دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 8 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ہشتم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ہشتم

6197 -[2]

وَعَن حذيفةَ قَالَ: إِنَّ أَشْبَهَ النَّاسِ دَلًّا وَسَمْتًا وَهَدْيًا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَابْنُ أم عبدٍ مِنْ حِينِ يَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهِ إِلَى أَنْ يرجع إِلَيْهِ لَا تَدْرِي مَا يصنع أَهله إِذا خلا. رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے حضرت حذیفہ سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم سے تمام لوگوں میں حضور سے زیادہ مشابہہ طریقہ میں سیرت میں اور ہدایت میں ام عبد کے بیٹے ہی ہیں  ۱؎  جب سے وہ اپنے گھر سے نکلتے ہیں وہاں لوٹنے تک ہم کو یہ خبر نہیں کہ وہ اپنے گھر میں جب اکیلے ہوتے ہیں تو کیا کرتے ہیں۲؎ (بخاری)

۱؎  ابن ام عبدحضرت عبدالله ابن مسعود کی کنیت ہے،آپ کی ماں کی کنیت ام عبد ہے،کبھی کسی کو ماں کی طرف بھی نسبت کر دیتے ہیں جیسے عبدالله ابن ام مکتوم۔

۲؎  یعنی حضرت عبدالله ابن مسعود جب تک باہر ہوں اور ہم ان کو دیکھتے ہیں تب تک تو ان کی ہر ادا حضور صلی الله علیہ و سلم کے مشابہہ ہوتی ہے ہم نہیں کہہ سکتے کہ اندرون خانہ ان کے حالات کیسے ہوتے ہیں یہ بدگمانی نہیں بلکہ تعریف میں احتیاط ہے جیسا کہ حدیث شریف میں ہے۔

6198 -[3] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: قَدِمْتُ أَنَا وَأَخِي مِنَ الْيَمَنِ فَمَكَثْنَا حِينًا مَا نَرَى إِلَّا أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَا نُرَى مِنْ دُخُولِهِ وَدُخُولِ أُمِّهِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

روایت ہے حضرت ابو موسیٰ اشعری سے فرماتے ہیں کہ میں اور میرے بھائی یمن سے آئے ہم بہت عرصہ ٹھہرے ۱؎ ہم یہ ہی سمجھتے رہے کہ حضرت عبدالله ابن مسعود نبی صلی الله علیہ و سلم کے اہلِ بیت میں ہیں۲؎ کیونکہ ہم ان کا اور ان کی والدہ کا بہت ہی آنا جانا نبی صلی الله علیہ و سلم کے پاس دیکھتے تھے۳؎ (مسلم،بخاری)

۱؎  یعنی ہم دونوں بھائی یمن کے رہنے والے تھے وہاں سے مدینہ منورہ آئے،مسلمان ہوئے عرصہ تک مدینہ میں رہے اور یہ سمجھتے رہے۔

۲؎  حضرت عبدالله ابن مسعود مشہور صحابی ہیں،قدیم الاسلام ہیں،حضرت عمر سے پہلے ایمان لائے جب حضور دار ارقم میں جلوہ افروز نہیں ہوئے تھے،آپ چھٹے مسلمان ہیں،حضور صلی الله علیہ و سلم کی مسواک،وضو کا لوٹا،نعلین شریف آپ ہی کے ہاتھ رہتی تھی خصوصًا سفر میں،آپ نے پہلے حبشہ کی طرف ہجرت کی جنگ بدر اور تمام غزوات میں شرکت کی، حضور انور نے آپ کے جنتی ہونے کی بشارت دی،آپ گندمی رنگ درمیانہ قد عہد فاروقی میں کوفہ کے حاکم اور خزانچی بھی رہے،   ۳۲ھ؁ میں وفات پائی،بقیع شریف میں دفن ہوئے،ساٹھ سال سے زیادہ عمر ہوئی،خلفاء راشدین کے بعد سب سے بڑے فقیہ صحابی ہیں،امام اعظم ابوحنیفہ انہی کے متبع ہیں۔

۳؎  یعنی آپ اور آپ کی والدہ حضور انور صلی الله علیہ و سلم کے دولت خانہ میں اس قدر آتے جاتے تھے بغیر روک ٹوک اور بغیر اجازت طلب کیے کہ ہم سمجھے کہ آپ بھی اہل بیت رسول الله صلی الله علیہ و سلم سے ہیں۔حضور انور نے آپ سے فرما دیا تھا کہ تم کو ہمارے گھر میں آنے کے لیے اجازت لینے کی ضرورت نہیں بے اجازت بے روک ٹوک آجایا کرو،ہاں اگر ہم تم کو اشارۃً کسی وقت کھنکار کر یا کسی اور طریقہ سے منع کردیا کریں تو رک جایا کرو۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن