30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
باب مناقب ازواج النّبی صلی اللہ علیہ و سلم
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل ۱؎
۱؎ اللہ تعالٰی کی تعریف کو حمد کہتے ہیں،حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی تعریف کو نعت کہتے ہیں،بزرگانِ دین کی تعریف کو منقبت کہا جاتا ہے خواہ نثر میں ہو یا نظم میں۔ازواج جمع ہے زوج کی یہ خاوند اور بیوی دونوں پر بولا جاتا ہے یہاں مراد بیویاں ہیں۔حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کی بیویاں بعض وہ ہیں جو نکاح میں بھی آئیں اور قرب سے بھی مشرف ہوئیں،بعض وہ ہیں جو نکاح میں آئیں مگر قربت سے پہلے انہیں طلاق ہوگئی،بعض کو حضور نے صرف پیغام دیا مگر ان سے نکاح نہ ہوا، بعض حضور کے زمانہ میں وفات پا گئیں،بعض حضور کی بعد فوت ہوئیں۔جو نکاح اور مقاربت دونوں سے مشرف ہوئیں ان کی تعداد بارہ یا چودہ ہے اور ترتیب یہ ہے: (۱)خدیجہ بنت خویلد(۲)سودہ بنت زمعہ(۳)عائشہ صدیقہ(۴)حفصہ بنت عمر (۵)زینب بنت خزیمہ(۶)ام سلمہ بنت امیہ(۷)زینب بنت جحش(۸)ام حبیبہ بنت ابو سفیان(۹)جویریہ بنت حارث(۱۰)میمونہ بنت حارث(۱۱)صفیہ بنت حیی(۱۲)ریحانہ بنت زید۔اور بیس بیویاں وہ ہیں جن سے نکاح ہوا مگر مقاربت سے پہلے طلاق ہوگئی دیکھو اشعۃ اللمعات میں یہ ہی مقام۔ان نکاحوں کی ترتیب یہ ہے کہ حضور نے پہلا نکاح بی بی خدیجہ سے کیا پچیس سال کی عمر شریف میں،بی بی خدیجہ کی عمر شریف چالیس تھی اور ہجرت سے تین سال پہلے جناب خدیجہ کی وفات ہوئی،پھر سودہ بنت زمعہ سے نکاح کیا،اس کے بعد جناب عائشہ صدیقہ سے ہجرت سے پہلے نکاح کیا چھ سال کی عمر میں نو سال کی عمر میں رخصت ہوئی،آپ کی وفات ۵۴ ہجری میں ہوئی پھر ۲ھ یا ۳ھ میں بی بی حفصہ سے نکاح کیا،ان کی وفات ۴۵ھ میں ہوئی، ۳ھ میں زینب بنت خزیمہ سے نکاح کیا اور ۴ھ میں ان کی وفات ہوئی، ۴ھ میں ام سلمہ بنت امیہ مخزومیہ سے نکاح کیا، ۵۹ میں آپ کی وفات ہوئی، ۵ھ میں زینب بنت جحش سے نکاح کیا، ۲۱ھ میں وفات ہوئی،پھر ۶ھ میں ام حبیبہ بنت ابوسفیان سے نکاح ہوا،نجاشی شاہِ حبشہ نے آپ کا نکاح کیا یہ پہلے عبداللہ ابن جحش کے نکاح میں تھیں جو حبشہ پہنچ کر وفات پاگئے،اسی ۶ھ میں حضرت جویریہ سے نکاح کیا ۵۹ھ میں وفات ہوئی، ۷ھ میں میمونہ بنت حارث سے نکاح کیا،اسی ۷ھ میں صفیہ بنت حیی سے نکاح کیا،آپ اس وقت سترہ سالہ تھیں، ۵۲ھ میں وفات پائی۔خیال رہے کہ حضورصلی اللہ علیہ و سلم کی ساری اولاد بی بی خدیجہ سے ہیں سواء ابراہیم کے وہ جناب ماریہ قبطیہ کے شکم سے ہیں۔حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی چار صاحبزادیاں حقیقی ہیں: زینب،کلثوم،رقیہ،فاطمہ رضی اللہ عنہم اور چار صاحبزادیاں سوتیلی ہیں جناب ام سلمہ کی بیٹیاں۔
|
6184 -[1] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «خَيْرُ نِسَائِهَا مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ وَخَيْرُ نِسَائِهَا خَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ» وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ أَبُو كُرَيْبٍ: وَأَشَارَ وَكِيعٌ إِلَى السَّمَاء وَالْأَرْض |
روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا اور اس کی بہترین بی بی مریم بنت عمران ہیں ۱؎ اور اس کی بہترین بی بی خدیجہ بنت خویلد ہیں۲؎ (مسلم،بخاری)اور ایک روایت میں ہے کہ ابو کریب نے فرمایا کہ وکیع نے اس آسمان وزمین کی طرف اشارہ کیا۳؎ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع