30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ ھا کا مرجع دنیا ہے یعنی ایک وقت میں جناب مریم جہان کی ساری عورتوں سے افضل تھیں۔
۲؎ یعنی اب تاقیامت جناب خدیجہ جہان کی عورتوں سے افضل ہیں۔اس میں اختلاف ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ جناب خدیجہ سے افضل ہیں یا برعکس،نیز یہ کہ حضرت فاطمہ افضل ہیں یا بی بی خدیجہ۔
۳؎ اس صورت میں بجائے ھا کے ھما ہوگا یا ضمیر واحد تغلیبًا ارشاد ہوئی۔
|
6185 -[2] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: أَتَى جِبْرِيلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «يَا رسولَ اللَّهِ هَذِهِ خَدِيجَةُ قَدْ أَتَتْ مَعَهَا إِنَاءٌ فِيهِ إِدام وَطَعَام فَإِذَا أَتَتْكَ فَاقْرَأْ عَلَيْهَا السَّلَامَ مِنْ رَبِّهَا وَمِنِّي وَبَشِّرْهَا بِبَيْتٍ فِي الْجَنَّةِ مِنْ قَصَبٍ لَا صَخَبَ فِيهِ وَلَا نَصَبَ» . |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ جبریل نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم یہ خدیجہ آرہی ہیں ان کے ساتھ برتن ہے جس میں سالن اور کھانا ہے ۱؎ تو جب وہ آپ کے پاس آئیں تو انہیں ان کے رب کا سلام اور میرا سلام فرمائیں اور انہیں جنت کے اس گھر کی بشارت دے دیں جو ایک موتی کا ہے نہ اس میں شور ہے نہ کوئی تکلیف۲؎ (مسلم، بخاری) |
۱؎ یہ واقعہ حضور انور کے غارِ حرا میں تشریف فرما ہونے کا ہے ایک بار حضرت خدیجہ حضور کے لیے کھانا لے کر وہاں حاضر ہوئیں تب حضرت جبریل نے یہ خبر دی۔(مرقات)ہوسکتا ہے کہ ظہور نبوت کے بعد حضور انور نے غارِ حرا میں قیام فرمایا ہو تب یہ واقعہ ہوا پہلی بار میں تو صرف اقرأ وہاں نازل ہوئی۔
۲؎ یعنی خدیجہ کے لیے جنت میں خاص مکان تیار کیا گیا ہے۔
|
6186 -[3] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: مَا غِرْتُ عَلَى أَحَدٍ مِنْ نِسَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا غِرْتُ عَلَى خَدِيجَةَ وَمَا رَأَيْتُهَا وَلَكِنْ كَانَ يُكْثِرُ ذِكْرَهَا وَرُبَّمَا ذَبَحَ الشَّاةَ ثُمَّ يُقَطِّعُهَا أَعْضَاءً ثُمَّ يَبْعَثُهَا فِي صدائق خَدِيجَة فَيَقُول: «إِنَّهَا كَانَت وَكَانَت وَكَانَتْ وَكَانَ لِي مِنْهَا وُلْدٌ» . |
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی ازواج پاک میں سے کسی پر اتنی غیرت نہ کی جتنی جناب خدیجہ پر غیرت کی ۱؎ حالانکہ میں نے انہیں دیکھا نہ تھا ۲؎ لیکن حضور ان کا بہت ذکر کرتے تھے بہت دفعہ بکری ذبح کرتے پھر اس کے اعضاء کاٹتے پھر وہ جناب خدیجہ کی سہیلیوں میں بھیج دیتے تھے۳؎ تو میں کبھی حضور سے کہہ دیتی کہ گویا خدیجہ کے سوا دنیا میں کوئی عورت ہی نہ تھی۴؎ تو آپ فرماتے وہ ایسی تھیں وہ ایسی تھیں اور ان سے میری اولاد ہوئی۵؎ (مسلم،بخاری) |
۱؎ غرت بنا ہے غیرت سے یہاں غیرت بمعنی شرم و حیا بمعنی حسد نہیں بلکہ بمعنی رشک یا غبطہ ہے،دینی امور میں رشک جائز ہے۔جناب عائشہ صدیقہ نے حضرت خدیجہ کی محبوبیت دیکھ کر رشک فرمایا کہ میں بھی ان کی طرح حضور انور کی محبوبہ ہوتی کہ مجھے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم میری وفات کے بعد اسی طرح تعریفیں فرماتے جیسی ان کی فرماتے ہیں۔خیال رہے کہ جناب عائشہ صدیقہ حضور کی بڑی ہی محبوبہ زوجہ ہیں،آپ کی محبوبیت بی بی خدیجہ کی محبوبیت سے کسی طرح کم نہیں،رشک اس بات میں ہے جو ہم نے عرض کی بعد وفات محبت مصطفی کا جوش۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع