30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۵؎ آپ سودہ بنت زمعہ ہیں پہلے اپنے چچازاد سکوان ابن عمرو کے نکاح میں تھیں،ان کی وفات کے بعد حضور انور کے نکاح میں آئیں،بی بی خدیجہ کے بعد ان سے حضور نے نکاح کیا ہجرت سے پہلے ہی اور آپ نے اپنی باری آخر میں جناب عائشہ صدیقہ کو ہبہ کردی تھی، ۵۴ھ چون میں مدینہ منورہ میں وفات پائی۔
۶؎ آپ کا نام ہند بنت ابی امیہ ہے،کنیت ام سلمہ،پہلے ابو سلمہ کے نکاح میں تھیں ۴ھ چار یا تین میں ان کی وفات کے بعد حضور کے نکاح میں آئیں، ۵۹ھ انسٹھ میں وفات پائی،چوراسی سال عمر ہوئی،بقیع میں دفن ہوئیں۔
۷؎ باقی بیویاں حضرت زینب،ام حبیبہ،جویریہ اور میمونہ ہیں گویا پانچ ازواج کی جماعت یہ تھیں رضی اللہ عنہم اجمعین۔بی بی زینب کا پہلا نام برہ تھاحضور نےزینب رکھا،آپ بنت جحش ہیں،آپ کی ماں امیّہ بنت عبدالمطلب ہیں حضور کی پھوپھی،آپ پہلے زید ابن حارثہ کے نکاح میں آئیں،ان کی طلاق کے بعد ۵ھ میں حضور کے نکاح میں آئیں،حضور انور کے بعد تمام بیویوں سے پہلے آپ کا انتقال ہوا،بڑی سخی خوف خدا والی تھیں، ۲۰ھ میں آپ کی وفات ہوئی،تریپن سال عمر شریف ہوئی،بقیع میں دفن ہوئیں۔ ام حبیبہ کا نام رملہ تھا،آپ ابو سفیان ابن صخر ابن حرب کی بیٹی ہیں،آپ کی والدہ صفیہ بنت ابوالعاص ہیں یعنی عثمان غنی کی پھوپھی،نجاشی بادشاہ نے آپ کا نکاح حضور سے کیا غائبانہ کہ آپ حبشہ میں تھیں حضور انور مدینہ منورہ میں نکاح ہوگیا،خود نجاشی نے چار سو دینار یا بارہ ہزار درہم مہر دیا۔حضور انور نے شرحبیل ابن حسنہ کے ذریعہ انہیں حبشہ سے مدینہ منورہ بلایا،بی بی جویریہ بنت حارث ابن خرام غزوہ مریسیع یعنی غزوہ بنی مصطلق ۵ھ پانچ میں قید ہوکر آئیں، حضرت ثابت ابن قیس کے حصہ میں آئیں،انہوں نے آپ کو مکاتبہ کردیا انکی کتابت حضور نے ادا کی پھر آزاد کرکے نکاح میں لے لیا،آپ کا نام بھی برہ تھا جو حضور نے بدل کر جویریہ رکھا،ربیع الاول ۵۶ھ چھپن میں وفات ہوئی، ۶۵ھ پینسٹھ سال عمر ہوئی۔بی بی میمونہ بنت حارث بلالیہ عامریہ آپ کا نام بھی برہ تھا،حضور نے میمونہ رکھا آپ پہلے مسعود ابن عمرو ثقفی کے نکاح میں تھیں،آپ ان سے الگ ہوکر ابو درہم کے نکاح میں آئیں،ان کی وفات کے بعد حضور انور کے نکاح میں آئیں ذی قعدہ ۷ھ عمرہ قضاء میں مقام سرف میں آپ سے حضور نے نکاح کیا وہاں ہی زفاف ہوا اور وہاں ہی آپ کی وفات و قبر واقع ہوئی،جس جگہ زفاف ہوا وہاں ہی قبر بنی۔ سرف مکہ معظمہ سے دس میل ہے،آپ حضرت عباس کی سالی عبداللہ ابن عباس کی خالہ ہیں اسماء بنت عمیس کی بہن ہیں۔ (مرقات)
۸؎ یعنی ام سلمہ کے گروہ نے حصرت ام سلمہ کو اپنا نمائندہ بنا کر حضور کی خدمت میں بھیجا کہ حضور انور لوگوں سے علانیہ فرمادیں کہ جو بھی کوئی ہدیہ بھیجنا چاہے وہ بھیج دیا کرے حضور جہاں بھی ہوں حضرت عائشہ کی باری کا انتظار نہ کیا کرے۔
۹؎ یعنی ہمارے صحابہ کا رجحان قلبی جناب عائشہ کی طرف اتفاقی نہیں بلکہ من جانب اللہ ہے،اللہ کی وحی بھی صرف انہیں کے بستر میں آتی ہے تم میں سے کسی کے بستر میں نہیں آتی،جب ربانی تحفہ انہی کے بستر میں آتا ہے تو اگر مخلوق کا تحفہ انہی کے گھر میں آئے تو کیا بعید۔چنانچہ آیت"اِنَّکَ لَا تَہۡدِیۡ مَنْ اَحْبَبْتَ"حضرت عائشہ کے بسترمیں آئی۔ (مرقات)ہم نے عرض کیا ہے۔شعر
ان کے بستر میں وحی آئے رسول اللہ پر اور سلام خادمانہ بھی کریں روح الامین
۱۰؎ یہ ہے حضرت ام سلمہ کا ایمان آپ سمجھیں کہ حضرت عائشہ کی ایذا حضور انور کی ایذا ہے اور حضور کی ایذا رب تعالٰی کی ایذا ہے،یہ کفر یا کفر کا باعث ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع