30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
6189 -[6] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْهَا قَالَتْ: إِنَّ النَّاسَ كَانُوا يَتَحَرَّوْنَ بِهَدَايَاهُمْ يَوْمَ عَائِشَةَ يَبْتَغُونَ بِذَلِكَ مَرْضَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَقَالَتْ: إِنَّ نِسَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُنَّ حِزْبَيْنِ: فَحِزْبٌ فِيهِ عَائِشَةُ وَحَفْصَةُ وَصَفِيَّةُ وَسَوْدَةُ وَالْحِزْبُ الْآخَرُ أُمُّ سَلَمَةَ وَسَائِرُ نِسَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَلَّمَ حِزْبُ أُمِّ سَلَمَةَ فَقُلْنَ لَهَا: كَلِّمِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَلِّمُ النَّاسَ فَيَقُولُ:مَنْ أَرَادَ أَنْ يُهْدِيَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلْيُهْدِهِ إِلَيْهِ حَيْثُ كَانَ. فَكَلَّمَتْهُ فَقَالَ لَهَا: «لَا تُؤْذِينِي فِي عَائِشَةَ فَإِنَّ الْوَحْيَ لَمْ يَأْتِنِي وَأَنَا فِي ثَوْبِ امْرَأَةٍ إِلَّا عَائِشَةَ». قَالَتْ: أَتُوب إِلَى الله من ذَاك يَا رَسُولَ اللَّهِ ثُمَّ إِنَّهُنَّ دَعَوْنَ فَاطِمَةَ فَأَرْسَلْنَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَلَّمَتْهُ فَقَالَ:«يَا بُنَيَّةُ أَلَا تُحِبِّينَ مَا أُحِبُّ؟» قَالَتْ: بَلَى.قَالَ:«فَأَحِبِّي هَذِهِ».وَذَكَرَ حَدِيثُ أَنَسٍ«فَضْلَ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ» فِي بَابِ «بَدْءِ الْخَلْقِ»بِرِوَايَةِ أبي مُوسَى |
روایت ہے انہیں سے فرماتی ہیں کہ لوگ اپنے تحفوں ہدیوں کے لیے جناب عائشہ کا دن تلاش کرتے تھے اس سے وہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی مرضی چاہتے تھے ۱؎ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی بیویاں دو گروہ تھیں۲؎ ایک گروہ وہ جس میں جناب عائشہ اور حفصہ۳؎ اور صفیہ۴؎ اور سودہ تھیں ۵؎ اور دوسری جماعت میں ام سلمہ۶؎ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی باقی بیویاں۷؎ تو ام سلمہ کے گروہ نے گفتگو کی ان سے کہا کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے کلام کرو کہ آپ لوگوں سے فرمادیں کہ جو بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی بارگاہ میں ہدیہ بھیجنا چاہے تو آپ کو ہدیہ بھیج دیا کرے حضور جہاں بھی ہوں۸؎ چنانچہ ام سلمہ نے حضور سے عرض کیا حضور نے ان سے فرمایا کہ مجھے عائشہ کے بارے میں تکلیف نہ دو کیونکہ سواء عائشہ کے کوئی بیوی نہیں جن کے بستر میں ہوں اور وحی آئے۹؎ ام سلمہ نے کہا یارسول اللہ میں آپ کی ایذا رسانی سے اللہ کی بارگاہ میں توبہ کرتی ہوں۱۰؎ پھر تمام بیویوں نے جناب فاطمہ کو بلایا انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں بھیجا ۱۱؎ انہوں نے حضور سے عرض کیا تو فرمایا اے بچی جس سے میں محبت کرتا ہوں تم ان سے محبت نہیں کرتیں بولیں ہاں فرمایا تو ان سے محبت کرو۱۲؎ (مسلم،بخاری)اور حضرت انس کی حدیث کہ عائشہ کی بزرگی ساری عورتوں پر الخ باب بدء الخلق میں ذکر کردی گئی۱۳؎ |
۱؎ لوگ جانتے تھے کہ حضور کو جناب عائشہ صدیقہ سے بہت محبت ہے ان کے ذریعہ سے جو تحفہ ہمارا حضور تک پہنچے گا وہ حضور کی بارگاہ میں زیادہ قبول ہوگا۔اب بھی مسلمانوں کو چاہیے کہ جو ایصال ثواب حضور کی بارگاہ میں حاضر کریں حضرت عائشہ صدیقہ کا واسطہ ضرور اختیار کریں ان کا نام ضرور لیا کریں۔
۲؎ یعنی حضور انور کی بیویاں اس وقت نو تھیں مگر ان کی دو جماعتیں بنی ہوئیں تھیں ایک جماعت میں چار دوسری میں پانچ کیونکہ ہر بی بی اپنی متفق الخیال بی بی سے وابستہ تھیں۔
۳؎ جناب عائشہ صدیقہ کے حالات ہم بیان کرچکے ہیں۔بی بی حفصہ جناب عمر فاروق کی دختر ہیں،آپ کی والدہ زینب بنت مظعون ہیں،پہلے جیش ابن وفافہ کے نکاح میں تھیں وہ غزوہ بدر کے بعد وفات پاگئے، ۳ھ میں حضور انور کے نکاح میں آئیں،آپ کی وفات شعبان ۴۵ھ پینتالیس میں ہوئی،ساٹھ سال عمر پائی،بعض روایات میں ہے کہ حضور انور نے ایک طلاق آپ کو دے دی تھی پھر رجوع فرمالیا۔(مرقات)
۴؎ آپ صفیہ بنت حیی ابن اخطب ہیں،آپ حضرت ہارون علیہ السلام کی اولاد سے ہیں،پہلے کنانہ ابن ابی الحقیق کے نکاح میں تھیں وہ محرم ۷ھ میں غزوہ خیبر میں مارا گیا آپ قید ہوکر مسلمانوں کے قبضہ میں آئیں پہلے دحیہ کلبی کے حصہ میں آئیں،پھر حضور انور نے انہیں قبول فرمایا، ۵۰ھ پچاس میں آپ کی وفات ہوئی،بقیع میں دفن ہوئیں۔(مرقات)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع