ارْتِدَادًا عَن ديني وَلَا رضى بِالْكُفْرِ بَعْدَ الْإِسْلَامِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّهُ قَدْ صَدَقَكُمْ» فَقَالَ عُمَرُ: دَعْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ أَضْرِبْ عُنُقَ هَذَا الْمُنَافِقِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّهُ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ اللَّهَ اطَّلَعَ عَلَى أَهْلِ بَدْرٍ فَقَالَ: اعْمَلُوا مَا شِئْتُم فقد وَجَبت لكم الجنةُ «وَفِي رِوَايَة فقد غَفَرْتُ لَكُمْ» فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى [يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمْ أَوْلِيَاءَ] .

روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے مجھے اور زبیر اور مقداد کو بھیجا ۱؎  دوسری روایت میں بجائے مقداد کے ابو مرثد ہیں۲؎  تو فرمایا کہ تم جاؤ حتی کہ خاخ کے باغ میں پہنچو۳؎  وہاں ایک بوڑھی عورت ہے۴؎ جس کے پاس ایک خط ہے وہ اس سے لے لو ۵؎  چنانچہ ہم چلے کہ ہم کو ہمارے گھوڑے دوڑا رہے تھے حتی کہ ہم باغ میں آئے ۶؎  تو ہم اس بوڑھی کے پاس تھے ہم نے کہا خط نکال دو وہ بولی میرے پاس کوئی خط نہیں ہم نے کہا یا خط نکال ورنہ کپڑے اتار ۷؎ تب اس نے اپنی چوٹی سے خط نکالا ۸؎ ہم وہ خط نبی صلی الله علیہ و سلم کے پاس لائے تو اس میں حاطب بن بلتعہ کی طرف سے مکہ والے مشرکوں کی طرف پیغام تھا وہ مشرکوں کو نبی صلی الله علیہ و سلم کے بعض کاموں کی خبر دے رہے تھے ۹؎  تب رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا اے حاطب یہ کیا۱۰؎  وہ بولے یارسول الله حضور مجھ پر جلدی نہ کریں ۱۱؎ میں قریش میں ایک الحاقی شخص ہوں میں خود قریش میں سے نہیں ہوں اور جو مہاجرین آپ کے ساتھ ہیں ان کی قریش سے قرابت داریاں ہیں جن سے وہ مکہ میں ان کے مالوں ان کے گھر والوں کی حفاظت کرتے ہیں۱۲؎  میں نے چاہا کہ جب مجھے ان سے نسبی رشتہ حاصل نہیں تو میں ان پر ایک احسان کردوں جس سے وہ میرے عزیزوں کی حفاظت کریں۱۳؎ میں نے یہ کام نہ تو کفر کی وجہ سے کیا نہ اپنے دین سے پھرتے ہوئے اور نہ اسلام کے بعد کفر سے راضی ہوکر۱۴؎ تب رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ انہوں نے تم سے سچ کہا۱۵؎ جناب عمر بولے یارسول الله مجھے چھوڑیئے میں اس منافق کی گردن مار دوں۱۶؎ رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ یہ بدر میں حاضر ہوئے ہیں ۱۷؎ تمہیں کیا خبر شاید الله تعالٰی نے بدر والوں پر توجہ فرمائی ہے۱۸؎ فرمایا ہو کہ جو چاہو کرو۱۹؎ تمہارے لیے جنت واجب ہوچکی۲۰؎ اور ایک روایت میں ہے کہ میں تم کو بخش چکا تب اللہ تعالٰی نے یہ آیت اتاری کہ اے ایمان والو میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ ۲۱؎ (مسلم،بخاری)

۱؎  آپ مقداد ابن عمرو کندی ہیں،آپ چھٹے مسلمان ہیں،آپ مدینہ منورہ سے تین میل کے فاصلہ پر مقام جرف میں فوت ہوئے،مدینہ منورہ میں لاکر دفن کیے گئے،ستر سال عمر پائی،  ۳۳ھ؁ تینتیس میں وفات ہوئی۔

۲؎ ابو مرثد کا نام کناز ابن حصین غنوی ہے،بدر وغیرہ تمام غزوات میں حاضر ہوئے،     ۱۲ھ؁ میں وفات ہوئی،۶۶چھیاسٹھ سال عمر ہوئی۔حق یہ ہے کہ یہ چاروں حضرات اس خدمت کے لیے بھیجے گئے تھے:حضرت علی،زبیر،مقدار اور ابو مرثد غنویٰ۔(مرقات)

۳؎  خاخ مدینہ منورہ کا ایک باغ تھا جو مکہ معظمہ کے راستہ پر واقع تھا مدینہ پاک سے قریب ہی تھا اب وہ گم ہوچکا ہے۔

۴؎  ظعینہ پردہ نشین عورت کو کہتے ہیں۔اس عورت کا نام سارہ تھا،مکہ کی رہنے والی تھی،قریش کی آزاد کردہ تھی،چونکہ صلح حدیبیہ کے بعد کفار مکہ کا مدینہ منورہ میں جانا آنا ہوگیا تھا،اس سلسلہ میں یہ بھی مدینہ منورہ آئی تھی۔

۶؎  یہ ہے حضور انور صلی الله علیہ و سلم کا علم غیب کہ مدینہ منورہ سے یہ عورت کفار مکہ کے نام ایک خط جاسوسی کا لے کر چلی جو اس نے اپنے بالوں کے جوڑے میں چھپا رکھا تھا،حضور انور صلی الله علیہ و سلم کو الله تعالٰی نے اس کا علم عطا فرمایا تھا اگرچہ وہ عورت جاسوسی کے جرم میں قتل کے قابل تھی مگر حضور انور نے نہ تو اس کے قتل کا حکم دیا نہ اس کی گرفتاری کا صرف یہ فرمایا کہ وہ خط اس سے لے لو اسے مکہ معظمہ جانے دو کیونکہ اس کے قتل سے کفار مکہ سے جنگ چھڑ جانے کا اندیشہ تھا۔منشاء الٰہی یہ تھا کہ بغیر سخت جنگ کے فتح مکہ ہوجائے ادھر وہ جاسوسی میں ناکام بنادی گئی تھی۔

۶؎  یعنی ہم نے گھوڑے دوڑائے باغ میں آکر ہی دم لیا کسی جگہ ٹھہرے نہیں تاکہ وہ آگے نہ چلی جائے یہ ہے صحابہ کرام کا حضور کے فرمان عالی پر قوی عمل۔

۷؎  بخاری کی ایک روایت میں یوں ہے لتخرجن الکتاب او لنجردنك،یہ الفاظ بخاری باب من شھدیدا میں ہیں یعنی یا تو خط نکال ورنہ ہم تجھے بالکل ننگا کرکے تیری تلاشی لیں گے۔یہاں اس عبارت کے معنی یہ ہیں کہ یا تو تو خط نکال ورنہ ننگی ہو تلاشی دے۔اس سے معلوم ہوا کہ کافرہ عورت کا نہ کوئی احترام ہے نہ اس کا کوئی پردہ،اسے ننگا کرکے تلاشی لینا بروقت ضرورت ممنوع نہیں بلکہ فاسِقہ عورت کا احترام کوئی نہیں۔حضرت عمر رضی الله  عنہ نے ایک عورت کو زنا کی سزا میں کوڑے مارے، کوڑوں کے درمیان اس کا دوپٹہ اتر گیا لوگوں نے کہا حضور اس کا پردہ،فرمایا اس نے اپنا احترام خود ہی ختم کردیا۔(دیکھو شامی)اگر وہ عورت خط نہ دیتی تو جناب علی شیر خدا اسے ننگا کرکے ہی اس کی تلاشی لیتے اور خط حاصل کرتے۔

۸؎  بعض روایات میں ہے کہ اس نے اپنی کمر سے یہ خط نکالا ہوسکتا ہے کہ اس کی چوٹی بہت دراز ہو کمر تک پہنچی ہو اس میں سے اس نے خط نکالا ہو لہذا دونوں روایات درست ہیں۔(مرقات)یہاں عقاص بمعنی چوٹی ہے۔

۹؎  یہ کلام راوی کا ہے جس میں اس واقعہ کی خبر دی گئی حاطب کے لکھے ہوئے یہ الفاظ نہ تھے۔(مرقات)

۱۰؎  یہ سوال اظہار غضب کے لیے ہے اسلام کی جاسوسی سخت جرم ہے کہ اس سے قوم ملک،ملت سب ہی کو نقصان ہوتا ہے۔

۱۱؎  میں ہوں تو مجرم مگر سزا دینے میں حضور کچھ توقف فرمائیں میرا عذر سن لیں۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن