30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
6220 -[25] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى صِبْيَانًا وَنِسَاءً مُقْبِلِينَ مِنْ عُرْسٍ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «اللَّهُمَّ أَنْتُمْ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ اللَّهُمَّ أَنْتُمْ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ» يَعْنِي الْأَنْصَار. |
روایت ہے حضرت انس سے کہ نبی صلی الله علیہ و سلم نے کچھ بچوں عورتوں کو دیکھا ایک شادی سے آتے ہوئے تو نبی صلی الله علیہ و سلم کھڑے ہوگئے ۱؎ فرمایا الٰہی تو جانتا ہے اے انصار تم لوگ مجھے تمام لوگوں سے زیادہ پیارے ہو الٰہی تو جانتا ہے اے انصار تم لوگ مجھے تمام لوگوں سے زیادہ پیارے ہو یعنی انصار ۲؎ (مسلم،بخاری) |
۱؎ یہ انصاری لوگ ایک شادی سے خوش و خرم آرہے تھے حضور ان کو خوش دیکھ کر بہت ہی خوش ہوئے اور ان کی خوش خرمی کھڑے ہوکر ملاحظہ فرمانے لگے جیسے ماں باپ اپنی اولاد کی خوشی دیکھ کر خوش ہوتے ہیں حضور پر تمام جہان کے ماں باپ کی محبتیں قربان ہوں،وہ امت خصوصًا انصار کی خوشی دیکھ کر کیوں خوش نہ ہوں گے،حضور ہماری خوش خرمی سے خوش ہوتے ہیں، ہمارے رنج و ملال سے غمگین ہوتے ہیں"عَزِیۡزٌ عَلَیۡہِ مَاعَنِتُّمْ"حضور انور نے خواب میں اپنی امت کو سمندر کا سفر کرتے دیکھا نہایت شان و شوکت سے تو حضور خوش خوش بیدار ہوئے تھے۔
۲؎ اس کلام میں التفات ہے پہلے رب تعالٰی سے عرض کیا کہ الٰہی تو گواہ رہ یا اے الله تو جانتا ہے،پھر انصار سے خطاب فرمایا کہ تم لوگ مجھے بہت پیارے ہو۔انصار فرماکر راوی نے یہ بتایا کہ یہ کلام صرف ان لوگوں سے نہیں تھا بلکہ سارے انصار سے تھا یعنی سارے انصار مجھے بہت پیارے ہیں۔
|
6221 -[26] وَعَنْهُ قَالَ: مَرَّ أَبُو بَكْرٍ وَالْعَبَّاسُ بِمَجْلِسٍ من مجَالِس الْأَنْصَار وهم يَبْكُونَ فَقَالَ: مَا يُبْكِيكُمْ؟ قَالُوا: ذَكَرْنَا مَجْلِسَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَّا فَدَخَلَ أَحَدُهُمَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ بِذَلِكَ فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ عَصَّبَ عَلَى رَأْسِهِ حَاشِيَةَ بُرْدٍ فَصَعِدَ الْمِنْبَر وَلم يَصْعَدهُ بعد ذَلِك الْيَوْم. فَحَمدَ الله وَأَثْنَى عَلَيْهِ. ثُمَّ قَالَ: «أُوصِيكُمْ بِالْأَنْصَارِ فَإِنَّهُمْ كَرِشِي وَعَيْبَتِي وَقَدْ قَضَوُا الَّذِي عَلَيْهِمْ وَبَقِيَ الَّذِي لَهُمْ فَاقْبَلُوا مِنْ مُحْسِنِهِمْ وَتَجَاوَزُوا عَنْ مسيئهم» . رَوَاهُ البُخَارِيّ |
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں کہ جناب ابوبکر و عباس انصار کی مجلسوں سےکسی مجلس پرگزرے وہ حضرات رو رہے تھے ۱؎ تو ان دونوں نے کہا کہ تم کو کیا چیز رلاتی ہےوہ بولے کہ ہم کو نبی صلی الله علیہ و سلم کے ساتھ اپنی ہم نشینی یاد آگئی ۲؎ تو ان دونوں میں سے ایک نبی صلی الله علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے حضور کو اس کی خبر دی۳؎ تو نبی صلی الله علیہ و سلم باہر تشریف لائے آپ نے اپنے سر پر چادر کے کنارہ کی پٹی باندھی ہوئی تھی آپ منبر پر چڑھے اور اس دن کے بعد پھر کبھی نہ چڑھے۴؎ الله کی حمد و ثنا کی پھر فرمایا کہ میں تم لوگوں کو انصار کے متعلق وصیت کرتا ہوں ۵؎ کیونکہ یہ لوگ میرے خاص مشیر اور میرے خاص ہیں۶؎ یہ لوگ وہ حق ادا کرچکے جو ان پر تھا اور وہ حق باقی رہ گیا جو ان کا ہے ۷؎ تو ان کے نیکوں سے قبول کرو اور ان کے بروں سے درگزر کرو ۸؎(بخاری) |
۱؎ یہ واقعہ حضور انورصلی اللہ علیہ و سلم کی مرض وفات شریف کا ہے جب کہ کئی دن حضور دولت خانہ سے باہر تشریف نہیں لائے شدت مرض کی وجہ سے،انصار نے جمال جہاں آرا کچھ روز نہ دیکھا تو تڑپ گئے ؎
در فراق تو مرا چوں سوخت جان چوں نہ نالم بے تو اے جان جہاں
۲؎ یعنی ہم لوگوں کو وہ مبارک گھڑیاں یاد آرہی ہیں جب ہم پروانوں کی طرح شمع جمال محمدی کے گرد قربان ہوتے تھے، ہائے وہ ساعتیں کہاں گئیں ؎
خوشا وہ وقت کہ دیدار عام تھا اس کا خوشا وہ وقت کہ طیبہ تھا مقام اس کا
یہ ہے حضرات صحابہ کا عشق رسول الله صلی الله علیہ و سلم اس کا ایک ذرہ ہم کو بھی عطا کرے ؎
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع