30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سلم کی بارگاہ میں حاضر تھے نہایت ہی معمولی لبا س میں بیٹھے تھے جس میں چمڑے کے پیوند تھے،حضور انور صلی الله علیہ و سلم رو پڑے اور فرمایا دیکھو یہ کس نازونعم میں پلے اور اب اسلام کی خاطر کس حالت میں ہیں۔(مرقات)
۵؎ یعنی ہم مہاجرین میں سے بعض وہ حضرات ہیں جنہوں نے اسلامی فتوحات دیکھیں،مال غنیمت حاصل کیے،آرام پایا۔ خیال رہے کہ ان فتوحات کے دیکھنے غنیمت پانے سے ان حضرات کا اُخروی ثواب کم نہیں ہوگیا۔
|
6206 -[11] (مُتَّفق عَلَيْهِ) وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «اهْتَزَّ الْعَرْشُ لِمَوْتِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ»وَفِي رِوَايَةٍ: «اهْتَزَّ عَرْشُ الرَّحْمَنِ لِمَوْتِ سَعْدِ بن معَاذ» . |
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں میں نے نبی صلی الله علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ سعد ابن معاذ کی موت سے عرش ہل گیا اور ایک روایت میں یوں ہے کہ فرمایا رحمان کا عرش سعد ابن معاذ کی موت سے ہل گیا ۱؎(مسلم،بخاری) |
۱؎ حدیث شریف بالکل ظاہری معنی پر ہے اس میں کسی تاویل کی ضرورت نہیں واقعی عرش اعظم نے حرکت کی تھی جیسے احد شریف حضور کی قدم شریف پڑنے پر ہلا تھا،رب فرماتاہے:"وَ اِنَّ مِنْہَا لَمَا یَہۡبِطُ مِنْ خَشْیَۃِ اللہِ" عرش میں حس و حرکت ہے،رہا یہ کہ کیوں ہلا اس میں چند احتمال ہیں: (۱)آپ کی روح جب عرش پر پہنچی تو وہ نہایت خوشی سے جھوما(۲)حاملین عرش کو مطلع کرنے کے لیے اس نے جنبش کی(۳)آپ کی روح کی تعظیم و تکریم کے لیے ہلا۔اعلٰی حصرت فرماتے ہیں۔شعر
واسطہ محبوب کا دنیا میں جو سنی مرے یوں نہ فرمائیں ترے شاہد کہ وہ فاجر گیا
عرش پر دھومیں مچیں وہ بندہ صالح ملا فرش پر ماتم پڑے وہ طیب و طاہر گیا
بعض شارحین نے کہا کہ اس سے مراد حاملین عرش ملائکہ جھوم گئے مگر پہلا قول قوی ہے۔خیال رہے سعد ابن معاذ انصاری اشہلی اوسی ہیں،پہلی بیعت عقبہ کے بعد دوسری بیعت سے پہلے مدینہ منورہ میں ایمان لائے،آپ کے اسلام پر بہت سے بنی اشہل کے لوگ ایمان لائے،حضور نے آپ کو سید الانصار کا لقب دیا،آپ غزوہ بدرواحد میں شریک ہوئے، غزوہ خندق میں آپ کے کندھے پر تیر لگا وہ خون نہ ٹھہرا حتی کہ ذی قعدہ ۵ھ پانچ میں وفات ہوگئی، ۳۷ھ سال عمر شریف ہوئی،بقیع میں دفن ہوئے۔
|
6207 -[12] (مُتَّفق عَلَيْهِ) وَعَنِ الْبَرَاءِ قَالَ: أُهْدِيَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُلَّةُ حَرِيرٍ فَجَعَلَ أَصْحَابُهُ يَمَسُّونَهَا وَيَتَعَجَّبُونَ مِنْ لِينِهَا فَقَالَ: «أَتَعْجَبُونَ مِنْ لِينِ هَذِهِ؟ لَمَنَادِيلُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فِي الجنَّةِ خيرٌ مِنْهَا وألين» . |
روایت ہے حضرت براء سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم کی خدمت میں حریر کا جوڑا پیش کیا گیا ۱؎ حضور کے صحابہ اسے چھونے اور اس کی نرمی سے تعجب کرنے لگے۲؎ تو فرمایا کیا تم اس کی نرمی سے تعجب کرتے ہو سعد ابن معاذ کے جنت میں رومال اس سے اچھے اور اس سے زیادہ نرم ہیں۳؎ (مسلم،بخاری) |
۱؎ یہ ریشمی جوڑا کسی عجمی بادشاہ نے حضور کی بارگاہ میں بطور ہدیہ بھیجا تھا اہل مدینہ کے لیے یہ ایک عجیب کپڑا تھا۔
۲؎ کیونکہ یہ مدینہ منورہ میں ایک عجیب شے تھی اس سے پہلے اہل مدینہ نے یہ چیز نہ دیکھی تھی۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع