30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ حضور صلی الله علیہ و سلم نے اپنی وفات سے کچھ پہلے مہاجرین و انصار کا ایک لشکر روانہ فرمایا جس کے سردار حضرت اسامہ ابن زید تھے،یہ لشکر ابھی مقام جرف میں پہنچا تھا جو مدینہ منورہ سے باہر قریب ہی ہے کہ اسے پتہ لگا کہ حضور انور کو سخت بخار اور درد سر ہے،یہ سب لوگ یہ خبر وحشت اثر سن کر مدینہ منورہ واپس آگئے یہاں یہ واقعہ مذکور ہے۔ چونکہ جرف مدینہ منورہ سے ایسا اونچا ہے جیسے عرفات مکہ معظمہ سے اس لیے ھبطت فرمایا یعنی میں اترا۔(لمعات)
۲؎ حضرت اسامہ اب جو حاضر بارگاہ ہوئے تو حیات شریف کے آخری لمحات تھے زبان مبارک سے کلام فرمانا بند کردیا تھا اس لیے حضور انور نے اشارہ سے دعا فرمائی جسے حضرت اسامہ نے فراست ایمانی سے سمجھ لیا،حضرت اسامہ خوش تھے کہ انہوں نے حضور کی آخری دعائیں لے لیں۔
|
6176 -[42] وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: أَرَادَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُنَحِّي مُخَاطَ أُسَامَةَ. قَالَتْ عَائِشَةُ: دَعْنِي حَتَّى أَكُونَ أَنَا الَّذِي أَفْعَلُ.قَالَ:«يَا عَائِشَةُ أَحِبِّيهِ فَإِنِّي أُحِبُّهُ».رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ |
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ نبی صلی الله علیہ و سلم نے اسامہ کی ناک صاف کرنے کا ارادہ کیا ۱؎ تو جناب عائشہ نے عرض کیا مجھے اجازت دیجئے کہ یہ کام میں کروں فرمایا اے عائشہ ان سے محبت کرو کیونکہ میں اس سے محبت کرتا ہوں ۲؎(ترمذی) |
۱؎ حضرت اسامہ ابن زید بچے تھے حضور کی گود میں تھے کہ ناک آگئی حضور انور نے اپنے دستِ اقدس سے ناک صاف کرنا چاہی جیسے عمومًا گود کے بچوں کے لیے کیا جاتا ہے۔
۲؎ حضور کی محبت رکن ایمانی ہے اور محبت رسول الله صلی الله علیہ و سلم کی علامت یہ ہے کہ حضور کے ہر محبوب سے محبت ہو حتی کہ مدینہ منورہ کی گلی کوچوں سے دوستی کرے،گوشت سے،چھوٹے کدو سے محبت کرے۔شعر
ومن مذھبی حب الدیار لا ھلھا وللناس فیما یعشقون مذاھب
|
6177 -[43] وَعَن أُسَامَة قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا إِذْ جَاءَ عَلِيٌّ وَالْعَبَّاسُ يستأذنان فَقَالَا لِأُسَامَةَ: اسْتَأْذِنْ لَنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ الله عَلِيٌّ وَالْعَبَّاسُ يَسْتَأْذِنَانِ. فَقَالَ: «أَتَدْرِي مَا جَاءَ بهما؟» قلت: لَا.قَالَ:«لكني أَدْرِي فَأذن لَهما» فدخلا فَقَالَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ جِئْنَاكَ نَسْأَلُكَ أَيُّ أَهْلِكَ أَحَبُّ إِلَيْكَ؟ قَالَ: «فَاطِمَةُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ» فَقَالَا: مَا جِئْنَاكَ نَسْأَلُكَ عَنْ أَهْلِكَ قَالَ: " أَحَبُّ أَهْلِي إِلَيَّ مَنْ قَدْ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَأَنْعَمْتُ عَلَيْهِ: أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ " قَالَا: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: «ثُمَّ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ» فَقَالَ الْعَبَّاسُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ جَعَلْتَ عَمَّكَ آخِرَهُمْ؟ قَالَ: «إِنَّ عَلِيًّا سَبَقَكَ بِالْهِجْرَةِ». رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَذَكَرَ أَنَّ عَمَّ الرَّجُلِ صِنْوُ أَبِيهِ فِي «كتاب الزَّكَاة» |
روایت ہے حضرت اسامہ سے فرمایا کہ میں بیٹھا ہوا تھا ۱؎ کہ جناب علی و عباس آئے اجازت داخلہ چاہتے تھے انہوں نے اسامہ سے کہا کہ ہمارے واسطے رسول الله صلی الله علیہ و سلم سے اجازت لے دو ۲؎ میں نے عرض کیا یارسول الله علی اور عباس اجازت مانگ رہے ہیں فرمایا کیا تم جانتے ہو کیا مقصد انہیں یہاں لایا ہے میں نے کہا نہیں فرمایالیکن میں جانتا ہوں۳؎ انہیں اجازت دے دو وہ دونوں حاضر ہوئے عرض کیا یارسول الله صلی الله علیہ و سلم ہم یہ پوچھنے حاضر ہوئے ہیں کہ حضور کو اپنے گھروالوں میں کوئی زیادہ پیارا ہے۴؎ فرمایا فاطمہ بنت محمد،وہ بولے ہم آپ کے اہل بیت کے متعلق پوچھنے نہیں آئے ہیں۵؎ فرمایا میرے گھر والوں میں مجھے زیادہ پیارا وہ ہے جس پر الله نے بھی انعام کیا اور میں نے بھی انعام کیا ۶؎ یعنی اسامہ ابن زید۷؎ وہ بولے پھر کون فرمایا علی ابن ابی طالب۸؎ تو جناب عباس نے کہا یارسول الله صلی الله علیہ و سلم آپ نے اپنے چچا کو ان سب سے آخر کر دیا۹؎ فرمایا کہ علی تم سے ہجرت میں سبقت لے گئے ہیں۱۰؎ (ترمذی)یہ حدیث کہ عم الرجل صنو ابیہ کتاب الزکوۃ میں ذکر کردی گئی۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع