30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ آپ مشہور تابعی ہیں،حضرت عبدالله ابن مسعود کے ساتھیوں میں سے ہیں،حضور انور کے زمانہ میں پیدا ہوئے مگر آپ کی زیارت نہ کرسکے(اشعہ)آپ کے حالات پہلے بیان ہوچکے۔
۲؎ یعنی میں نے دمشق کی جامع مسجد میں نفل پڑھ کر یہ دعا کی کہ خدایا میں پردیس میں آیا ہوں مجھے یہاں اچھا ساتھی عطا فرما۔خیال رہے کہ جب کسی جگہ سفر میں جاوے تو وہاں کے نیک لوگوں سے ملنے کی کوشش کرے کسی بزرگ کے مزار پر حاضری دے تو ان شاءالله سفر مبارک ہوگا میرا تجربہ ہے۔
۳؎ سبحان الله! جنس جنس کے پاس پہنچ گئی الله تعالٰی کے کچھ فرشتے ایسے ہیں جو اہل کو اہل تک پہنچاتے ہیں۔ (مرقات)
۴؎ ابوالدرداء مشہور صحابی ہیں،تارک الدنیا اصحاب صفہ میں سے ہیں،حضرت سلمان فارسی کے عقد مواخات والے بھائی ہیں۔
۵؎ من انت کے معنی تھے تم کون ہوں آپ نے جواب دیا کہ میں اہل کوفہ میں سے ہوں یہ بھی ایک طرح کی پہچان ہے۔
۶؎ یعنی کوفہ میں حضرت عبدالله ابن مسعود ہیں جو گھر حضر سفر میں حضور کے ساتھی ہیں۔نعلین شریف اٹھانے کی ضرورت سفر میں ہوتی ہے،تکیہ اٹھانے کی ضرورت گھر میں اور جو حضور کا ساتھی ہر جگہ کا ہو وہ حضور انور کے علوم کا حامل بھی ضرور ہی ہوگا،تمہارے شہر میں جب ایسے عالم موجود ہیں تو تم کو کسی کی کیا ضرورت ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ پہلے اپنے شہر کے علماء سے علم حاصل کرے پھر دوسرے علماء سے۔
۷؎ یعنی حضور کے وضو اور استنجاء کا لوٹا آپ ہی اٹھاتے تھے گویا ہر جگہ ہر وقت آپ کی خدمت میں رہتے تھے۔
۸؎ یہ تفسیر کسی راوی کی ہے۔یعنی صاحب اسرار سے حضرت عمار ابن یاسر مراد تھے،حضرت عمار بڑے جلیل القدر صحابی ہیں، آپ نے راہِ خدا میں بڑی سے بڑی تکالیف اٹھائی ہیں،مشرکین مکہ نے آپ کو زندہ آگ میں ڈالا حضور انور نے دعا کی کہ الٰہی عمار پر آگ ٹھنڈی کردے جیسے جناب خلیل پر آگ ٹھنڈی کی تھی،بعض روایات میں ہے کہ جب آپ آگ میں ڈالے گئے تو حضور ان پر گزرے اور آگ سے خطاب فرمایا یا نار کونی بردا و سلاما علی عمار کما کنت علی ابراھیم۔(مرقات)معلوم ہوا کہ حضرت ابراہیم پر خدا نے آگ ٹھنڈی کی اور عمار پر باذن پروردگار حضور نے آگ ٹھنڈی کی،آپ تمام غزوات میں حضور کے ساتھ رہے،حضور نے آپ کا نام طیب و مطیب رکھا تھا،آپ جنگ صفین میں حضرت علی کے ساتھ تھے،اسی میں شہید ہوئے، ۳۷ھ میں تیرانوے سال عمر ہوئی،آپ کے والد کا نام یاسر تھا والدہ کا نام سمیہ جو نہایت بے دردی سے کفار مکہ کے ہاتھوں شہید ہوئیں۔
۹؎ یعنی حضور انور کے خصوصی اسرار صرف حذیفہ کو معلوم ہیں جیسے تاقیامت منافقین کے نام پتے ان کے نسب وغیرہ۔ (مرقات)
۱۰؎ حذیفہ کی کنیت عبدالله ہے،آپ کی والد کا نام جبل ہے،لقب یمان آپ نے ۳۵ میں مدائن میں وفات پائی۔حضرت عثمان کی شہادت کے چالیس دن بعد(مرقات)بار بار حضرت عمر پوچھا کرتے تھے اے حذیفہ تم مجھ کو تو منافقوں میں سے نہیں پاتے ہو میرے اندر کوئی نفاق تو نہیں فرمایا ہرگز نہیں مگر تمہارے دسترخوان پر چند کھانے ہوتے ہیں تحقیق کی تو ایک انڈے کی زردی سفیدی الگ الگ پکائی گئی تھی۔(اشعۃ اللمعات)
|
6201 -[6] وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أُرِيْتُ الْجَنَّةَ فَرَأَيْتُ امْرَأَةَ أَبِي طَلْحَةَ وَسَمِعْتُ خَشْخَشَةً أَمَامِي فَإِذَا بِلَالٌ» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت جابر سے کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا مجھے جنت دکھائی گئی تو میں نے ابو طلحہ کی بیوی وہاں دیکھی ۱؎ اور میں نے اپنے سامنے آہٹ سنی وہ بلال تھے۲؎ (مسلم) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع