30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۳؎ منادیل جمع ہے مندیل کی جس کا مادہ ندل ہے بمعنی میل،چونکہ رومال سے میل صاف کیا جاتا ہے اس لیے اسے مندیل کہتے ہیں۔یعنی حضرت سعد ابن معاذ کے ہاتھ منہ پونچھنے والے رومال بھی اس کپڑے سے زیادہ خوبصورت اور نرم ہیں، جب ان کے رومال کی یہ کیفیت ہے تو ان کے پہننے کے کپڑے کیسے ہوں گے۔معلوم ہوتا ہے کہ حضور انور ہرجنتی کا مکان اس کا لباس تک جانتے ہیں۔
|
6208 -[13] (مُتَّفق عَلَيْهِ) وَعَنْ أُمِّ سُلَيْمٍ أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَسٌ خَادِمُكَ ادْعُ اللَّهَ لَهُ قَالَ: «اللهمَّ أَكثر مَاله وَولده وَبَارك فِيمَا أَعْطيته» قَالَ أنس: فو الله إِنَّ مَالِي لَكَثِيرٌ وَإِنَّ وَلَدِي وَوَلَدَ وَلَدِي لَيَتَعَادُّونَ عَلَى نَحْوِ الْمِائَةِ الْيَوْمَ. |
روایت ہے حضرت ام سلیم سے ۱؎ انہوں نے عرض کیا یارسول الله انس آپ کا خدمت گار ہے اس کے لیے الله سے دعا فرمایئے حضور نے فرمایا الٰہی ان کا مال ان کی اولاد زیادہ کر اور انہیں تو جو عطا فرماوے اس میں برکت دے ۲؎ حضرت انس فرماتے ہیں الله کی قسم کہ میرا مال بہت زیادہ ہے۳؎ اور میری اولاد اور اولاد کی اولاد آج تقریبًا سو سے زیادہ ہیں۴؎ (مسلم،بخاری) |
۱؎ حضرت ام سلیم حضرت انس کی والدہ ہیں،اپنے فرزند حضرت انس کو لڑکپن میں حضور کی خدمت کے لیے وقف کر دیا تھا، حضرت انس حضور ہی کے پاس رہتے تھے۔
۲؎ یہ آخری کلمہ بہت ہی جامع ہے یعنی مال،اولاد،ایمان،عزت و آبرو جو بھی تو انہیں عطا فرمائے اس میں برکت دے، برکت اور کثرت کا فرق ہم پہلے بیان کرچکے ہیں۔
۳؎ چنانچہ حضرت انس مدینہ منورہ کے بڑے مالداروں میں سے تھے الله تعالٰی نے انہیں مالی کثرت برکت دونوں عطا فرمائی تھیں۔(مرقات)
۴؎ امام ابن حجر نے شرح شمائل شریف میں فرمایا کہ حضرت انس کی مذکر اولاد ایک سو پچیس ہوئی جو آپ نے اپنی آنکھوں سے دیکھی یعنی بیٹے پوتے نواسے وغیرہم اور آپ کے باغ میں سال میں دوبار پھل آتا تھا۔(مرقات)خیال رہے کہ حضرت انس ابن مالک ابن نضر خزرجی کی کنیت ابوحمزہ ہے،دس سال کی عمر میں حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے، خلافت فاروقی میں بصرہ میں تبلیغ دین کے لیے رہے، ۹۱ھ اکیانوے میں وفات پائی،ایک سو تین سال کی عمر ہوئی۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مال کی کثرت و برکت الله کی نعمت ہے جب کہ اس کے فتنہ سے محفوط رہے اس زمانہ میں علماء کو رب فاسق امیروں سے غنی فرما دے۔
|
6209 -[14] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ: مَا سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِأَحَدٍ يَمْشِي عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ «إِنَّهُ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ» إِلَّا لِعَبْدِ اللَّهِ بن سَلام. |
روایت ہے حضرت سعد ابن ابی وقاص سے فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی الله علیہ و سلم کو کسی شخص کے متعلق جو روئے زمین پر چلتا ہو یہ کہتے نہیں سنا کہ وہ جنت والوں سے ہے سواء عبدالله ابن سلام کے متعلق ۱؎(مسلم،بخاری) |
۱؎ شاید یہ حدیث اس وقت کی ہے جب کہ حضور صلی الله علیہ و سلم نے عشرہ مبشرہ وغیرہم دیگر صحابہ کرام کے جنتی ہونے کی خبر نہیں دی تھی۔لہذا یہ حدیث ان احادیث کے خلاف نہیں جن میں ہے کہ ابوبکر جنتی ہیں،عمر جنتی ہیں یا حسنین جوانان جنت کے سردار ہیں،فاطمہ جنتی بیبیوں کی سردار ہیں وغیرہ۔بعض شارحین نے فرمایا کہ حضرت سعد کا مطلب یہ ہے کہ آج جو لوگ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع