30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
6181 -[47] وَعَن ابْن عَبَّاس قَالَ: رَأَيْت النَّبِي صلى الله عَلَيْهِ وسل فِيمَا يَرَى النَّائِمُ ذَاتَ يَوْمٍ بِنِصْفِ النَّهَارِ أَشْعَثَ أَغْبَرَ بِيَدِهِ قَارُورَةٌ فِيهَا دَمٌ فَقُلْتُ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي مَا هَذَا؟ قَالَ: «هَذَا دَمُ الْحُسَيْنِ وَأَصْحَابِهِ وَلَمْ أَزَلْ أَلْتَقِطُهُ مُنْذُ الْيَوْم» فأحصي ذَلِك الْوَقْت فأجد قبل ذَلِكَ الْوَقْتِ. رَوَاهُمَا الْبَيْهَقِيُّ فِي «دَلَائِلِ النُّبُوَّةِ» وَأحمد الْأَخير |
روایت ہے حضرت ابن عباس سے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ و سلم کو ایک دن دوپہری میں خواب میں دیکھا پرا گنداہ بال گردا گرد آپ کے ہاتھ میں ایک شیشی تھی جس میں خون تھا ۱؎ میں نے کہا کہ میرے ماں باپ فدا ہوں یہ کیا ہے فرمایا یہ حسین اور ان کے ساتھیوں کا خون ہے آج میں اس خون کو اٹھاتا رہا ۲؎ میں وہ وقت خیال میں رکھنے لگا میں نے یہ وقت قتل کا پایا۳؎ یہ دونوں حدیثیں بیہقی نے دلائل النبوۃ میں روایت کیں اور احمد نے آخری حدیث روایت کی۔ |
۱؎ غالبًا یہ خواب دسویں محرم الحرام ۶۱ھ کو دیکھا ہوگا جیساکہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔
۲؎ اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ بعد وفات بھی حضور صلی الله علیہ و سلم کو دین اور دنیا کے واقعات کی خبر ہے کہ کہاں کیا ہو رہا ہے۔دوسرے یہ کہ حضور صلی الله علیہ و سلم جہاں بھر کی سیر فرماسکتے ہیں کربلا عراق میں ہے، مدینہ منورہ حجاز میں مگر مدینہ والے محبوب اس موقعہ پر وہاں تشریف لے گئے۔تیسرے یہ کہ حضور انور صلی الله علیہ و سلم کو کسی جگہ جانے آنے میں قطعًا دیر نہیں لگتی،دیکھو وہاں حضرت امام حسین شہید ہورہے ہیں یہاں سے حضور آن کی آن میں تشریف لے بھی گئے آبھی گئے حضرت ابن عباس کو خبربھی دے دی۔چوتھے یہ کہ حضور صلی الله علیہ و سلم اپنی امت کے اعمال ان کے تحفے ہدیئے ہاتھ شریف میں لے سکتے ہیں انہیں قبول کراسکتے ہیں،خون امام حسین علیہ السلام جو اعلٰی درجہ کی عبادت رب کی بارگاہ میں تحفہ تھا دیکھو حضور انور صلی الله علیہ و سلم کے دستِ اقدس میں ہے۔ پانچویں یہ کہ حضور صلی الله علیہ و سلم جہاں بھی تشریف لے جائیں مدینہ منورہ آپ سے خالی نہیں ہوتا اس لیے ہر وقت آپ پر سلام زائرین عرض کرتے رہتے ہیں جیسے ہمارا نور نظر جب آسمان کی سیرکر رہا ہوتا ہے تب آنکھ اس سے خالی نہیں ہوجاتی ورنہ اندھی ہو جاتی۔
۳؎ یعنی میری اس خواب اور قتل امام حسین کا وقت بالکل ایک تھا پل بھر کا فرق نہ تھا،رفتار نبی کا یہ عالم ہے معراج کی رات نبیوں نے حضور کے پیچھے نماز بیت المقدس میں پڑھی،حضور برق رفتار براق پر آسمانوں پر تشریف لے گئے تو انبیاءکرام کو وہاں موجود پایا یہاں سے نبیوں نے حضور کو وداع کیا آسمانوں پر استقبال کیا۔
|
6182 -[48] وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَحِبُّوا اللَّهَ لِمَا يَغْذُوكُمْ مِنْ نِعَمِهِ فَأَحِبُّونِي لِحُبِّ اللَّهِ وَأَحِبُّوا أَهْلَ بَيْتِي لحبِّي» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ |
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ الله سے محبت کرو کیونکہ وہ تمہیں اپنی نعمت سے روزی دیتا ہے ۱؎ اور الله کی محبت کے لیے مجھ سے محبت کرو۲؎ اور میری محبت کے لیے میرے اہل بیت سے محبت کرو۳؎(ترمذی) |
۱؎ یہاں انسان کی ابتدائی منزل کا ذکر ہے۔رب کی نعمتوں کی وجہ سے اس سے محبت کرنا ابتداء ہے اور بذات خود اس سے محبت کرنا وہ نعمت دے یا نہ دے یہ ہے انسان کی انتہاء،ابتداء محبت کی طرف اس آیت میں اشارہ ہے"فَلْیَعْبُدُوۡا رَبَّ ہٰذَا الْبَیۡتِ الَّذِیۡۤ اَطْعَمَہُمۡ مِّنۡ جُوۡعٍ"رب تعالٰی اپنی ذات و صفات سے محبوب ہے کرم نوازیاں تو بعد کی چیزیں ہیں۔
۲؎ یعنی الله کی محبت حاصل کرنے کے لیے مجھ سے محبت کرو کیونکہ میں الله تعالٰی کا محبوب ہوں،محبوب کا محبوب خود اپنا محبوب ہوتا ہے،رب فرماتاہے:"فَاتَّبِعُوۡنِیۡ یُحْبِبْکُمُ اللہُ"۔
۳؎ یعنی میری محبت حاصل کرنے کے لیے میرے گھر والوں اولاد پاک ازواج مطہرات سے محبت کرو کیونکہ وہ میرے محبوب ہیں۔خلاصہ یہ ہے کہ ان محبتوں میں ترتیب یہ ہے کہ اہلِ بیت کی محبت زینہ ہے حضور کی محبت کا اور حضور کی محبت ذریعہ ہے رب تعالٰی کی محبت کا۔(ازمرقات)مطلب یہ ہے کہ محبت اہلِ بیت اس لیے چاہیے کہ وہ محبت رسول کا ذریعہ ہے اس لیے نہیں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع