30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
5774 -[36] وَعَن أبي ذرّ الْغِفَارِيّ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ عَلِمْتَ أَنَّكَ نَبِيٌّ حَتَّى اسْتَيْقَنْتَ؟ فَقَالَ: " يَا أَبَا ذَر أَتَانِي ملكان وَأَنا ب بعض بطحاء مَكَّة فَوَقع أَحدهمَا على الْأَرْضِ وَكَانَ الْآخَرُ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: أَهْوَ هُوَ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: فَزِنْهُ بِرَجُلٍ فَوُزِنْتُ بِهِ فَوَزَنْتُهُ ثُمَّ قَالَ: زِنْهُ بِعَشَرَةٍ فَوُزِنْتُ بِهِمْ فَرَجَحْتُهُمْ ثُمَّ قَالَ: زنه بِمِائَة فَوُزِنْتُ بِهِمْ فَرَجَحْتُهُمْ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِمْ يَنْتَثِرُونَ عَلَيَّ مِنْ خِفَّةِ الْمِيزَانِ. قَالَ: فَقَالَ أَحَدُهُمَا لصَاحبه: لَو وزنته بأمته لرجحها ". رَوَاهُمَا الدَّارمِيّ |
روایت ہے حضرت ابو ذر غفاری سے فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یارسول الله صلی الله علیہ وسلم آپ نے کیسے جانا کہ آپ الله کے نبی ہیں حتی کہ آپ نے یقین کرلیا ۱؎ تو فرمایا اے ابو ذر میرے پاس دو فرشتے آئے جب کہ میں مکہ کے بعض پتھریلے علاقہ میں تھا۲؎ تو ان میں سے ایک تو زمین کی طرف آگیا اور دوسرا آسمان و زمین کے درمیان رہا۳؎ تو ان میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا کیا یہ وہ ہی ہیں۴؎ اس نے کہا ہاں اس نے کہا کہ انہیں ایک شخص سے تولو ۵؎ میں اس سے تولا گیا تو میں وزنی ہوا ۶؎ پھر اس نے کہا کہ انہیں دس سے تولو تو میں ان سے تولا گیا میں ان پر وزنی ہوا،پھر اس نے کہا کہ انہیں سو سے تولو میں ان سے تولا گیا میں ان پر بھاری ہوا۷؎ وہ بولا انہیں ہزار سے تولو میں ان سے تولا گیا تو میں ان پر بھاری ہوگیا گویا میں انہیں دیکھ رہا ہوں کہ وہ پلہ ہلکا ہونے کی وجہ سے مجھ پرگرے پڑتے ہیں ۸؎ تو ان میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا کہ اگر تم انہیں ان کی پوری امت سے تولو تو بھی یہ سب پر بھاری ہوں گے ۹؎ (دارمی) |
۱؎ یعنی حضور آپ نے دنیا میں آکر اپنی نبوت یہاں کے کس سبب سے جانی پہچانی لہذا یہ سوال ان احادیث کے خلاف نہیں جن میں ہے کہ ہم اس وقت نبی تھے جب آدم علیہ السلام آب و گل میں تھے یا بچپن شریف میں ہم کو شجر و حجر سلام کرتے تھے آپ کی،نبوت کا اعلان آپ کی ولادت پاک سے پہلے ہوچکا تھا،دنیا بھر نے آپ کو نبی جان لیا تھا۔ پڑھو وہ معجزات جو حمل شریف اور ولادت پاک کے وقت تمام دنیا میں ظاہر ہوئے،رب فرماتاہے:"یَعْرِفُوۡنَہٗ کَمَا یَعْرِفُوۡنَ اَبْنَآءَہُمۡ"انسان اپنے بیٹے کو اس کی ولادت سے پہلے ہی جانتا ہے۔
۲؎ غالبًا یہ واقعہ بہت ہی بچپن شریف کا ہے۔جب حضور حلیمہ دائی کے یہاں تھے یا اس کے کچھ بعد جب بکریاں چراتے تھے۔بطحاء کہتے ہیں پتھریلے علاقہ کو مکہ معظمہ کے آس پاس تمام علاقہ پتھریلا ہے۔
۳؎ یعنی ہوا میں یا فضا میں معلق رہا میں نے اسے اسی طرح دیکھا مگر حضور یہ عجیب نظارہ دیکھ کر دوڑے نہیں۔معلوم ہوا کہ حضور صلی الله علیہ وسلم نے انہیں پہچان لیا کہ یہ فرشتے ہیں اس لیے فرمایا اتانی ملکان۔
۴؎ یعنی کیا یہ وہ ہی نبی ہیں جن کا اعلان فرشتوں میں کیا جاچکا ہے،جن پر ایمان لانے کا عہد وپیمان نبیوں سے ہمارے سامنے لیا جاچکا ہے، جن کی دعائیں جناب خلیل نےمانگی ہیں،جن کی بشارتیں جناب مسیح نے دی ہیں،جن کے مدرسہ فیض میں سارے نبی تعلیم پاکر دنیا میں آتے رہے جو آگے چل کے سارے جہان کا سہارا،مؤمنوں کی آنکھوں کا تارا ہوں گے وغیرہ وغیرہ۔
۵؎ اگر امت سے مراد امت مرحومہ ہے تو شاید حضور انور کو جناب صدیق و فاروق کے ساتھ تولا گیا ہوگا اور اگر مطلقًا امت ہے تو حضور کو جناب خلیل و کلیم کے ساتھ تولا گیا ہوگا،یہ ترازو بھی کوئی اور ہی تھا اور تولنے والے ہاتھ بھی دست قدرت ہی ہوں گے۔
۶؎ یہ وزنی ہونا نبوت کے وزن سے ہوا نبوت بڑی وزنی نعمت ہے۔
۷؎ حضور صلی الله علیہ وسلم کو ترتیب وار تولنا کہ پہلے ایک شخص سے پھر دس سے پھر سو سے یہ بھی حضور صلی الله علیہ وسلم کی شان دکھانے کے لیے ہے ورنہ اگر پہلے ہی ہزار سے تول دیا جاتا تو یہ بات ظاہر نہ ہوتی۔
۸؎ یعنی جب ترازو کے ایک پلہ میں دو ہزار رکھے گئے اور دوسرے پلہ میں ہم تشریف فرما ہوئے تو ان سب کا پلہ ہلکا ہونے کی وجہ سے اتنا اونچا ہوگیا کہ وہ آسمان سے باتیں کرنے لگا۔خیال رہے کہ یہاں جسمانیت کا وزن تھا جس میں ہلکا اونچا ہوتا ہے بھاری نیچا،روحانیت کے وزن میں ہلکا نیچا ہوتا ہے بھاری اونچا کہ جسم کا رجحان نیچے کی طرف ہے کہ وہ مادی چیز ہے اور نورانیت
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع