30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۲؎ یعنی جناب خدیجہ میرے نکاح میں آنے بلکہ میرے ہوش سنبھالنے سے پہلے ہی وفات پاچکی تھیں۔خیال رہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت خدیجۃ الکبریٰ کی موجودگی میں کسی بی بی سے نکاح نہیں کیا سارے نکاح ان کی وفات کے بعد کیے،حضور کی ساری اولاد بی بی خدیجہ سے ہے سواء جناب ابراہیم کے حضرت عائشہ صدیقہ حضور انور کو کنواری ملیں اور جناب خدیجۃ کو حضور انور کنوارے ملے آپ مسلمانوں کی پہلی ماں ہیں۔شعر
سیما پہلی ماں کہف امن و امان حق گزار رفاقت پہ لاکھوں سلام
۲؎ یعنی اکثر حضور انور حضرت خدیجہ کی طرف سے بکری ذبح فرماتے انہیں ثواب پہنچانے کے لیے اس کا گوشت ان کی سہیلیوں میں تقسیم فرماتے۔اس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ میت کی طرف سے قربانی کرنا جائز ہے۔ دوسرے یہ کہ میت کو صدقہ و خیرات کا ثواب بخشنا سنت ہے۔تیسرے یہ کہ میت کے نام کا کھانا اس کے پیاروں دوستوں کو دینا بہتر ہے،اس سے میت کو دہری خوشی ہوتی ہے ایک ثواب پہنچنے کی دوسرے اس کے دوستوں پیاروں کی امداد ہونے کی۔بعض لوگ گیارہویں کا کھانا سیدوں کو،مزارات کے چڑھاوے وہاں کے مجاوروں کو دیتے ہیں ان کی اصل یہ حدیث ہے کہ مجاورین اور اولاد میت کو پیارے ہوتے ہیں۔چوتھے یہ کہ میت کو دنیا کے حالات کی خبر رہتی ہے تب ہی تو وہ اپنے پیاروں پر صدقہ کرنے سے خوش ہوتی ہے۔
۴؎ یعنی جب میں حضور انور کی زبان پاک سے ان کی بہت تعریف سنتی تو جوش غیرت میں عرض کرتی کہ یارسول اللہ حضور تو ان کی ایسی تعریفیں کرتے ہیں کہ گویا ان کے سوا کوئی بیوی آپ کو ملی ہی نہیں یا ان کے سواء دنیا میں کوئی بی بی ہے ہی نہیں۔
۵؎ یہاں کانت و کانت میں جناب خدیجہ کے بہت سے صفات کی طرف اشارہ ہے یعنی وہ بہت روزہ دار،تہجد گزار،میری بڑی خدمت گزار،میری تنہائی کی مونس،میری غمگسار،غار حراء کے چلّے میں میری مددگار تھیں اور میری ساری اولاد انہیں سے ہے،وہ جناب فاطمہ زہرہ کی ماں ہیں قیامت تک کے سیدوں کی نانی رضی اللہ عنہا۔خیال رہے کہ ام المؤمنین خدیجہ بنت خویلد ابن اسد قرشیہ ہیں،پہلے ابن ہالہ ابن زرارہ کے نکاح میں تھیں،پھر عتیق ابن عابد کے نکاح میں رہیں،پھر چالیس سال کی عمر شریف میں حضور کے نکاح میں آئیں،ہجرت سے تین سال پہلے مکہ معظمہ میں وفات پائی،۶۵ پینسٹھ سال عمر شریف پائی،حضور کے ساتھ پچیس سال رہیں۔(اکمال،مرقات)
|
6187 -[4] (مُتَّفق عَلَيْهِ) وَعَن أبي سَلمَة أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:«يَا عَائِشُ هَذَا جِبْرِيلُ يُقْرِئُكِ السَّلَامَ». قَالَتْ:وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ. قَالَتْ: وَهُوَ يَرَى مَا لَا أَرَى |
روایت حضرت ابوسلمہ سے کہ ۱؎ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اے عائشہ یہ حضرت جبریل ہیں تم کو سلام کہتے ہیں۲؎ انہوں نے جواب دیا کہ ان پر سلام اور اللہ کی رحمت اور بولیں حضور وہ دیکھتے تھے جو میں نہ دیکھتی تھی۳؎ (مسلم،بخاری) |
۱؎ ابو سلمہ دو ہیں: ایک تو جناب ام سلمہ کے پہلے خاوند وہ صحابی ہیں،دوسرے ابو سلمہ ابن عبدالرحمن ابن عوف یہ تابعی ہیں یہ ہی یہاں مراد ہیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع