30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مطلب نہیں کہ میں انصار کی اتباع کروں گا سارا جہان حضور کا متبع ہے حضور صلی الله علیہ و سلم کسی شخص یا کسی قوم کے متبع نہیں ان سے ارشاد ہے"اِتَّبِعْ مَاۤ اُوۡحِیَ اِلَیۡکَ"۔
۳؎ شعائر بنا ہے شعر سے بمعنی جسم کے بال جو لباس جسم سے بالکل متصل رہے اسے شعار کہتے ہیں کہ وہ بالوں سے ملا ہوتا ہے اور جو لباس اس شعار کے اوپر پہنا جاوے وہ دثار کہلاتا ہے جیسے بنیان یا شلوکہ کا شعار ہے اور اس کے اوپر والے کپڑے کرتہ واسکٹ،اچکن دثار ہیں یعنی جیسے شعار جسم سے متصل رہتا ہے ایسے ہی انصار مجھ سے ملے ہوئے ہیں کیونکہ ان کا اخلاص ان کی خدمت دوسرے عام مؤمنوں سے بہت زیادہ ہے۔الناس سے مراد عام مؤمنین ہیں حضرات خلفاء راشدین یا فاطمہ زہرا و حسنین کریمین اس میں داخل نہیں۔
۴؎ یعنی میرے بعد بعض اسلامی بادشاہ تم پر اور لوگوں کو ترجیح دیں گے بلکہ تمہارے حق دوسروں کو دیں گے تو تم ان سے بغاوت نہ کرنا بلکہ صبرکرنا۔چنانچہ سلاطین اموی کے زمانہ میں عمومًا انصار کو نظر انداز کیا جاتا رہا حضور کی پیش گوئی درست ہوئی۔اس فرمان عالی میں انصار کے مؤمن ہونے،ایمان پر خاتمہ،حضور کے پاس حوض پر حاضر ہونے غرضکہ بے شمار فضائل کی خبر ہے۔اس فرمان کا مطلب یہ ہے کہ تم ان باتوں کو دنیا میں برداشت کرنا ہم حوض پر اور جنت میں ان سب کا بدلہ کردیں گے۔
۵؎ فتح کے دن ابو سفیان ایمان لائے حضرت عباس نے عرض کیا یارسول الله ابوسفیان کو فخر و بڑائی بڑی محبوب ہے اس لیے کچھ بڑائی ان کو عطا فرمائی جاوے تب حضور انور نے انکے گھر کو دارالامان بنادیا،اعلان فرمادیا کہ جو ابوسفیان کے گھر میں پناہ لے لے اسے امان ہے۔
|
6219 -[24] وَعَنْهُ قَالَ:كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ فَقَالَ: «مَنْ دَخَلَ دَارَ أَبِي سُفْيَانَ فَهُوَ آمِنٌ وَمَنْ أَلْقَى السِّلَاحَ فَهُوَ آمِنٌ».فَقَالَتِ الْأَنْصَارُ: أَمَّا الرَّجُلُ فَقَدْ أَخَذَتْهُ رَأْفَةٌ بِعَشِيرَتِهِ وَرَغْبَةٌ فِي قَرْيَتِهِ. وَنَزَلَ الْوَحْيُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «قُلْتُمْ أَمَّا الرَّجُلُ فَقَدْ أَخَذَتْهُ رَأْفَةٌ بِعَشِيرَتِهِ وَرَغْبَةٌ فِي قَرْيَتِهِ كَلَّا إِنِّي عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ هَاجَرْتُ إِلَى الله وإليكم فالمحيا مَحْيَاكُمْ وَالْمَمَاتُ مَمَاتُكُمْ» قَالُوا: وَاللَّهِ مَا قُلْنَا إِلَّا ضِنًّا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ.قَالَ:«فَإِنَّ اللَّهَ وَرَسُوله يصدقانكم ويعذرانكم» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں کہ ہم رسول الله صلی الله علیہ و سلم کے ساتھ تھے فتح مکہ کے دن ۱؎ تو فرمایا جو ابو سفیان کے گھر میں گھس جاوے اسے امان ہے اور جو ہتھیار کو رکھ دے اسے امان ہے ۲؎ تو انصار بولے کہ ان محبوب کو اپنے کنبہ سے محبت اور اپنے وطن کی رغبت ہوگئی۳؎ رسول الله صلی الله علیہ و سلم پر وحی نازل ہوگئی۴؎ فرمایا کیا تم نے یہ کہا ہے کہ ان محبوب کو اپنے کنبہ کی محبت اپنے وطن کی رغبت ہوگئی ایسا ہرگز نہیں ہے۵؎ میں الله کا بندہ اور اس کا رسول ہوں،میں نے الله کی اور تمہاری طرف ہجرت کرلی ہے ۶؎ اب میری زندگی تمہاری زندگی میں ہے اور میری وفات تمہاری موت میں ہے ۷؎ وہ بولے کہ ہم نے جو کچھ کہا ہے الله رسول پر بخل کی وجہ سے ہے ۸؎ فرمایا کہ الله رسول تمہاری تصدیق کرتے ہیں اور تم کو معذور جانتے ہیں ۹؎ (مسلم) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع