30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یہ واقعہ کیونکر درست ہوا لہذا حق یہ ہے کہ اس سورت کی اگلی آیات"لَا تُقَدِّمُوۡا بَیۡنَ یَدَیِ اللہِ وَ رَسُوۡلِہٖ"بعد میں نازل ہوئیں"لَا تَرْفَعُوۡۤا اَصْوٰتَکُمْ"پہلے نازل ہوچکی تھی۔(مرقات)
۵؎ یعنی اس آیت کریمہ کے حکم سے میں دوزخی ہوں تو اس جنتیوں کے بادشاہ عالم پناہ کی بارگاہ میں کس منہ سے جاؤں، نار نور کے پاس کیسے جائے یہ ہے انتہائی خوفِ الٰہی کیونکہ اس آیت کریمہ میں بے ادبی سے اونچی آواز سے بولنا مراد ہے جو چیخ کر بولنے کا عادی ہو وہ مراد نہیں،حضور کی بے ادبی کفر ہے اور کفر آگ کا موجب ہے۔(مرقات)
۶؎ یعنی اس خوف کی وجہ سے ان کے ایمان کی رجسٹری ہوگئی کہ انہوں نے انتہائی خوف سے اپنے آپ کو اس آیت کی زد میں محسوس کیا۔سبحان الله! حضرت ثابت ابن قیس کی شہادت یوں ہوئی کہ غزوہ یمامہ میں جو مسیلمہ کذاب کے مقابل خلافت صدیقی ۱۲ھ میں ہوا جہاد کے وقت آپ نے کفن پہنا،خوشبو ملی،پھر میدان جنگ میں داخل ہوئے اعلٰی درجہ کا جہاد کیا اور شہید ہوئے رضی الله عنہ۔(مرقات)حضور کے فرمان کا یوں ظہور ہوا۔
|
6212 -[17] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ نَزَلَتْ سُورَةُ الْجُمُعَةِ فَلَمَّا نَزَلَتْ [وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يلْحقُوا بهم] قَالُوا: مَنْ هَؤُلَاءِ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: وَفِينَا سَلْمَانُ الْفَارِسِيُّ قَالَ: فَوَضَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ عَلَى سَلْمَانَ ثُمَّ قَالَ: «لَوْ كَانَ الْإِيمَانُ عِنْدَ الثُّرَيَّا لَنَالَهُ رجالٌ من هَؤُلَاءِ» . |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ و سلم کے پاس ہم بیٹھے تھے کہ سورۂ جمعہ اتری ۱؎ تو جب یہ آیت نازل ہوئی ان میں سے دوسرے جو ابھی ان سے نہ ملے صحابہ نے عرض کیا یارسول الله وہ لوگ کون ہیں۲؎ فرمایا اور ہم میں سلمان فارسی تھے فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ و سلم نے اپنا ہاتھ حضرت سلمان پر رکھا۳؎ پھرفرمایا کہ اگر ایمان ثریا تارے کے پاس ہوتا تو ان میں سے بعض لوگ اسے پالیتے۴؎(مسلم،بخاری) |
۱؎ اس سے معلوم ہوا کہ سورۂ جمعہ مدنیہ ہے اور نماز جمعہ بعد ہجرت فرض ہوئی ہے۔جن لوگوں نے کہا کہ نماز جمعہ قبل ہجرت فرض ہوچکی تھی ادا کی گئی بعد ہجرت وہ قو ی نہیں،جن حضرات نے حضور کی ہجرت سے پہلے مدینہ منورہ میں جمعہ قائم کیا وہ جمعہ نہ تھا بلکہ نوافل تھے،یہ حضرات اس دن جمع ہوجاتے تھے نوافل پڑھ لیتے تھے۔لہذا یہ حدیث اس واقعہ کے خلاف نہیں کہ حضرات صحابہ نے حضور انور کے مدینہ منورہ پہنچنے سے پہلے ہی مدینہ میں جمعہ شروع کردیا تھا۔
۲؎ اس آیت کا مضمون یہ ہے کہ حضور صلی الله علیہ و سلم ان لوگوں کے بھی ہادی ہیں جو صحابہ کو نہ ملے بعد میں پیدا ہوں گے، اس پر صحابہ کرام نے عرض کیا کہ اس فرمان عالی کا کس جماعت کی طرف اشارہ ہے۔
۳؎ حضرت سلمان فارسی اصفہان کے باشندے ہیں،رامہرمز کی اولاد ہیں،آپ کی کنیت ابو عبدالله ہے،اصفہان ایران کا مشہور شہر ہے،آپ کے والدین آتش پرست تھے،آپ کو ایک عیسائی راہب کی صحبت ملی اس نے حضور صلی الله علیہ و سلم کی صفات آپ کو سنائیں آپ حضور صلی الله علیہ و سلم کی ملاقات کے شوق میں نکل کھڑے ہوئے یہود نے پکڑکر آپ کو فروخت کردیا،دس سے زیادہ مالکوں کی ملکیت میں رہے آخر جویندہ پائیندہ مدینہ کے ایک یہودی کے پاس پہنچے اس نے آپ کو مکاتب کردیا حضور صلی الله علیہ و سلم نے کتابت کا روپیہ ادا کرکے آپ کو آزاد کردیا لہذا آپ حضور کے آزاد کردہ ہیں۔آپ کی عمر تین سو پچاس سال ہوئی،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع