30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۲؎ حمدوثناء ہم معنی ہوتے ہیں کبھی ان میں یوں فرق کرتے ہیں کہ حمد وہ جو رب تعالٰی کی طرف سے الہام ہو،ثنا وہ جو بندہ اپنی کوشش سے کرے،یا حمد نعمتوں پر رب کی تعریف کو کہتے ہیں اور ثناء اس ذات کریم کی صفات عالیہ کے ذکر کو کہتے ہیں۔و الله ورسولہ اعلم!
۳؎ یعنی مہاجرین کی اولاد دنیا میں بکثرت ہوگی مگر انصار کی اولاد بہت کم ہوگی یا مدینہ منورہ میں مہاجرین کی اولاد بہت رہے گی انصار کی اولاد بہت کم ہوگی،اب سارے مدینہ منورہ میں صرف ایک گھرانا انصار کا ہے یعنی حمزہ ابوالجود کا گھرانہ۔دیکھ لو آج سید، علوی،عباسی بہت ہیں انصاری بہت تھوڑے بلکہ قریبًا نہیں ہیں بعض لوگ بناوٹی انصاری ہیں،بعض شارحین نے کہا کہ مہاجرین تا قیامت ہوتے رہیں گے کہ ہجرت قائم ہے مگر انصار خصوصًا حضور انور کے مددگار انصار جو ہونا تھے وہ ہولیے اشعہ میں اسی کو اختیار کیا۔
۴؎ یعنی اگرچہ انصار کم ہوجائیں گے مگر اسلام کی لذت و عمدگی انہی سے قائم ہوگی جیسے کھانے میں نمک ہوتا ہے تھوڑا مگر سارے کھانے میں لذت اس ہی کی ہوتی ہے،تا قیامت اسلام کی بہاریں انہیں انصار سے ہیں جنہوں نے حضور انور کی مہمانی کا حق ادا کیا،نمک مصلح طعام ہے اور انصارمصلح اسلام۔(اشعہ)
۵؎ یعنی میرے بعد تم مہاجرین میں جوکسی اعلٰی یا معمولی عہدہ پر فائز ہو وہ میری یہ وصیت یاد رکھے۔
۶؎ اسی کی شرح ابھی گزر چکی کہ اس سے مراد قانون شکنی بغاوت ارتداد وغیرہ نہیں بلکہ شخصی ذاتی معاملات میں قصور و کوتاہی مراد ہے یعنی اگر کوئی انصاری کسی سے کوئی اچھا سلوک کرے تو وہ دوگنا تگنا بدلہ بطور شکریہ ادا کرے اور اگر کوئی انصاری کسی سے کوئی ذاتی بدسلوکی کرے تو وہ میری خاطر اس سے درگزر کرے کہ انصار میرے محسن میرے میزبان ہیں رضی الله عنہم۔
|
6223 -[28] وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «الله اغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَلِأَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ وَأَبْنَاءِ أَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت زید ابن ارقم سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے الٰہی انصار کو انصار کی اولادکو انصار کی اولاد کی اولاد کو بخش دے ۱؎ (مسلم) |
۱؎ اس فرمان عالی میں یا تو انصار سے مراد صحابہ انصاری ہیں اور اولاد انصار سے مراد تابعین انصاری اور اولاد اولاد انصار سے مراد تبع تابعین انصاری ہیں یا تاقیامت ساری اولاد انصار مراد ہے یعنی بمعنی اولاد۔(مرقات و اشعہ)
|
6224 -[29] (مُتَّفق عَلَيْهِ) وَعَنْ أَبِي أُسَيْدٍ قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَيْرُ دُورِ الْأَنْصَارِ بَنُو النَّجَّارِ ثُمَّ بَنُو عَبْدِ الْأَشْهَلِ ثُمَّ بَنُو الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ ثُمَّ بَنُو سَاعِدَةَ وَفَى كُلِّ دُورِ الْأَنْصَارِ خَيْرٌ» . |
روایت ہے حضرت ابواسید سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ انصار کے گھروں میں بہتر گھرانہ بنو نجار ہیں پھر بنی عبدالاشہل پھر بنی حارث ابن خزرج پھر بنی ساعدہ ۱؎ اور انصار کی سارے گھرانوں میں خیر ہے ۲؎ (مسلم، بخاری) |
۱؎ یہ چاروں انصار کے قبیلے ہیں ان سب کا لقب انصار ہے۔عیسیٰ علیہ السلام کے مددگاروں کا نام نصاریٰ تھا اور حضور کے مددگاروں کا نام انصار ہوا اور غیر خدا سے مدد لینا حرام یا شرک ہوتا تو یہ دونوں نام مشرکانہ ہوتے اور انہیں نصاریٰ یا انصار کہنا شرک ہوتا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع