30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱۰؎ کیونکہ اے عباس تم نے مکہ معظمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فتح مکہ کے دن کی جب کہ ہم تم کو راہ میں مل گئے تمہاری ہجرت قبول ہوگئی مگر جناب علی تو ہماری ہجرت کی بعد ہی ہجرت کرکے مدینہ منورہ پہنچ چکے تھے۔خیال رہے کہ حضرت عباس کے ایمان کے متعلق اختلاف ہے کہ ایمان کب لائے،بعض نے فرمایا کہ فتح مکہ کے دن ایمان لائے اور ایمان لاتے ہی ہجرت کے لیے نکلے،بعض نے فرمایا کہ آپ بدر کے دن ایمان لائے جبکہ حضور نے خبر دی کہ عباس آپ میری چچی صاحبہ کو چار سو درہم دے کر جنگ بدر میں شرکت کے لیے نکلے تھے حضور کا یہ علم دیکھ کر ایمان لائے،بعض کے نزدیک حضور کی ہجرت سے پہلے ایمان لاچکے تھے بہرحال ظہور ایمان فتح مکہ کے دن ہوا۔دیلمی نے فردوس میں نقل فرمایا کہ حضور فرماتے ہیں میرے بھائیوں میں بہتر علی ہیں،چچاؤں میں بہتر حمزہ ہیں۔بعض روایات میں ہے کہ ایک دن حضرت عباس،ابوسفیان،بلال اور سلمان فارسی حضرت عمر کے دروازے پر گئے داخلہ کی اجازت مانگی خادم نے کہا کہ پہلے بلال آئیں اس پر ابوسفیان نے جناب عباس سے کہا کہ عمر ہمارے غلاموں کو ہم پر ترجیح دیتے ہیں،حضرت عباس نے کہا کہ ہم اسلام میں بلال کے بعد آئے ہماری جزا یہی ہے۔(مرات)
|
6178 -[44] عَن عقبةَ بن الْحَارِث قَالَ: صَلَّى أَبُو بَكْرٍ الْعَصْرَ ثُمَّ خَرَجَ يَمْشِي وَمَعَهُ عَلِيٌّ فَرَأَى الْحَسَنَ يَلْعَبُ مَعَ الصِّبْيَانِ فَحَمَلَهُ عَلَى عَاتِقِهِ. وَقَالَ: بِأَبِي شَبِيهٌ بِالنَّبِيِّ لَيْسَ شَبِيهًا بِعَلِيٍّ وَعَلِيٌّ يَضْحَكُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ |
روایت ہے حضرت عقبہ ابن حارث سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر نے عصر کی نماز پڑھی پھر نکلے چل رہے تھے آپ کے ساتھ حضرت علی تھے تو حسن کو دیکھا بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے انہیں اپنے کندھے پر اٹھالیا اور فرمایا میرے باپ صدقے۲؎ تم نبی صلی الله علیہ و سلم کی ہم شکل ہو علی کے ہم شکل نہیں اور علی ہنس رہے تھے۳؎(بخاری) |
۱؎ آپ صحابی ہیں،نوفل ابن عبد مناف کی اولاد سے ہیں،فتح مکہ کے دن ایمان لائے،مکہ معظمہ میں رہے۔(مرآت )
۲؎ یعنی حضرت ابوبکر صدیق نے جناب حسن کو پیار محبت سے اپنے کندھے پر اٹھا لیا۔بابی کے معنی یہ نہیں کہ میرے باپ کی قسم کہ غیر خدا کی قسم ممنوع ہے بلکہ اس کے معنی ہیں کہ میرے باپ تم پر فدا تم پر قربان،یہ ہے جناب صدیق کی محبت اہل بیت اطہار سے۔
۲؎ یعنی اے حسن تمہاری شکل حضور انور سے ملتی جلتی ہے اپنے والد جناب علی سے نہیں ملتی جلتی۔خیال رہے کہ حضور سے بالکل مشابہت مخلوق میں کسی کو نہیں ہوسکتی الله تعالٰی نے حضور کو بے مثال بنایا ہے۔شعر
انہیں خالق نےاپنےحسن کےسانچےمیں ڈھالاہے وہ آئےاس جہاں میں سب حسینوں سےحسین ہوکر
عرب کے واسطے رحمت عجم کے واسطے رحمت وہ آئے لیکن آئے رحمۃ للعالمین ہو کر
اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کی شکل نمونہ ہے حضور کے شکل مبارک کی لہذا یہ حدیث حضرت علی کی اس روایت کے خلاف نہیں کہ حضور کا مثل نہ پہلے دیکھا گیا نہ بعد میں(مرقات)کہ وہاں پوری مثلیت مراد ہے۔روافض کا ایک فرقہ غرابیہ ہے وہ کہتا ہے کہ حضرت علی حضور سے ایسے مشابہہ تھے جیسے کوّا کوّے سے،جب پہلی وحی آئی تو حضرت علی حضور کے پاس تھے ہم شکلی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع