30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ پچھلے بابوں میں صحابہ یا خاص صحابہ کرام کی خاص جماعتوں کے فضائل کا ذکر تھا اس باب میں بغیر تقرر متفرق صحابہ و اہل بیت کے فضائل کا ذکر ہوگا اس لیے اسے جامع المناقب فرمایا۔
|
6196 -[1] (مُتَّفق عَلَيْهِ) عَن عبد الله بن عمر قَالَ: رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ كَأَنَّ فِي يَدِي سراقَة مِنْ حَرِيرٍ لَا أَهْوِي بِهَا إِلَى مَكَانٍ فِي الْجَنَّةِ إِلَّا طَارَتْ بِي إِلَيْهِ فَقَصَصْتُهَا عَلَى حَفْصَةَ فَقَصَّتْهَا حَفْصَةُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «إِنَّ أَخَاكِ رَجُلٌ صَالِحٌ أَوْ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ رَجُلٌ صَالح ». |
روایت ہے حضرت عبدالله ابن عمر سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ میں نے خواب میں دیکھا گویا میرے ہاتھ میں ریشم کا ٹکڑا ہے میں اس کے ساتھ جنت میں جس جگہ جانا چاہتا ہوں وہ مجھے وہاں ہی لے کر اڑ جاتا ہے ۲؎ میں نے یہ خواب بی بی حفصہ سے کہی جناب حفصہ نے نبی صلی الله علیہ و سلم پر پیش فرمائی۳؎ تو فرمایا کہ تمہارے بھائی نیک آدمی ہیں یا عبدالله نیک آدمی ہیں۴؎ (مسلم،بخاری) |
۱؎ آپ عبدالله ابن عمر ابن خطاب قرشی عدوی ہیں،بچپن میں اپنے والد ماجد کے ساتھ ایمان لائے،اول درجہ کے متبع سنت تھے، آپ نے اپنی زندگی میں ایک ہزار غلام آزاد کیے،آپ ہمیشہ عملًا حجاج ابن یوسف کی مخالفت کرتے تھے،حجاج نے کسی کے ذریعہ آپ کے پاؤں میں زہریلا برچھا چبھوا دیا اس سے آپ کی وفات ہوئی،آپ کی ولادت حضور پر وحی کی ابتداء ہونے سے ایک سال پہلے ہوئی،وفات تہتّر میں ہوئی،حضرت زبیر کی شہادت سے تین ماہ بعد چوراسی سال عمر ہوئی، مقام ذی طویٰ میں دفن کیے گئے رضی الله عنہ،خندق کے بعد سارے غزوات میں شریک ہوئے۔
۲؎ یعنی میرے ہاتھ میں ریشمی رومال ہے جو پیروں کا کام دیتا ہے جہاں جانا چاہتا ہوں وہاں اڑائے جاتا ہے اور میں جنت میں ہوں رومال سفید ریشم کا ہے جیساکہ بعض روایات میں ہے۔(مرقات)
۳؎ یعنی حضور انور کی ہیبت کی وجہ سے میں نے یہ خواب براہ راست سرکار سے عرض نہ کی بلکہ اپنی ہمشیرہ ام المؤمنین حفصہ رضی الله عنہا سے عرض کی انہوں نے حضور صلی الله علیہ و سلم کو سنائی۔
۴؎ یعنی حضرت عبدالله نے جو ریشمی رومال دیکھا ہے وہ ان کے نیک اعمال ہیں،اس کی سفیدی وہ ان کا اخلاص ہے،اس کی صفائی یہ ان کے دل کی صفائی سے لہذا عبدالله بڑے نیک صالح مخلص دیندار ہیں۔خیال رہے کہ جیسے نبی کی خواب وحی ہوتی ہے ویسے ہی نبی کی تعبیر بھی وحی ہوتی ہے لہذا حضرت عبدالله ابن عمر کا مؤمن صالح متقی ہونا وحی الٰہی سے ثابت ہوا،یوسف علیہ السلام نے ان قیدیوں سے فرمایا تھا" قُضِیَ الۡاَمْرُ الَّذِیۡ فِیۡہِ تَسْتَفْتِیَانِ"تم نے خواب دیکھی ہو یا نہ دیکھی ہو جو میں نے تعبیر دے دی اس کا فیصلہ ہوگیا۔معلوم ہوا کہ تعبیر نبی رب کی وحی ہوتی ہے۔
|
6197 -[2] وَعَن حذيفةَ قَالَ: إِنَّ أَشْبَهَ النَّاسِ دَلًّا وَسَمْتًا وَهَدْيًا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَابْنُ أم عبدٍ مِنْ حِينِ يَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهِ إِلَى أَنْ يرجع إِلَيْهِ لَا تَدْرِي مَا يصنع أَهله إِذا خلا. رَوَاهُ البُخَارِيّ |
روایت ہے حضرت حذیفہ سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم سے تمام لوگوں میں حضور سے زیادہ مشابہہ طریقہ میں سیرت میں اور ہدایت میں ام عبد کے بیٹے ہی ہیں ۱؎ جب سے وہ اپنے گھر سے نکلتے ہیں وہاں لوٹنے تک ہم کو یہ خبر نہیں کہ وہ اپنے گھر میں جب اکیلے ہوتے ہیں تو کیا کرتے ہیں۲؎ (بخاری) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع