30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۲؎ عائش ترخیم ہے عائشہ کی،نہایت محبت و پیار میں یہ فرمایا گیا۔اس حدیث کی بناء پر بعض حضرات کہتے ہیں کہ حضرت خدیجہ جناب عائشہ صدیقہ سے افضل ہیں کہ جناب عائشہ کو تو جبریل امین نے سلام کیا اور جناب خدیجہ کو حضرت جبریل نے رب تعالٰی کا سلام پہنچایا۔(مرقات،لمعات)
۳؎ یعنی حضور صلی اللہ علیہ و سلم حضرت جبریل علیہ السلام کو دیکھتے تھے اور باوجودیکہ حضرت جبریل میرے گھر میں بلکہ میرے بستر میں میرے پاس ہی حضور انور کی خدمت میں آتے تھے مگر میں انہیں نہ دیکھتی تھی،نور کو دیکھنے کے لیے نور کی آنکھیں چاہئیں۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جب کوئی کسی کا سلام پہنچائے تو اگرچہ یہ کہنا افضل ہے کہ علیك و علیہ السلام مگر یہ کہنا بھی درست ہے و علیہ السلام۔
|
6188 -[5] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: "أُريتُكِ فِي الْمَنَامِ ثَلَاثَ لَيَالٍ يَجِيءُ بِكِ الْمَلَكُ فِي سَرَقَةٍ مِنْ حَرِيرٍ فَقَالَ لِي: هَذِهِ امْرَأَتُكَ فَكَشَفْتُ عَنْ وَجْهِكِ الثَّوْبَ فَإِذَا أَنْتِ هِيَ. فَقُلْتُ: إِنْ يَكُنْ هَذَا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ يُمْضِهِ ". |
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ تم مجھے تین رات خواب میں دکھائی گئیں تھیں تمہیں فرشتہ ریشمی ٹکڑے میں لاتا تھا مجھ سے کہتا تھا کہ یہ تمہاری بیوی ہیں ۱؎ میں نے تمہارے رخ سے کپڑا ہٹایا تو تم تھیں،میں نے کہا کہ اگر یہ اللہ کی طرف سے ہے تو اسے جاری(پورا)فرمادے گا۲؎ (مسلم، بخاری) |
۱؎ کبھی تو خواب میں حضور پر جناب عائشہ صدیقہ ریشمی ٹکڑے میں پیش کی جاتی تھیں،کبھی جبریل کی ہتھیلی پر آپ کی صورت نقش کی جاتی تھی ان دونوں واقعوں کا ذکر احادیث میں ہے یعنی حضرت عائشہ صدیقہ رب تعالٰی کی طرف سے آپ کی زوجیت کے لیے منتخب ہیں یہ آپ کے لیے رب تعالٰی کا تحفہ ہیں سمجھ لو کہ رب کا تحفہ کس شان کا ہوگا رضی اللہ عنہا۔
۲؎ خیال رہے کہ یہاں ان ایک شک کے لیے نہیں جیسے بادشاہ کہے کہ اگر میں بادشاہ ہوں تو تجھ کو یہ انعام دوں گا،چونکہ یہ خواب رب تعالٰی کی طرف سے ہے لہذا ہو کے رہے گی۔خیال رہے کہ نبی کی خواب وحی ہوتی ہے خواہ ظہور نبوت کے بعد ہو یا پہلے،دیکھوحضرت یوسف علیہ السلام کی سجدہ والی خواب آپ کی نبوت سے پہلے تھی مگر وحی منامی تھی۔خیال رہے کہ حضور انور نے جناب عائشہ صدیقہ سے دسویں سال نبوت نکاح کیا،ماہ شوال میں ہجرت سے دو سال پہلے ۲ھ ہجری میں رخصت ہوئی، قریبًا نو سال حضور کے نکاح میں رہیں،اٹھارہ سال کی عمر شریف تھی کہ حضور کا وصال ہوگیا، ۵۷ھ ہجری میں مدینہ منورہ میں وفات ہوئی،دسویں رمضان منگل کی شب وفات ہوئی،بقیع شریف میں دفن ہوئیں،حضرت ابوہریرہ نے آپ پر نماز پڑھائی،اس وقت مروان مدینہ کا حاکم تھا امیرمعاویہ کا دور سلطنت تھا،رات میں دفن ہوئیں۔(مرقات)
|
6189 -[6] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْهَا قَالَتْ: إِنَّ النَّاسَ كَانُوا يَتَحَرَّوْنَ بِهَدَايَاهُمْ يَوْمَ عَائِشَةَ يَبْتَغُونَ بِذَلِكَ مَرْضَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَقَالَتْ: إِنَّ نِسَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُنَّ حِزْبَيْنِ: فَحِزْبٌ فِيهِ عَائِشَةُ وَحَفْصَةُ وَصَفِيَّةُ وَسَوْدَةُ وَالْحِزْبُ الْآخَرُ أُمُّ سَلَمَةَ وَسَائِرُ نِسَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَلَّمَ حِزْبُ أُمِّ سَلَمَةَ فَقُلْنَ لَهَا: كَلِّمِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَلِّمُ النَّاسَ فَيَقُولُ:مَنْ أَرَادَ أَنْ يُهْدِيَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلْيُهْدِهِ إِلَيْهِ حَيْثُ كَانَ. فَكَلَّمَتْهُ فَقَالَ لَهَا: «لَا تُؤْذِينِي فِي عَائِشَةَ فَإِنَّ الْوَحْيَ لَمْ يَأْتِنِي وَأَنَا فِي ثَوْبِ امْرَأَةٍ إِلَّا عَائِشَةَ». قَالَتْ: أَتُوب إِلَى الله من ذَاك يَا رَسُولَ اللَّهِ ثُمَّ إِنَّهُنَّ دَعَوْنَ فَاطِمَةَ فَأَرْسَلْنَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَلَّمَتْهُ فَقَالَ:«يَا بُنَيَّةُ أَلَا تُحِبِّينَ مَا أُحِبُّ؟» قَالَتْ: بَلَى.قَالَ:«فَأَحِبِّي هَذِهِ».وَذَكَرَ حَدِيثُ أَنَسٍ«فَضْلَ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ» فِي بَابِ «بَدْءِ الْخَلْقِ»بِرِوَايَةِ أبي مُوسَى |
روایت ہے انہیں سے فرماتی ہیں کہ لوگ اپنے تحفوں ہدیوں کے لیے جناب عائشہ کا دن تلاش کرتے تھے اس سے وہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی مرضی چاہتے تھے ۱؎ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی بیویاں دو گروہ تھیں۲؎ ایک گروہ وہ جس میں جناب عائشہ اور حفصہ۳؎ اور صفیہ۴؎ اور سودہ تھیں ۵؎ اور دوسری جماعت میں ام سلمہ۶؎ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی باقی بیویاں۷؎ تو ام سلمہ کے گروہ نے گفتگو کی ان سے کہا کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے کلام کرو کہ آپ لوگوں سے فرمادیں کہ جو بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی بارگاہ میں ہدیہ بھیجنا چاہے تو آپ کو ہدیہ بھیج دیا کرے حضور جہاں بھی ہوں۸؎ چنانچہ ام سلمہ نے حضور سے عرض کیا حضور نے ان سے فرمایا کہ مجھے عائشہ کے بارے میں تکلیف نہ دو کیونکہ سواء عائشہ کے کوئی بیوی نہیں جن کے بستر میں ہوں اور وحی آئے۹؎ ام سلمہ نے کہا یارسول اللہ میں آپ کی ایذا رسانی سے اللہ کی بارگاہ میں توبہ کرتی ہوں۱۰؎ پھر تمام بیویوں نے جناب فاطمہ کو بلایا انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں بھیجا ۱۱؎ انہوں نے حضور سے عرض کیا تو فرمایا اے بچی جس سے میں محبت کرتا ہوں تم ان سے محبت نہیں کرتیں بولیں ہاں فرمایا تو ان سے محبت کرو۱۲؎ (مسلم،بخاری)اور حضرت انس کی حدیث کہ عائشہ کی بزرگی ساری عورتوں پر الخ باب بدء الخلق میں ذکر کردی گئی۱۳؎ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع